امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایران جنگ کے معاملے پر ایک کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی پر واضح اختلافات سامنے آئے۔
امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں، جس کے باعث گفتگو میں تناؤ پیدا ہوا۔
امریکی اہلکار کے مطابق یہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی گفتگو نہیں تھی۔ اتوار کو ہونے والی بات چیت میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ وہ ہفتے کے آغاز میں ایران پر نئے ہدفی حملوں کی منظوری دینے کا امکان رکھتے ہیں۔ بتایا گیا کہ اس مجوزہ کارروائی کو نیا نام آپریشن سلیج ہیمر دیے جانے کی تیاری بھی کی جارہی تھی۔
تاہم ابتدائی گفتگو کے تقریباً 24 گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو متوقع حملے روک رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا گیا۔
امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دنوں خلیجی ممالک وائٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جاسکے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم ایران کے معاملے کے آخری مراحل میں ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو کافی سخت ہوں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ان جاری مذاکرات سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو طویل عرصے سے تہران کے خلاف زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ تاخیر صرف ایران کے مفاد میں جا رہی ہے۔
امریکی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کی گفتگو میں صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ متوقع حملے مؤخر کرنا ایک غلطی ہے اور امریکا کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔
ایک اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اختلاف واضح تھا، کیونکہ ٹرمپ معاہدے کے امکانات دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کسی اور سمت میں پیش رفت کی توقع کررہے تھے۔
سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس سے اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی جبکہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے اس کشیدہ فون کال کی خبر سب سے پہلے دی تھی۔
اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو کے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی اعلیٰ سطح پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی خواہش موجود ہے اور اس بات پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کو سفارتی عمل کے ذریعے وقت دے رہے ہیں۔
نیتن یاہو کی امریکی حکمت عملی، خصوصاً ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اچانک توقف اختیار کرنے پر ناراضی کوئی نئی بات نہیں۔
امریکی حکام ماضی میں بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر یکساں نہیں۔
بدھ کو صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ انہوں نے گزشتہ شب نیتن یاہو سے کیا کہا تھا تو انہوں نے جواب دیا، میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات انتہائی نازک مرحلے میں ہیں اور اگر چند روز کی سفارت کاری سے جانیں بچ سکتی ہیں تو اسے موقع دینا چاہیے۔
ادھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کے ابتدائی 14 نکاتی متن کی بنیاد پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے، امریکی مؤقف موصول ہوچکا ہے اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
![]()
