ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق تھا، مذاکرات میں پیشرفت کے باوجود حملہ کیا گیا: اسحاق ڈار
پاکستان(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا، ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے کھل کر اس کی مذمت کی۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایران کے مختلف ممالک پر جوابی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پالیسی بیان دیا۔
اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان کی کوششوں کے بارے میں ایرانی قیادت بخوبی آگاہ ہے، جب پاکستان کے پاس سلامتی کونسل کی صدارت تھی اس وقت بھی ہم نے امریکا اور ایران کے مسئلے پر کئی مباحثے کرائے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل کامیابی سے چل رہا تھا جس میں عمان ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا، بڑے پُرامید تھے کہ ایران مذاکرات مثبت جا رہے ہیں، اسی دوران ایران پر گزشتہ سال جون کی طرح کا حملہ ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا میری امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوئی، ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، پاکستان نے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال سے متعلق ایران کے حق کی حمایت کی، امریکا ایران کے تمام ایٹمی پروگرام کو مکمل ختم کرنا چاہتا تھا جبکہ ہم نے ایران کو پُرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کی بات منوائی۔
ان کا کہنا تھا ہم امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ثالثی کےلیے تیار تھے، دنیا میں صرف پاکستان نے ہی ایران کے خلاف حملے کی کھلے انداز میں مذمت کی، ہمارے مؤقف کی ہی وجہ سے ہی ایرانی پارلیمنٹ کے اندر تشکر پاکستان کے نعرے لگے، سلامتی کونسل میں پاکستان نے واضح الفاظ میں ایران پر حملے کی مذمت کی، معاملے کی سفارتی سطح پر حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نائب وزیراعطم و وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا و اسرائیل کی جانب سے حملے کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کر دیا، ایران نے کہا کہ امریکا کی بیسز پر حملہ کر رہے ہیں، وہاں ایئر پورٹس ہٹ کیے گیے، ہمیں اس تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے، ان ممالک پر حملہ نہ ہوتا تو ہم امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے ان کو ساتھ لیکر آواز بلند کرتے، ہمیں معلوم ہے کہ مزاحمت ہوتی ہے لیکن ہم نے 15 منٹ میں مذمت کی۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا 12 سال بعد اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اتفاق رائے سے قرارداد پاس کی گئی، حکومت کی طرف سے مذاکرات کی کوشش میں کوئی کمی نہیں، ہم پوری طرح آن بورڈ ہیں، میں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی براہ راست رابطے میں ہیں، ہمیں رابطے کے لیے دفتر خارجہ کی ضرورت نہیں۔
ان کا کہنا تھا سلامتی کونسل میں قرارداد کے ساتھ کھڑے ہوئے جس میں ایران سے پابندی ہٹانے کا کہا، ایران کی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کہا گیا، ہم نے 28 فروری کو سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس کرایا، ہم اپنی سکیورٹی کونسل ممبر شپ کا تو فائدہ اٹھائیں، ہم نے وہاں ایران پر حملے کی مذمت کی، عرب ممالک کے ساتھ ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کی، سب کو کہا تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی امن و امان کمزور ہو رہا ہے، اسلام آباد: دو تین دن میں جو ہوا جو نہیں ہونا چاہیے۔
![]()

