Daily Roshni News

ایران اور ایٹم بم……کب اور کہاں تک

ایران اور ایٹم بم……کب اور کہاں تک

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایران کے پاس 420 کلو گرام کے قریب %60 افزودہ یورینیم موجود ھے…جبکہ یورینیم کو ویپن گریڈ تک پہنچنے کے لیے 90 فی صد تک افزودہ کرنا ہوتا ھے…. 60 فی صد افزودہ یورینیم کو 90 فی صد تک افزودہ کرنے میں صرف چند ہفتے یا نوے دن درکار ہوتے ہیں….قدرتی یورینم سے ویپن گریڈ افزودگی تک پہنچنے میں سب سے آسان مرحلہ یہی 60 سے نوے فی صد تک کا ھے…….جبکہ مشکل مرحلہ قدرتی یورینیم کو 3 فی صد تک افزودہ کرنا اور مشکل ترین مرحلہ 3 سے 20 فی صد تک کا ہوتا ھے…..پھر 20 فی صد سے 60 فیصد کم مشکل اور 60 سے 90 فی صد سب سے آسان مرحلہ ہوتا ھے……ایک ایٹم بم کے لیے 42 کلو گرام یورینیم درکار ہوتا ھے……ایران کے پاس جتنا یورینیم ھے اس سے 10سے 11 ایٹم بم بنائے جا سکتے ہیں…

اگر یرینیم 90 فی صد تک افزودہ ہو چکا ہو تو سادہ ایٹم بم (gun-type design)

⏱ تقریباً چند ہفتوں سے 2–3 ماہ میں تیار ہو سکتا ہے اگر ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ پہلے سے موجود ہو۔

جدید اور چھوٹا وارہیڈ (جو میزائل پر لگ سکے)

⏱ عام طور پر کئی مہینے سے ایک سال لگ سکتا ہے۔

کیوں وقت لگتا ہے؟

90٪ یورینیم ہونے کے بعد بھی یہ کام باقی ہوتے ہیں:

بم کا ڈیزائن اور انجینئرنگ

ہائی ایکسپلوسیو لینز اور ڈیٹونیٹر

نیوکلیئر کور (pit) کی تیاری

سیفٹی اور ٹرگر سسٹم

اگر میزائل کے لیے ہو تو وارہیڈ منی ایچرائزیشن

ایران کے متعلق کچھ ممالک کا خیال ھے کہ وہ ایٹم بم بنانے کے بلکل قریب ھے……لیکن ایران کے ذمہ داران اور اور رھبرِ اعلی سید علی خامنہ ای شہید ایٹم بم کی تیاری اور اس کی ضرورت سے بلکل انکار کرتے آئے ہیں…..لیکن جب کسی ملک کی بقا و سلامتی کا مسلہ بن جائے اور حالات مجبور کریں تو ملکی سلامتی کے پیشِ نظر فیصلہ بدلہ بھی جا سکتا ھے……..جس طرح کے حالات بن چکے ہیں….اب دنیا کے  منصف مزاج افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کو ایٹم بم بنانا چاہیے.

Loading