Daily Roshni News

ایک باپ کی اذیت اور ٹاکسک رشتے کی حقیقت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میرا گلا گھونٹ کر میری کہانی ختم کر دو: ایک باپ کی اذیت اور ٹاکسک رشتے کی حقیقت۔میرے پاس ایک 60 سالہ کلائنٹ آئے۔ انہوں نے 18 سال سرکاری ملازمت کی، پھر ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ گھر رہنے کے بعد ایک سیکیورٹی کی نوکری شروع کر دی، جہاں وہ رات کی ڈیوٹی دیتے اور دن میں گھر آتے تھے۔ ان کا ایک بڑا بیٹا تھا جس کی منگنی کو چھ ماہ ہو چکے تھے، اور دو جوان بیٹیاں تھیں جن کی ابھی منگنی نہیں ہوئی تھی۔ ان کی بیوی کا رویہ انتہائی ٹاکسک اور ڈرامائی تھا۔

ان میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شوہر اپنی بیوی کو سمجھاتے، “ہماری بیٹیاں جوان ہیں، اس لیے چاہے میرے بھانجے، بھتیجے ہوں یا تمہارے، انہیں گھر کے اندر نہ آنے دو۔ مہمان خانے میں ہی ان کی خاطر تواضع کر دیا کرو۔” لیکن ان کی بیوی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھیں۔ اگر وہ لڑکے مہمان خانے میں بیٹھ بھی جاتے، تو خاتون فوراً انہیں گھر کے اندر لے آتیں اور بیٹیوں سے زبردستی کہتیں، “بیٹا، یہ تمہارے بھائی ہیں، ان سے ہاتھ ملاؤ۔” اس خاتون کا اصل مشن یہ تھا کہ یہ لڑکے اور لڑکیاں آپس میں بات چیت کریں، دوستی ہو، اور کسی طرح ایک دوسرے کو پسند کر لیں تاکہ ان کی شادیاں خاندان میں ہی ہو جائیں۔

جب شوہر گھر پر ہوتے اور ان کے سامنے یہ سب ہوتا، تو وہ شدید غصے میں آ جاتے۔ لیکن جیسے ہی وہ اپنی بیوی کو سمجھانے کی کوشش کرتے، وہ فوراً ڈرامہ شروع کر دیتیں اور بچیوں کو اپنے ساتھ ملا لیتیں۔ وہ کہتیں، “دیکھو تمہارا والد کیسا ہے! اس نے ساری زندگی مجھ پر ظلم کیے ہیں اور اب بھی مجھ پر غصہ کر رہا ہے۔ اف! مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے، میرا سر پھٹ رہا ہے۔” بچیاں فوراً ماں کو پانی دیتیں، تسلی دیتیں اور اپنے والد کو روک دیتیں کہ “ابو، آپ امی کو کچھ نہ کہا کریں، وہ پریشان ہو جاتی ہیں۔”

اگر شوہر تھوڑا سا بھی سختی سے پیش آتے، تو بیوی اتنا ڈرامہ کرتیں کہ انہیں ہسپتال لے کر جانا پڑتا، جبکہ حقیقت میں انہیں کچھ نہیں ہوتا تھا۔ نفسیات کی زبان میں اسے ‘مینیوپلیشن’ (Manipulation) اور ‘گیس لائٹنگ’ (Gaslighting) کہا جاتا ہے، یعنی جذبات کا سہارا لے کر صرف اپنے شوہر کو کنٹرول کرنا تاکہ وہ انہیں اس کام سے نہ روکیں۔

اس صورتحال سے تنگ آ کر اس مرد نے بالآخر ہار مان لی۔ انہوں نے شدید ڈپریشن اور تکلیف کی حالت میں بیوی سے کہا، “مجھ سے یہ بے غیرتی برداشت نہیں ہوتی، لہٰذا تم میرا گلا گھونٹ کر مجھے ختم کر دو تاکہ میں اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ نہ دیکھ سکوں۔” میرے پاس جب وہ سیشن لینے کے لیے آئے تو مجھ سے کہا، “بیٹا، میں تم سے بڑا ہوں، لیکن تم لوگوں کی نفسیات کو جانتے ہو، مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟”

