ایک دلخراش تحریر ۔۔۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حضرت خبیب بن عدى سولی پر محبت کی انتہا یہ صرف۔ایک واقعہ نہیں … یہ محبت کا وہ مقام ہے جہاں عقل خاموش ہو جاتی ہے… اور دل بولتا ہے۔ یہاں ایمان دلیل نہیں دیتا… خود کو قربان کر دیتا ہے۔ یہ تحریر پڑھنے کے لیے نہیں … یہ اس لیے ہے کہ انسان اپنے اندر دیکھے میں کس سے محبت کرتا ہوں؟ اور پھر خود سے پوچھے: اس محبت کی قیمت کیا ہے؟
بدر کے بعد جلتی ہوئی آگ –
پس منظر یہ وہ وقت تھا جب بدر کا زخم قریش کے دلوں میں تازہ تھا… ان کے بڑے بڑے سردار مارے جا چکے تھے… ہر گھر میں غم تھا… اور ہر دل میں بدلہ … وہ صرف جنگ نہیں چاہتے تھے… وہ دلوں کو توڑنا چاہتے تھے… انہوں نے ایک چال چلی… مدینہ پیغام بھیجا ہمیں کچھ لوگ بھیجیں جو ہمیں دین سکھائیں” یہ دعوت نہیں تھی… یہ دھوکہ … تھا
روانگی – وہ لوگ جو اللہ کے لیے نکلتے ہیں -چند صحابہ نکلے… ان میں حضرت خبیب بن عدی بھی تھے … وہ جانتے نہیں تھے کہ یہ سفر واپسی کے لیے نہیں ” ہے… مگر وہ یہ جانتے تھے: ہم اللہ کے لیے جا رہے ہیں
دھوکہ – جب زمین کھسک جاتی ہے راستے میں اچانک حملہ … چاروں طرف سے گھیراؤ…. تلواروں کی چمک… چیخیں… خون… کچھ وہیں شہید ہو گئے… کچھ پکڑے گئے … حضرت خبیب بھی قید ہو گئے یہ وہ لمحہ ہے جہاں انسان کا دل لرزتا ہے یہ کیا ہوا؟” مگر ایمان کہتا ہے: “الله” کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں دشمنوں کے بیچ ایک عاشق مکہ
انہیں باندھ کر مکہ لایا گیا … یہ وہی شہر تھا جہاں کبھی مسلمان چھپ کر عبادت کرتے تھے … آج ایک صحابی قیدی بن کر داخل ہو رہا تھا مگر عجیب بات وہ شرمنده نہیں تھے وہ سر جھکا کر نہیں چل رہے تھے ان کے قدموں میں سکون تھا … کیونکہ وہ جانتے تھے: میں حق پر ” ہوں
قيد – انتظار جو انسان کو توڑ دیتا ہے —
دن گزرتے گئے… ہر دن ایک سوال کب؟” یہ انتظار سب سے مشکل ہوتا ہے موت اگر فوراً آ جائے تو آسان ہے مگر جب وہ قریب ہو … اور آ نہ رہی ہو… تو دل گھٹنے لگتا ہے حضرت خبیب بھی انسان تھے ان کے دل میں بھی خیالات آئے ہوں گے کیا میں مضبوط رہ سکوں گا؟ آخری لمحے میں کیا ہوگا؟ مگر پھر وہ وضو کرتے… نماز پڑھتے … اور دل میں سکون آ جاتا
کرامت – قید میں رزق
روایات میں آتا ہے: وہ قید میں انگور کھاتے تھے… جبکہ اس وقت وہاں انگور موجود نہ تھے یہ صرف کھانا نہیں تھا یہ پیغام تھا: “اللہ تیرے ساتھ ہے
فیصلہ – قتل نہیں، مثال بنانا —
قریش نے کہا: “اسے لوگوں کے سامنے مارو… تاکہ سب دیکھیں” یہ قتل نہیں تھا یہ خوف پھیلانے کا منصوبہ تھا
1۔
سولی – آخری میدان انہیں میدان میں لایا گیا … لوگ جمع … ہر آنکھ ان پر… یہ وہ لمحہ ہے جہاں دل کی حقیقت سامنے آتی ہے سوال آیا آخری خواہش؟” انہوں نے کہا: “مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو یہاں وقت رک جاتا ہے وہ کھڑے ہوئے… ہاتھ باندھے … آنکھیں بند… نماز شروع … بر رکعت … آخری رکعت … بر سجده … آخری سجدہ … یہ صرف نماز نہیں تھی یہ ملاقات تھی جب سلام پھیرا… تو فرمایا: “اگر تم یہ نہ سمجھتے کہ میں ڈر گیا ہوں… تو میں نماز کو اور لمبا کرتا یہ جملہ … یہ انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے
آخری سوال محبت کا فیصلہ
–
انہوں نے پوچھا: کیا تم چاہتے ہو کہ محمد ﷺ تمہاری جگہ ہوں؟ یہاں سب کچھ رک گیا یہ سوال نہیں تھا یہ دل کا امتحان تھا اگر وہ ہاں کہہ دیتے… تو شاید جان بچ جاتی مگر جواب آیا: اللہ کی قسم مجھے یہ بھی گوارا … نہیں کہ انہیں کانٹا بھی چبھے
اور میں یہاں محفوظ رہوں یہ محبت نہیں یہ فنا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں انسان خود کو ختم کر دیتا ہے
سولی
انہیں باندھا گیا… رسی کھینچی گئی… جسم اوپر اٹھا …. ہوا میں لٹکتا جسم… نیچے ہجوم… ہر وار… بر درد… مگر چهره؟ پرسکون کیونکہ دل کہیں اور تھا
سانسیں کمزور… جسم تھکا ہوا … مگر دل میں ایک ہی نام “یا رسول الله ﷺ اور پھر… وہ خاموش ہو گئے وہ ختم نہیں ہوئے وہ زندہ ہو گئے کیونکہ جو اللہ کے لیے مرتا ہے… وہ کبھی نہیں مرتا اصل سبق
یہ واقعہ چیخ کر کہتا ہے ایمان اصول نہیں … محبت ہے اور محبت؟ وہ جو تم سے سب کچھ لے لے
آخری دعا
اے الله … ہمیں وہ دل دے … جو درد میں بھی تیرے نبی الله ﷺ سے محبت نہ چھوڑے… ہمیں وہ آنکھیں دے… جو سچ دیکھ کر رو پڑیں … اور ہمیں وہ انجام دے… جو تیرے محبوبوں کا تھا آمین
![]()

