Daily Roshni News

ایمان کی روشنی اور صبر کی داستان

ایمان کی روشنی اور صبر کی داستان

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ جب وہ لندن میں وکالت کیا کرتے تھے تو ایک برطانوی خاتون چھوٹے موٹے مقدمات کے سلسلے میں ان کے پاس آیا کرتی تھیں۔ وہ ایک ہوٹل چلاتی تھیں اور ان کے شوہر فوج میں ملازم تھے۔

ایک دن وہ خاتون علامہ اقبال کے پاس آئیں تو وہ نقاب 🧕 میں تھیں۔ اقبال نے حیرت سے پوچھا:

“میم صاحب! خیریت ہے؟ آپ نے یہ برقع کیوں پہنا ہوا ہے؟”

وہ خاتون مسکرا کر کہنے لگیں: “اقبال! مجھے یقین تھا کہ آپ ضرور پوچھیں گے۔ الحمدللہ، میں مسلمان ہو گئی ہوں۔”

اقبال نے پوچھا: “لیکن آپ کا شوہر تو فوج میں ہے، وہاں کے قوانین اور ماحول بالکل مختلف ہیں، وہ کیا کہے گا؟”

خاتون نے جواب دیا: “اسے کیا کہنا تھا، میری تبدیلی دیکھ کر وہ خود بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔”

اقبال کا تجسس بڑھا تو انہوں نے پوچھا: “یہ سب کیسے ہوا؟”

خاتون نے اپنی داستان یوں بیان کی:

“میں بے اولاد تھی، دولت کی کمی نہ تھی، اپنا ہوٹل چلاتی تھی، مگر ہر وقت ڈپریشن اور ذہنی دباؤ میں رہتی تھی۔ مجھے سکون کہیں نہیں ملتا تھا۔ میرے ہوٹل میں ایک عمر رسیدہ مسلمان بزرگ (بابا جی) برتن دھونے کا کام کرتے تھے۔ ان کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔ ان کا ایک بیٹا، بہو اور ایک چھوٹا پوتا تھا۔ بیٹا بیمار رہتا تھا، اسی لیے بابا جی اس عمر میں بھی محنت مزدوری کرتے تھے۔”

ایک دن بابا جی نے چھٹی مانگی اور بتایا کہ ان کے جوان بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے۔ خاتون کہتی ہیں کہ جب میں تعزیت کے لیے ان کے گھر گئی تو دیکھا کہ وہ ایک ٹوٹی ہوئی چٹائی پر بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا:

“بابا! آپ کا ایک ہی سہارا تھا، وہ بھی چلا گیا، ہم آپ کو کیسے تسلی دیں؟”

بابا جی نے اپنی بوڑھی آنکھیں کھولیں جن میں ایمان کی چمک تھی اور فرمایا:

“بیٹی! کیسی تعزیت؟ کیا میں نے پیسے جمع کر کے بیٹا خریدا تھا؟ وہ تو خدا کی امانت تھا، اس نے جب چاہا واپس لے لیا۔ میں اپنے رب کے فیصلے پر راضی ہوں۔” ☝️

چند دن بعد وہ دوبارہ کام پر آ گئے، مگر پھر ایک اور صدمہ آیا کہ ان کی بہو بھی انتقال کر گئی۔ خاتون کہتی ہیں کہ میں تڑپ اٹھی کہ اب اس بوڑھے اور اس ننھے بچے کا کیا ہوگا؟ مگر بابا جی پھر بھی ثابت قدم رہے۔ انہوں نے کہا:

“میرا مالک جو چاہے، میں اس کی رضا میں خوش ہوں۔ اب میں اپنے چھوٹے پوتے کو ساتھ ہوٹل لے آیا کروں گا۔”

✨ آخری امتحان اور سکونِ قلب

کچھ عرصہ گزرا تو ایک دن وہ ننھا پوتا، جو بابا جی کی کل کائنات تھا، چھت پر کھیلتے ہوئے پھسل گیا اور گردن کے بل گر کر فوت ہو گیا۔ بابا جی نے اپنے ہاتھوں سے قبر کھودی، مٹی ڈالی اور کہا:

“اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن”

خاتون کہتی ہیں کہ میں نے تڑپ کر بابا جی کا ہاتھ تھاما اور کہا:

“بابا! آپ تو بالکل اکیلے رہ گئے، اب آپ کی زندگی کیسے گزرے گی؟ آپ بکھر کیوں نہیں جاتے؟”

بوڑھے بابا مسکرا کر کہنے لگے:

“میم صاحب! میں کیوں پریشان ہوں؟ میرا ایمان ہے کہ یہ زندگی چند دن کی ہے۔ جب میں مر کر جنت میں جاؤں گا تو میرا رب مجھے میرے بیٹے، بہو اور پوتے سے دوبارہ ملا دے گا۔ میرا رب ساری ملاقاتیں کرا دے گا۔”

خاتون کہتی ہیں کہ یہ سن کر میرا اور میرے شوہر کا دل پگھل گیا۔ میں نے پوچھا:

“بابا! یہ سکون اور یہ حوصلہ کہاں سے ملتا ہے؟”

بابا جی نے فرمایا:

“اگر تو نے یہ سکون لینا ہے تو گنبدِ خضریٰ والے نبی ﷺ کا کلمہ پڑھ لے، اللہ تجھے بھی یہ سکون عطا فرما دے گا۔”

واللہ اعلم بالصواب

دوستو…!!! آخر میں ایک گزارش ہے کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر آپ کو پسند آئے تو اسے پڑھنے کے بعد تھوڑی سی زحمت کر کے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ یقین کیجئے، اس میں آپ کا صرف ایک لمحہ لگے گا، مگر ممکن ہے یہی لمحہ کسی کی زندگی بدل دے اور آپ کی شیئر کی ہوئی تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز بن جائے۔ ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں۔ بہت شکریہ ❤️

Golden pages of History

جزاک اللہ خیرا کثیرا

#Islam #Peace #Faith #Alhamdulillah 🤲

#Sabr #Patience #LifeLessons #Inspiration ✨

#AllamaIqbal #MotivationalQuotes #رضا_بالقضا

#صبر_وشکر #ایمان_کی_طاقت 💪

#سکون_قلب #اسلام_ہی_حل_ہے 🌸

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں

Loading