ہمارا پہلا سیشن بہت اچھا رہا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ ان معاملات کو غصے کے بجائے حکمت اور پیار سے ہینڈل کرنے کی ضرورت ہے، تب ہی رشتہ بھی بچے گا اور نقصان بھی نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ تھی کہ بیٹیاں خود ماشاءاللہ تعلیم یافتہ تھیں اور اس زبردستی کے میل جول کو اچھا نہیں سمجھتی تھیں، لیکن وہ اپنی ماں کے ڈر اور ڈرامے کی وجہ سے ہاتھ ملا لیتی تھیں۔

اگر خاتون کے نظریے سے دیکھا جائے تو شاید ان کی نیت اپنی جگہ ٹھیک ہو کہ بیٹیوں کی شادی خاندان میں ہو جائے، لیکن ان کا طریقہ کار بالکل غلط تھا۔ زبردستی ہاتھ ملانے یا بات کرنے سے تعلقات نہیں بنتے۔ محبت دل کا معاملہ ہے، اور جب کوئی کسی کو دل سے اچھا نہ سمجھتا ہو اور آپ زبردستی محبت مسلط کریں، تو وہ محبت نہیں بلکہ منافقت کہلاتی ہے۔ اسلام بھی اس زبردستی کی اجازت نہیں دیتا۔

ہمارے چند سیشنز کے بعد، الحمدللہ معاملات بہتری کی طرف آنے لگے۔ ان صاحب کو سمجھ آ گئی کہ ان کی بیوی یہ سب اس ‘خوف’ سے کر رہی ہے کہ بیٹیاں ہاتھ سے نہ نکل جائیں، بیٹیاں اس ‘خوف’ سے سب کر رہی ہیں کہ ماں ناراض نہ ہو جائے، اور وہ خود اس ‘خوف’ میں مبتلا تھے کہ معاشرے میں بدنامی نہ ہو جائے اور لوگ بے غیرت نہ کہیں۔

میں نے انہیں کچھ خاص ٹولز (Tools) اور تکنیکیں سکھائیں۔ سب سے پہلے انہیں خود کا تجزیہ (Self-analysis) کرنا سکھایا، پھر بچیوں کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط کرنے، اور آخر میں بیوی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر کام کیا، کیونکہ گھریلو فیصلوں میں باہمی رضامندی بہت ضروری ہے۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق، وہ اپنے اس مشن میں کافی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے مزید آسانیاں فرمائے، آمین۔

ان کے واقعے کے توسط سے میرا پیغام تمام والدین کے لیے ہے کہ گھر میں ایک واضح باؤنڈری (Boundary) کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جب بیٹیاں جوان ہو جائیں تو انہیں حدود کا شعور دینا لازمی ہے۔ سب سے بڑھ کر، بچوں کے ساتھ محبت سے پیش آئیں اور اپنا تعلق اتنا مضبوط رکھیں کہ وہ اپنے دل کی ہر بات آپ سے شیئر کر سکیں۔

ہماری نوجوان نسل اکثر اسی لیے گمراہ ہوتی ہے کیونکہ والدین ان کی بات نہیں سنتے، ان پر یقین نہیں کرتے، اور انہیں ہمیشہ غلط ثابت کرتے ہیں۔ تب ہی بچے باہر محبت ڈھونڈتے ہیں، انجان لوگوں پر اعتبار کرتے ہیں اور بلیک میل ہوتے ہیں، جبکہ والدین بے خبر رہتے ہیں۔ بچوں کو اپنا دوست بنائیں۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب میاں بیوی کا اپنا رشتہ مضبوط ہو۔ جب والدین لڑتے ہیں، منافقت کرتے ہیں، تو بچے بھی منافقت ہی سیکھتے ہیں۔

اگر آپ کو میرا یہ پیغام اچھا لگا ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ سب کا بھلا ہو۔

Loading