اندھی تقلید سے نکل کر :
انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عمران
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اندھی تقلید سے نکل کر ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عمران)دوسروں سے مختلف ہونا کوئی تمغہ نہیں اور نہ ہی کوئی عیب ہے، یہ صرف ایک حقیقت ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان نے ہجوم کی اندھی تقلید سے نکل کر خود کو پہچاننے کی کوشش کی ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس فرق کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، یہاں ہر وہ شخص جو عام ڈگر سے ہٹ کر سوچتا ہے اسے یا تو عجیب سمجھ لیا جاتا ہے یا پھر اسے سیدھا کرنے کی کوشش شروع ہوجاتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں وہ ہمیشہ انہی لوگوں نے پیدا کیں جو مختلف تھے، جو سوال کرتے تھے، جو رائج اصولوں کو چیلنج کرتے تھے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صرف مختلف ہونا کامیابی کی ضمانت ہے، اگر تمہاری مختلف سوچ کے پیچھے دلیل، شعور اور مقصد نہیں تو وہ محض ضد ہے، اور ضد کبھی ترقی کا راستہ نہیں بنتی، اصل بات یہ ہے کہ تم کیوں مختلف ہو، اگر تم صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے، یا خود کو خاص ثابت کرنے کے لیے دوسروں سے الگ بن رہے ہو تو یہ ایک کمزور بنیاد ہے جو زیادہ دیر نہیں چلتی، لیکن اگر تمہاری انفرادیت تمہاری سوچ، تمہارے اصول اور تمہاری محنت کا نتیجہ ہے تو پھر یہی تمہاری اصل طاقت ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ “خود ہونا” کا مطلب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہیں کسی اصول، کسی نظم یا کسی تنقید کی ضرورت نہیں، حالانکہ یہ سوچ خود فریبی ہے، اپنی اصل فطرت پر قائم رہنا اس وقت معنی رکھتا ہے جب تم خود کو بہتر بنانے کے عمل سے گزر رہے ہو، اپنی کمزوریوں کو پہچان رہے ہو اور ان پر کام کر رہے ہو، ورنہ صرف یہ کہنا کہ “میں ایسا ہی ہوں” دراصل سستی اور جمود کا بہانہ بن جاتا ہے، یاد رکھو دنیا تمہیں تمہاری نیت سے نہیں بلکہ تمہارے نتائج سے جانچے گی، اس لیے مختلف ہونے کا دعویٰ کرنے سے پہلے یہ دیکھو کہ تم کیا ویلیو پیدا کر رہے ہو، تمہاری سوچ دوسروں کے لیے کیا فائدہ رکھتی ہے، اور تم اپنی زندگی میں کیا ٹھوس تبدیلی لا رہے ہو، کیونکہ خالی دعوے اور منفرد نظر آنے کی خواہش وقتی ہوتی ہے، اصل فرق وہ ہوتا ہے جو عمل سے ثابت ہو، اس کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی سمجھ لو کہ مختلف ہونے کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے، تمہیں تنقید سہنی ہوگی، تمہیں تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا، اور کئی بار تمہیں غلط بھی سمجھا جائے گا، اگر تم یہ سب برداشت نہیں کرسکتے تو پھر تم واقعی مختلف ہونے کے لیے تیار نہیں ہو، کیونکہ یہ راستہ آسان نہیں ہے، آخر میں بات سیدھی ہے کہ مختلف ہونا نہ کوئی کمال ہے اور نہ کوئی مسئلہ، اصل چیز یہ ہے کہ تم اس فرق کو کس طرح استعمال کرتے ہو، اگر تم اسے اپنی ترقی، سیکھنے اور کچھ بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہو تو یہی تمہاری سب سے بڑی طاقت
#veer بن جاتا ہے، ورنہ یہی چیز تمہیں حقیقت سے دور لے جا سکتی ہے۔
![]()

