ایک خط پانی میں ڈالا گیا
تحریر ۔۔۔ محمد عظیم حیات
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ایک خط پانی میں ڈالا گیا۔۔۔ تحریر ۔۔۔ محمد عظیم حیات)ہزاروں سال پہلے مصر کے لوگ کہتے تھے کہ اگر دریائے نیل کو راضی نہ رکھا جائے تو وہ نہیں بہے گا، اور اسے راضی رکھنے کے لیے ہر سال ایک لڑکی کو دریا میں ڈال دیا جاتا تھا۔ یعنی ہر سال ایک غیر فطری قربانی، پھر ایک دن ایک خط پانی میں ڈالا گیا، اور روایت ہے کہ سب کچھ بدل گیا۔
ساتویں صدی میں جب مصر اسلامی خلافت کے زیرِ اثر آیا اور حضرت عمرو بن العاصؓ وہاں کے گورنر مقرر ہوئے، تو مقامی لوگوں نے بتایا کہ نیل کے سالانہ بہاؤ کے لیے یہ رسم ضروری ہے ورنہ تباہی ہو گی، یہ بات مدینہ بھیجی گئی۔ جواب میں خلیفہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ایک تحریر بھیجی جس میں دریا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اگر تو اپنے اختیار سے بہتا ہے تو نہ بہہ، اور اگر اللہ کے حکم سے بہتا ہے تو پھر اسی کے حکم سے جاری رہ۔
روایت ہے کہ وہ خط دریائے نیل میں ڈالا گیا اور اس کے بعد پانی معمول کے مطابق بلند ہونا شروع ہو گیا، اور انسانی قربانی کی رسم ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔
یہ واقعہ تاریخ الطبری جلد 4، البدایہ والنہایہ از ابن کثیر جلد 7، اور فتوح مصر و اخبارہا از ابن عبدالحکم میں ذکر ہوا ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک اس روایت کے طرق میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے اسے ایک تاریخی روایت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں دریا کا نام “نیل” کے طور پر نہیں آیا، وہاں “یَمّ” کا لفظ آیا ہے، یعنی بڑا پانی یا دریا۔ تاہم امام طبری اور ابن کثیر سمیت متعدد مفسرین نے وضاحت کی ہے کہ اس سے مراد غالب امکان کے ساتھ مصر کا یہی دریا، یعنی دریائے نیل ہے، کیونکہ فرعون مصر کا حکمران تھا اور قرآن بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے گھر والوں نے پانی سے اٹھا لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دریا شاہی آبادی اور اقتدار کے مرکز کے قریب سے گزرتا تھا۔
اسی دریا کا ایک اور پہلو بھی قرآن میں ملتا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم پر جو عذاب کی نشانیاں آئیں، ان میں طوفان، ٹڈّی دل، جوئیں، مینڈک اور خون شامل ہیں۔ قرآن میں دریا کا نام واضح نہیں کیا گیا، مگر مفسرین نے اپنی تفاسیر میں لکھا ہے کہ مصر کے پانی، خصوصاً دریائے نیل کا پانی، ان کے لیے خون کی صورت اختیار کر لیتا تھا۔ وہ جب پانی بھرنے جاتے تو پانی سرخ ہو جاتا اور پینے کے قابل نہ رہتا، جبکہ بنی اسرائیل کے لیے وہی پانی صاف رہتا تھا۔ یوں وہی دریا جو زندگی کا ذریعہ تھا، عذاب کی علامت بن گیا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ آخر نیل سے اتنا خوف کیوں وابستہ تھا۔ وجہ صرف مذہبی یا توہمی نہیں تھی، بلکہ خالص عملی تھی۔ مصر کا زیادہ تر علاقہ ریگستان ہے۔ بارش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ سارا نظام صرف ایک دریا پر کھڑا تھا۔ ہر سال گرمیوں میں افریقہ کے جنوبی علاقوں میں ہونے والی بارشوں کی وجہ سے نیل میں سیلاب آتا تھا۔ اگر یہ سیلاب مناسب مقدار میں آتا تو زمین زرخیز ہو جاتی اور فصلیں لہلہاتیں۔ اگر پانی کم آتا تو پورا ملک قحط کا شکار ہو جاتا۔ اور اگر پانی حد سے زیادہ بڑھ جاتا تو بستیاں بہہ جاتیں اور تباہی پھیل جاتی۔ یعنی ایک ہی دریا زندگی بھی دیتا تھا اور موت کا خوف بھی۔ اسی غیر یقینی نے اسے لوگوں کی نظر میں ایک پراسرار طاقت بنا دیا تھا۔
دریائے نیل تقریباً 6,650 کلومیٹر طویل ہے اور اسے دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ افریقہ کے کئی ممالک سے گزرتا ہوا مصر پہنچتا ہے اور صحرا کے بیچ ایک سبز پٹی بنا دیتا ہے۔ مصر کی تقریباً 95 فیصد آبادی آج بھی نیل کے کنارے آباد ہے۔ قدیم مصر کے شہر، اہرام، کھیتی باڑی اور تجارت سب اسی پانی سے جڑے ہوئے تھے۔ اس دریا کے بغیر مصر صرف ریت کا ایک وسیع میدان ہوتا۔
جدید دور میں اسوان ہائی ڈیم کی تعمیر نے اس کے سالانہ سیلاب کو بڑی حد تک قابو کر لیا۔ آج مصر کی معیشت، بجلی اور زراعت اسی دریا پر کھڑی ہے۔ مگر تاریخ کا تجسس اپنی جگہ باقی ہے۔ ایک ہی دریا، جس کے کنارے موسیٰ علیہ السلام کی ٹوکری بہی، جس کا پانی فرعون کی قوم کے لیے نشانی بنا، اور جس کے بارے میں ہے کہ حضرت عمر کا لکھا ایک خط اس میں ڈالا گیا۔
ایک بات طے ہے، نیل آج بھی بہہ رہا ہے، اور کسی قربانی کے بغیر بہہ رہا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
پوسٹ اچھی لگے تو لائک اور شیئر ضرور کیجئے۔
دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن
#funpaaray #unbelievable #interesting #social #ancient #history #Amazing #Egypt #RiverNile
![]()

