اولاد کی روحانی تربیت
بچوں کی اچھی تربیت و تعلیم کے لئے
اولیاء اللہ سے رہنمائی
قسط نمبر3
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اولاد کی روحانی تربیت) پیدائش کے بعد بھی ماں بچے کے لئے مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔ بچہ ہر مشکل ہر تکلیف میں ماں کی طرف ہی لپکتا ہے۔ باپ تو دن بھر ذریعہ معاش میں مصروف رہتا ہے اور بچہ کو چوبیس گھنٹے میں محض چند گھنٹے ہی دے پاتا ہے۔
بچے کی توقعات اور تصورات کا محور زیادہ تر ماں ہوتی ہے۔
اس مضمون کا بنیادی مقصد بھی ماؤں کو اس بات کی اہمیت بتانا ہے کہ بچے کو زیادہ تر ماں کا ذہن منتقل ہوتا ہے۔ باپ یعنی شوہر کو گھر میں ایسا ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس میں بیوی یعنی ماں پرسکون اور آسودہ حالت میں بچے کی اچھی تربیت کرسکے۔ شوہر او ربیوی یعنی ماں باپ کے باہمی تعاون اور دونوں کی جانب سے ملنے والی اچھی تربیت بچہ کے مثبت کردار کی تشکیل ہوتی ہے۔
تربیت کے لحاظ سے لڑکپن کا دور بہت اہم ہے۔ اس دور میں بچپن کی تربیت بہت کام آتی ہے۔ یہ سمجھیں کہ جس طرح مضبوط بنیاد پر بڑی سے بڑی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے بالکل اسی طرح اگر بچپن کے حساس دور میں بچے کی تربیت اچھی طرح کی گئی تو لڑکپن میں قدرے آسانی ہوجاتی ہے۔
لڑکپن کا دور سات آٹھ سال سے بلوغت تک ہوتا ہے۔ لڑکپن کی ابتداء اس وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب بچہ تخیلاتی تصویر کشی کے علاوہ چیزوں کو حقیقی معنوں میں دیکھنے لگتا ہے۔ اس عمر میں بچہ کی ضد کم ہونے لگتی ہے اور بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ لڑکپن کی عمر اخلاقی اور روحانی تربیت کی عمر ہے۔ اس عمر میں بچہ ذہنی طور پر خود بھی اور والدین و اساتذہ کی باتوں سے اچھے بُرے کی تمیز کرسکتا ہے۔
دس سال سے سولہ سال تک کا بچہ زیادہ گہرائی سے اخلاقی باتیں سن اور سمجھ سکتا ہے۔ یہ دور اس لحاظ سے نازک ہے کہ بچہ سختی کرنے سے متنفر ہوسکتا ہے کیو نکہ وہ خود سوچنا اور سمجھنا چاہتا ہے۔ بڑوں کو اسے سمجھانا ضرور چاہئے مگر اپنی مرضی زبردستی مسلط کرنا فاصلے پیدا کرسکتا ہے۔
اولیاء اﷲ میں لڑکپن کا ایک واقعہ حضرت شیخ سعدی ؒ کی سوانح سے ملتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت شیخ سعدی ؒ اپنے والد کے ساتھ سفر میں تھے۔ اسی دوران ان کا قیام ایک مسجد میں ہوا۔ رات کے وقت والد صاحب وضو کر کے نوافل اور ذکر و فکر میں مصروف ہوگئے۔ حضرت شیخ سعدی ؒ بھی اٹھے اور وضو کیا ۔ اس دوران چند آدمی آئے اور مسجد میں آکر سوگئے۔ حضرت شیخ سعدی ؒ نے وضو کیا اور والد کے ساتھ ساری رات ذکر و فکر میں گزار دی۔ صبح اپنے والد سے کہا’’ابا جان یہ لوگ مسجد میں آکر سوتے نہیں بلکہ عبادت کرلیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ انہوں نے پوری رات ضائع کردی‘‘۔ والد صاحب نے فرمایا ‘‘دوسروں پر نظر رکھنے کے بجائے تمہارا بھی سوجانا بہتر ہوتا’’۔
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے اپنی دادی اماں کے حوالے سے چند واقعات کا تذکرہ کیا ہے جو بچوں پر بزرگوں کی تربیت کے اثرات کا ایک خاکہ پیش کرتے ہیں ۔ حضرت عظیمی صاحب کتاب ‘‘آوازِ دوست’’ میں تحریر فرماتے ہیں
