Daily Roshni News

ایک بچہ ۔۔ ایک سچ ۔۔۔ انتخاب  ۔  میاں عمران

ایک بچہ ۔۔۔۔۔ ایک سچ

انتخاب  ۔  میاں عمران

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ایک بچہ ۔۔ ایک سچ ۔۔۔ انتخاب  ۔  میاں عمران)ایک بچہ… ایک سچ… اور ایک ایسا بادشاہ جس کی پوری سلطنت ایک جملے سے ہل گئی!

مسند احمد۔  صحیح مسلم     میں ایک ایمان افروز واقعہ بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا، جس کے پاس ایک جادوگر تھا

 جب جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا

میں اب کمزور ہو چکا ہوں، میری عمر پوری ہونے کو ہے، کسی ذہین بچے کو میرے حوالے کر دو تاکہ میں اسے جادو سکھا دوں۔

چنانچہ ایک سمجھدار لڑکا اس کے حوالے کر دیا گیا۔

وہ لڑکا روز جادوگر کے پاس جاتا، مگر راستے میں ایک راہب

 کا گھر آتا، جو عبادت اور وعظ میں مصروف رہتا تھا۔ لڑکا وہاں رک جاتا، اس کی باتیں سنتا اور اس کے طریقہ عبادت سے متاثر ہوتا۔

اس وجہ سے وہ جادوگر کے پاس دیر سے پہنچتا، تو جادوگر مارتا… اور گھر دیر سے آتا تو والدین ڈانٹتے۔

اس نے یہ بات راہب کو بتائی تو اس نے مشورہ دیا

جادوگر پوچھے تو کہنا گھر والوں نے روک لیا، اور گھر والے پوچھیں تو کہنا جادوگر نے روک لیا۔

یوں وقت گزرتا رہا…

ایک طرف وہ جادو سیکھتا، اور دوسری طرف دین اور اللہ کی پہچان۔

ایک دن اس نے دیکھا کہ راستے میں ایک خوفناک سانپ نے لوگوں کا راستہ روک رکھا ہے۔ لوگ پریشان کھڑے ہیں۔

لڑکے نے سوچا: آج سچ کا فیصلہ ہو جائے…

اس نے ایک پتھر اٹھایا اور دعا کی

اے اللہ! اگر تیرے نزدیک راہب کا دین جادوگر سے بہتر ہے تو اس جانور کو ہلاک کر دے…

پتھر لگتے ہی سانپ مر گیا… اور راستہ کھل گیا…

وہ راہب کے پاس گیا، تو اس نے کہا

اے بچے! آج تم مجھ سے افضل ہو… لیکن یاد رکھنا، تمہاری آزمائش آئے گی، اور اگر ایسا ہو تو میرا ذکر نہ کرنا۔

پھر اللہ نے اس بچے کو خاص مقام دیا…

اس کی دعا سے اندھے بینا ہونے لگے، بیمار ٹھیک ہونے لگے…

بادشاہ کا ایک اندھا وزیر بھی آیا، تحفے لایا اور کہا:

مجھے شفا دے دو، یہ سب تمہارا ہوگا…

لڑکے نے کہا:

میں شفا نہیں دیتا… شفا دینے والا صرف اللہ ہے… اگر تم ایمان لاؤ تو میں دعا کروں۔

وزیر ایمان لے آیا… دعا ہوئی… اور وہ ٹھیک ہوگیا…

جب وہ دربار میں گیا تو بادشاہ حیران ہوا اور پوچھا:

“تمہیں آنکھیں کس نے دیں؟”

اس نے کہا: “میرے رب نے”

بادشاہ بولا: “یعنی میں نے؟”

اس نے کہا: “نہیں، میرا اور تیرا رب اللہ ہے!

یہ سن کر بادشاہ غضبناک ہوگیا…

اسے سزا دی گئی… یہاں تک کہ اس نے بچے کا نام بتا دیا…

بچے کو بلایا گیا…

اسے بھی دین چھوڑنے کو کہا گیا… مگر اس نے انکار کر دیا…

پھر ظلم کی انتہا ہوگئی…

راہب کو آرے سے چیر دیا گیا…

اور بچے کو پہاڑ سے گرانے کی کوشش کی گئی…

مگر اس نے دعا کی:

اے اللہ! جیسے تو چاہے مجھے بچا لے…

پہاڑ ہل گیا… سپاہی گر گئے… بچہ بچ گیا…

پھر اسے سمندر میں پھینکنے کی کوشش ہوئی…

اس نے پھر دعا کی… اور اللہ نے اسے بچا لیا…

آخرکار بچہ خود بادشاہ کے پاس آیا اور کہا:

تم مجھے نہیں مار سکتے، جب تک میری بتائی ہوئی ترکیب نہ کرو…

اس نے کہا:

لوگوں کو جمع کرو، مجھے کھجور کے تنے سے باندھو، اور تیر چلاتے وقت کہو: ‘بسم اللہ رب ہٰذا الغلام

بادشاہ نے ایسا ہی کیا…

تیر لگا… اور بچہ شہید ہوگیا…

مگر فوراً ہر طرف آواز گونجی:

ہم اس بچے کے رب پر ایمان لائے!

بادشاہ گھبرا گیا…

جس دین کو روکنا چاہتا تھا، وہ پھیل گیا…

پھر اس نے خندقیں کھدوائیں، آگ جلائی…

اور حکم دیا:

جو دین سے پھر جائے اسے چھوڑ دو، ورنہ آگ میں ڈال دو!”

لوگ صبر کے ساتھ آگ میں کودنے لگے…

یہاں تک کہ ایک ماں اپنے بچے کے ساتھ آئی…

وہ ذرا ہچکچائی…

تو اللہ نے اس کے شیر خوار بچے کو بولنے کی طاقت دی…

اس نے کہا:

اماں! صبر کرو… تم حق پر ہو…

یہ واقعہ قرآنِ مجید کی سورۃ البروج میں بھی بیان ہوا ہے…

قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ

إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ

وَهُمْ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ

وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ

ہلاک کر دیے گئے خندقوں والے،

وہ آگ جو ایندھن سے بھری ہوئی تھی،

جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے،

اور جو کچھ وہ مومنوں کے ساتھ کر رہے تھے اُس کو خود دیکھ رہے تھے،

اور ان سے اُن کی دشمنی کی وجہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ اس اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست، ہر تعریف کے لائق ہے

ایمان جب دل میں مضبوط ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں ہلا سکتی…

صحیح مسلم، حدیث: 3005 (یا 3007 بعض نسخوں میں)

مسند احمد (مسند صہیب رضی اللہ عنہ)

سورۃ البروج: 4–8

Loading