Daily Roshni News

انسان کی اصل قدر ااس کے دل کی عاجزی میں ہوتی ہے۔

انسان کی اصل قدر ااس کے دل کی عاجزی میں ہوتی ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک قدیم شہر میں ایک شخص رہتا تھا جسے لوگ اسے “سخی شاہ” کہا کرتے تھے۔

یہ نام اس نے خود اپنے لیے نہیں چنا تھا، بلکہ وقت نے اس کے کردار پر یہ مہر ثبت کر دی تھی۔

اس کے دروازے پر ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی ضرورت مندوں کی قطاریں لگ جاتیں۔

کوئی بیوہ اپنی بیٹی کے نکاح کیلئے مدد مانگنے آتی،

کوئی بوڑھا دوائی کیلئے،

کوئی مسافر راستے کے خرچ کیلئے،

اور کوئی صرف ایک وقت کی روٹی کیلئے۔

شام ڈھل جاتی،

چراغ جل اٹھتے،

مگر اس کے دروازے پر مانگنے والوں کی قطاریں ختم نہ ہوتیں۔

لوگ حیران ہوتے کہ آخر اس شخص کے دل میں اتنی نرمی کہاں سے آتی ہے۔

اور حقیقت یہ تھی کہ وہ صرف مال نہیں بانٹتا تھا،

وہ لوگوں کے دکھ بانٹتا تھا۔

ہر رات جب وہ سونے لگتا، تو خواب میں ایک نورانی چہرے والی ہستی اس کے پاس آتی۔

چہرے پر عجیب سکون، آواز میں عجب مٹھاس۔

وہ آکر مسکراتی اور کہتی:

“آج تمہارا دیا ہوا سب کچھ قبول ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے”

پھر اس دن کی کچھ جھلکیاں اسے دکھائی جاتیں۔

کسی یتیم کی خوشی،

کسی ماں کی دعا،

کسی بھوکے کے پیٹ بھرنے کے بعد آنکھوں میں آنے والا سکون۔

یہی وہ لمحے تھے جنہوں نے سخی شاہ کے دل میں سخاوت کو عبادت بنا دیا تھا۔

مگر انسان آخر انسان ہوتا ہے۔

کبھی کبھی ایک لمحے کی انا برسوں کی نیکیوں پر سایہ ڈال دیتی ہے۔

ایک دن دوپہر کے وقت ایک فقیر اس کے دروازے پر آیا۔

اس کے کپڑے بوسیدہ تھے، بال گرد سے اٹے ہوئے، مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سی خودداری تھی۔

سخی شاہ نے جونہی اس پر نظر ڈالی، اس کا دل چونک اٹھا۔

یہ چہرہ وہ پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔

پھر اچانک اسے یاد آیا۔

چند دن پہلے بازار میں اس کا گھوڑا بے قابو ہو گیا تھا۔

لوگ خوف سے راستہ چھوڑ رہے تھے، مگر یہی فقیر جلدی میں اسے بچانے کیلئے آگے بڑھا اور گھوڑے کی لگام پکڑ لی۔

گھوڑا تو رک گیا،

مگر اس دوران سخی شاہ زمین پر گر پڑا تھا اور اردگرد کھڑے لوگ ہنس پڑے تھے۔

حالانکہ فقیر نے اس کی جان بچائی تھی، مگر سخی شاہ کے دل میں یہ بات چبھ گئی تھی کہ ایک فقیر کے ہاتھوں وہ لوگوں کے سامنے گر پڑا۔

اور انا اکثر احسان کو بھی ذلت بنا کر دکھاتی ہے۔

اس دن جب فقیر اس کے دروازے پر کھڑا تھا، سخی شاہ کے دل میں خیال آیا:

“آج اسے احساس دلاؤں گا کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے۔”

وہ ایک قطار میں کھڑا ہوتا اور قطار چلتے چلتے جب قریب آتی تو سخی شاہ دوسری طرف چلا جاتا۔

وہ دوسری قطار میں آتا تو یہ تیسری طرف مڑ جاتا۔

پورا دن یہی کھیل چلتا رہا۔

فقیر خاموشی سے ہر صف بدلتا رہا۔

نہ اس نے شکایت کی،

نہ غصہ کیا،

نہ ہاتھ پھیلانے کے انداز میں کوئی بے صبری دکھائی۔

شام ڈھل گئی۔

لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

چراغ بجھنے لگے۔

اور آخر میں وہ فقیر خالی ہاتھ واپس چلا گیا۔

رات کو سخی شاہ حسبِ معمول سویا، مگر اس رات خواب کچھ مختلف تھا۔

اس نے دیکھا کہ ایک عظیم دربار سجا ہوا ہے۔

نور ہی نور ہے۔

رحمت کا سماں ہے۔

وہی نورانی ہستی موجود ہے جو ہر رات آکر اس کی سخاوت قبول ہونے کی خوشخبری دیتی تھی۔

