انسان چند توانائی کے ذرائع پر ہی کیوں منحصر ہے؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان کا کسی ایک سورس آف انرجی پر اس حد تک منحصر ہو جانا کہ یا تو اس پر چند ممالک کی اجارہ داری ہو جائے، یا وہ سورس کسی بحران کا شکار ہو جائے، ایک بڑا عالمی مسئلہ ہے۔
مثلاً اگر تیل کی بات کریں تو کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ جھگڑا چند ممالک کے درمیان ہوتا ہے لیکن اس کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر خلیج میں تناؤ بڑھ جائے یا Strait of Hormuz بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے تو تیل مہنگا پوری دنیا میں ہو جاتا ہے۔
اگر کسی وجہ سے یہ راستہ واقعی بند ہو جائے تو پوری انسانیت توانائی کے معاملے میں ایک شدید جھٹکے کا سامنا کر سکتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انسان آج تک چند محدود توانائی کے ذرائع پر ہی کیوں اکتفا کیے ہوئے ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف تیل نہیں بلکہ پوری انسانی معیشت چند بنیادی توانائی کے ذرائع پر قائم ہے۔ اس کی چند بڑی وجوہات ہیں۔
1۔ توانائی کی کثافت (Energy Density)
سب سے بڑی وجہ Energy Density ہے۔
تیل، کوئلہ اور گیس میں توانائی بہت زیادہ مرتکز ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر تھوڑی مقدار میں Crude Oil ہزاروں کلومیٹر تک ٹرک، جہاز یا مشینری چلا سکتا ہے۔
اسی مقدار کی توانائی اگر Solar Energy یا Wind Energy سے حاصل کرنی ہو تو اس کیلئے بہت بڑے رقبے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے صنعت اور ٹرانسپورٹ نے تاریخی طور پر تیل کو ترجیح دی۔
2۔ موجودہ انفراسٹرکچر کی زنجیر
پچھلے سو سال میں دنیا نے توانائی کے موجودہ نظام پر کھربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔
آئل فیلڈز
ریفائنریاں
آئل ٹینکر
پٹرول پمپ
گاڑیاں اور انجن
یہ سب Industrial Revolution کے بعد آہستہ آہستہ قائم ہوا۔ اس لیے اگر دنیا اچانک کسی اور توانائی پر منتقل ہونا چاہے تو پوری عالمی معیشت کا ڈھانچہ تبدیل کرنا پڑے گا۔
3۔ قابلِ اعتماد توانائی (Reliability)
کچھ توانائی کے ذرائع مسلسل دستیاب نہیں ہوتے۔
مثلاً:
Solar Energy رات کو دستیاب نہیں ہوتی
Wind Energy ہر وقت نہیں چلتی
ان کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کا مسئلہ بھی موجود ہے۔
جبکہ فیکٹریاں، ہسپتال اور شہر 24 گھنٹے بجلی چاہتے ہیں۔ اسی لیے ابھی تک دنیا کو مستقل توانائی کیلئے تیل، گیس اور کوئلہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔
4۔ جغرافیائی عدم مساوات
توانائی کے وسائل زمین پر برابر تقسیم نہیں۔
مثلاً:
Petroleum زیادہ تر Middle East میں ہے
Natural Gas کی بڑی مقدار Russia میں ہے
اسی وجہ سے عالمی سیاست اور تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔
5۔ سیاسی اور معاشی مفادات
توانائی کی صنعت کھربوں ڈالر کی ہے۔ بڑی کمپنیوں اور ریاستوں کے مفادات اس سے جڑے ہوتے ہیں۔
اسی لیے متبادل توانائی کی طرف تبدیلی سست رفتار ہوتی ہے۔
کیا تیل کی بالادستی ایک تاریخی حادثہ تھی؟
کچھ سائنسدانوں کے مطابق تیل کی عالمی بالادستی کسی حد تک ایک تاریخی حادثہ تھی۔ یعنی ایسا نہیں کہ انسان کے پاس صرف یہی بہترین راستہ تھا بلکہ تاریخ کے چند واقعات نے اسے غالب بنا دیا۔
ابتداء میں دنیا زیادہ تر Coal پر چل رہی تھی۔ لیکن بیسویں صدی کے آغاز میں گاڑی، ہوائی جہاز اور ڈیزل انجن کی ایجاد نے صورتحال بدل دی۔
خاص طور پر Henry Ford کی Ford Model T نے گاڑی کو عام آدمی تک پہنچا دیا اور ٹرانسپورٹ کا نظام تیل پر منتقل ہو گیا۔
جنگوں نے تیل کو فیصلہ کن بنا دیا
دو بڑی جنگوں نے تیل کی اہمیت کو انتہائی بڑھا دیا:
World War I
World War II
ٹینک، جنگی جہاز اور بحری بیڑے سب Petroleum پر چلتے تھے۔
اسی دوران Winston Churchill نے برطانوی بحریہ کو کوئلے سے تیل پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، جس نے بعد میں پوری دنیا کے لیے مثال قائم کی۔
مشرق وسطیٰ میں تیل کی دریافت
بیسویں صدی میں Middle East میں بڑے ذخائر دریافت ہوئے، خصوصاً:
Saudi Arabia
Kuwait
Iran
چونکہ یہاں تیل بہت سستا اور آسانی سے نکلتا تھا، اس لیے دنیا نے اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔
اب دنیا آہستہ آہستہ نکل رہی ہے
آج دنیا اس انحصار کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر:
Tesla جیسی کمپنیاں الیکٹرک گاڑیاں بنا رہی ہیں
سولر اور ونڈ انرجی تیزی سے بڑھ رہی ہیں
بیٹری ٹیکنالوجی بہتر ہو رہی ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ زمین پر سورج سے آنے والی توانائی انسان کی کل ضرورت سے تقریباً 10,000 گنا زیادہ ہے۔ اسی لیے بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل کی اصل طاقت سورج ہو گا، نہ کہ تیل۔
✍️ Written by Ammar Rao using writing tool
![]()

