اگر طارق بن زیاد اسپین فتح نہ کرتے تو شاید آج کی جدید سائنس اتنی ترقی یافتہ نہ ہوتی؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک پہاڑ، ایک تپتا ہوا سمندر اور چند کشتیاں جنہیں ساحل پر پہنچتے ہی آگ لگا دی گئی! یہ محض کسی پاگل پن کا قصہ نہیں بلکہ اس عظیم تاریخ کا آغاز تھا جس نے یورپ کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ آج ہم جس اسپین کو فٹ بال اور سیاحت کے لیے جانتے ہیں، کبھی وہ دنیا کے نقشے پر ‘اندلس’ کے نام سے چمکتا تھا۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں آٹھ صدیوں تک اذانیں گونجیں اور جہاں کی یونیورسٹیوں سے نکلی ہوئی روشنی نے پوری دنیا کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا۔
داستان شروع ہوتی ہے سن 711 میں، جب افریقہ کے ساحل پر ایک نوجوان سپہ سالار طارق بن زیاد اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ کھڑا تھا۔ سامنے دشمن کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا لشکر تھا اور پیچھے گہرا سمندر۔ ایسے میں طارق نے وہ فیصلہ کیا جو آج بھی جنگی تاریخ میں ایک معجزہ مانا جاتا ہے۔ اس نے اپنی تمام کشتیاں جلا ڈالیں اور اپنے سپاہیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ اب واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہے، اب یا تو فتح ہے یا شہادت۔ اس ایک فیصلے نے وہ آگ بھڑکائی کہ راڈرک کی ظالم حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا اسپین مسلمانوں کے زیرِ اثر آگیا۔
لیکن یہ تو صرف ایک شروعات تھی۔ آنے والے چند سو سالوں میں مسلمانوں نے اندلس کو جنت کا نمونہ بنا دیا۔ جب پورا یورپ گندگی اور جہالت میں ڈوبا ہوا تھا، تب قرطبہ کی گلیوں میں رات کو روشنیاں جلتی تھیں اور وہاں کی لائبریریوں میں لاکھوں کتابیں علم کی پیاس بجھاتی تھیں۔ عبدالرحمٰن الداخل جیسے جری حکمران نے یہاں ایسی سلطنت کھڑی کی جہاں مسلمان، عیسائی اور یہودی سب مل کر رہتے تھے۔ سرجری ہو، ریاضی ہو، فلکیات ہو یا فنِ تعمیر، اندلس وہ جگہ تھی جہاں سے جدید سائنس نے جنم لیا۔ آج بھی غرناطہ کا محل الحمراء اور قرطبہ کی جامع مسجد کے ستون اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس زمین پر ایک ایسی قوم گزری ہے جس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکا تھا۔
مگر تاریخ کا ایک بڑا بے رحم سبق ہے کہ جب طاقت اپنے عروج پر پہنچتی ہے تو اکثر غرور اور اپنوں کی غداری کو جنم دیتی ہے۔ اندلس کا زوال کسی بیرونی دشمن سے زیادہ اندرونی خلفشار کا نتیجہ تھا۔ بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہو گیا اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ کر حکمرانوں نے اپنی بقا کے لیے دشمنوں سے ہاتھ ملانا شروع کر دیا۔ یوسف بن تاشفین جیسے مردِ مجاہد نے ایک وقت میں گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دیا، لیکن اندر لگی آگ بہت گہری ہو چکی تھی۔ ایک ایک کر کے وہ شہر چھنتے گئے جہاں صدیوں تک اللہ کا نام بلند ہوا تھا، یہاں تک کہ صرف غرناطہ باقی رہ گیا۔
اس تاریخ کا سب سے غمگین لمحہ وہ تھا جب غرناطہ کا آخری حکمران ابو عبداللہ شہر کی چابیاں دشمن کے حوالے کر کے جلاوطنی کی راہ پر نکلا۔ پہاڑی کے ایک موڑ پر رک کر جب اس نے آخری بار اپنے خوبصورت شہر کو دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ تب اس کی ماں نے وہ جملہ کہا جو آج بھی تاریخ کے سینے میں دفن ہے کہ جس چیز کی حفاظت تم مردوں کی طرح نہ کر سکے، اب اس کے کھو جانے پر عورتوں کی طرح ماتم کیوں کرتے ہو؟ 1492 میں اندلس کا وہ سورج ڈوب گیا جس نے 800 سال تک پوری دنیا کو روشن رکھا تھا۔ مگر یاد رکھیے، اندلس کے پتھروں سے آج بھی مسلمان فاتحین کی خوشبو آتی ہے، وہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عروج اتحاد میں ہے اور زوال غداری میں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر طارق بن زیاد اسپین فتح نہ کرتے تو شاید آج کی جدید سائنس اتنی ترقی یافتہ نہ ہوتی؟ آپ کو اندلس کی تاریخ کا کون سا حصہ سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور اس عظیم تاریخ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ہماری نسلیں اپنی اصل پہچان سکیں۔
#IslamicHistory #Andalus #TariqBinZiyad #HistoryDocumentary #MuslimLegacy #SpainHistory
#risengraphics #warzone #mughalempire #army #lodhirajputana #tariqbinziyad #spain #mongolia #WW1 #WWII
![]()