سخی شاہ خوشی خوشی آگے بڑھا،

مگر جیسے ہی قریب پہنچا، وہ ہستی دوسری طرف متوجہ ہو گئی۔

وہ دائیں جانب گیا،

چہرہ دوسری طرف پھر گیا۔

وہ بائیں جانب بڑھا،

نظر پھر ہٹ گئی۔

پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ شاید آج اس کیلئے اس دربار میں جگہ نہیں۔

اس کا دل کانپ اٹھا۔

پھر اس نے دیکھا کہ وہی فقیر وہاں موجود ہے۔

نورانی ہستی اس کے استقبال کیلئے خود کھڑی ہوئی،

اسے اپنے قریب بٹھایا،

اور فرمایا:

“آج اس کا صبر قبول ہوا ہے”

یہ سنتے ہی سخی شاہ کی آنکھ کھل گئی۔

اس کے جسم پر پسینہ تھا، دل خوف سے دھڑک رہا تھا۔

اسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔

وہ رات کے اندھیرے میں ہی ننگے پاؤں گھر سے نکلا۔

نوکروں کو ساتھ لیا، پورا شہر چھان مارا، مگر فقیر کہیں نہ ملا۔

صبح ہوتے ہوتے وہ شہر کے کوتوال کے پاس پہنچا۔

کوتوال نے بتایا:

“وہ فقیر تو رات ہی شہر چھوڑ گیا تھا۔”

یہ سنتے ہی سخی شاہ نے گھوڑا دوڑا دیا۔

کئی کوس دور، شہر سے باہر ایک سنسان راستے پر اسے وہ فقیر نظر آ گیا۔

سخی شاہ گھوڑے سے اترا،

اور پہلی بار کسی فقیر کے سامنے اس طرح کھڑا تھا جیسے خود سوالی ہو۔

اس نے لرزتی آواز میں کہا:

“مجھے معاف کر دو، اور واپس چل۔ جو چاہو گے، دوں گا۔”

فقیر یہ سن کر مسکرایا۔

پھر نہایت سکون سے بولا:

“اگر آپ کل میرے ساتھ ایسا نہ کرتے، تو شاید میں عمر بھر لوگوں کے دروازوں پر ہی کھڑا رہتا۔”

فقیر نے آگے کہا:

“اور معافی تو آپ مجھے دو، کیونکہ آپ کا شکریہ ادا کیے بغیر جا رہا تھا۔”

پھر وہ مسکرایا اور بولا:

“اور سنیں،

جس کی وجہ سے آج آپ یہاں کھڑے ہیں

میں بھی اسی کی وجہ سے یہاں کھڑا ہوں۔”

“فرق صرف اتنا ہے کہ کل تک میں لوگوں کا محتاج تھا،

اور آج صرف اللہ کا ہوں۔”

“وہ خواب صرف آپ کو نہیں آیا تھا،

رات مجھے بھی وہی خواب آیا تھا۔

اور مجھے بھی سمجھا دیا گیا کہ رزق لوگوں کے ہاتھوں سے نہیں،

اللہ کے حکم سے ملتا ہے۔”

“میں تو آج آپ کا شکریہ ادا کرنے واپس آنا چاہتا تھا،

پھر خیال آیا کہ کہیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں پھر کسی امید میں آیا ہوں اور یہ مجھے ہرگز منظور نہیں کہ کوئی اب ایسا میرے بارے میں خیال تک لائے۔”

“اور کل آپ میرے لیے سبب بنے، تاکہ میرا دل مخلوق سے ٹوٹ کر خالق سے جڑ جائے۔”

یہ کہہ کر فقیر نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔

پھر بولا:

“اب مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ کوئی یہ سمجھے کہ میں اس کا محتاج ہوں جبکہ ہم دونوں ایک ہی در کے محتاج ہیں۔”

یہ کہہ کر وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ گیا۔

اور سخی شاہ دیر تک وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔

اس دن اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ

بعض اوقات ایک لمحے کی انا انسان کو “منظورِ نظر” سے “نامنظور” بنا دیتی ہے،

اور کبھی ایک لمحے کا صبر ایک گمنام فقیر کو خدا کے قریب کر دیتا ہے۔

حاصلِ سبق:

انسان کی اصل قدر اس کی دولت یا سخاوت میں نہیں،

بلکہ اس کے دل کی عاجزی میں ہوتی ہے۔

کیونکہ جو شخص لوگوں پر احسان جتانے لگے،

وہ دراصل اپنی نیکی کی روح کھو دیتا ہے۔

اور جو مخلوق سے امید توڑ کر صرف خالق سے امید باندھ لے،

وہ کبھی خالی نہیں رہتا۔

✦ تحریر: عثمان عاشق

✦ کہانی نمبر: 41

📌 مزید ایسی کہانیوں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:

👉 https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Z50j7z4ko6GfJw040

Loading