‘‘میں نے شعور کے زینے پر پہلا قدم رکھا تو یہ دیکھا کہ دادی امّاں کی گود میں ہوں اور دادی امّاں اﷲ کے کلام کے ورد میں مگن ہیں۔ یہ بھی دیکھا کہ رات کو سونے سے پہلے کلمۂ شہادت پڑھوایا جارہا ہے اور پھر صبح بیدار ہونے کے وقت لازم تھا کہ آنکھ کھلتے ہی کلمۂ طیبہ پڑھا جائے۔ دادی اماں کہانیاں بھی سناتی تھیں۔
ہر کہانی کا ایک مفہوم ہوتا تھا کہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا بنایا رسول بادشاہ۔ اﷲ نے اپنے رسول کے پاس فرشتہ بھیجا۔
ایک نجی محفل میں سلسلہ عظیمیہ کی ایک بہن کو نصیحت کرتے ہوئے حضرت عظیمی صاحب بچے کی تربیت میں والدین اور بزرگوں کی اہمیت پر روشنی ڈال رہے تھے۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا
’’میری دادی کی بتائی ہوئی یہ بات کہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ، خدا کا بنایا رسول ﷺ بادشاہ۔ یہ بات میرے ذہن میں اس طرح نقش ہوگئی کہ اﷲ اور رسولاﷲ ﷺ کے علاوہ کسی کی بڑائی یا بادشاہت اہمیت نہیں رہی۔
یہاں ہم حضرت عظیمی صاحب کی فرمائی ہوئی ایک اور بات کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں
دانش ور اس بات پر متفق ہیں کہ بچے کی تربیت کا پہلا گہوارہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ بچہ جو سنتا ہے وہی بولتا ہے اور جو دیکھتا ہے وہی اس کا علم بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں ہم نہیں دیکھتے کہ دادی اماں نے یہ کہا ہو کہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا بنایا رسولﷺ بادشاہ۔
دن رات گانوں کی آوازیں ہمارے اعصاب پر محیط رہتی ہیں۔ رات کو سونے سے پہلے کتنی مائیں اپنے بچوں کو یہ تلقین کرتی ہیں کہ کلمہ شہادت پڑھ کر سونا چاہیے، کتنے والد اپنی اولاد کو بیدار ہونے کے بعد کلمہ طیبہ پڑھنے کے لئے کہتے ہیں۔
ایک مرتبہ خواجہ شمس الدین عظیمی کے پاس چند افراد موجود تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے عظیمی صاحب سے پوچھا ‘‘ہمیں بتائیے کہ اولاد کی تربیت ہم کس طرح کریں….؟’’
عظیمی صاحب نے مختصر جواب دیا
‘‘اپنی تربیت کرلیجیے…. اولاد کی تربیت خود بخود ہوجائے گی….’’
ایسے لڑکے یا لڑکیاں جنہیں آئندہ باپ یا ماں بننا ہے ان سب پر لازم ہے کہ پہلے اپنی تربیت کریں۔ اپنے اخلاق و کردار کو سنواریں اور اپنی طرز فکر درست کرلیں۔
آج ہم یہ دیکھتے یں بہت سے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی ہوجاتی ہے لیکن ان کی ذہنی تربیت نہیں ہوئی ہوتی۔ شوہر بیوی کو دباؤ میں رکھنے کے لیے تمام ہتھکنڈے استعمال کرنا ضروری خیال کرتا ہے اور بیوی شوہر پر تسلط جمانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔ ساس بہو، نند بھاوج کی لڑائیاں بھی اکثر تخریبی ذہنوں کی پیداوار ہوتی ہیں۔ لڑائی، جھگڑے، سرد جنگیں اور چپقلش…. اس ماحول میں بچے کی کیا تربیت ہوسکے گی، سب سمجھ سکتے ہیں….
اس لیے بچے کی تربیت سے پہلے ضروری ہے کہ والدین اپنی تربیت کی کوشش کریں۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مئی 2021
![]()

