ایک دیوانے سے انٹرویو
تحریر۔۔۔احسان مالک
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ایک دیوانے سے انٹرویو۔۔۔ تحریر۔۔۔احسان مالک)ایک شہر میں جو کہ علم ودانش کا گہوارہ تھا، ایک شخص مطالعے کی زیادتی سے دیوانہ ہو گیا۔ یہ دیوانہ شہر کے ایک بڑے چوک میں بیٹھارہتا۔ اس کے گرد طلباء، ادیب، شعرا، دانشور اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے متعلق افراد کی بھیڑ لگی رہتی۔ لوگ طرح طرح کے سوال کرتے اور دیوانہ ان سوالوں کے جواب دیتا۔
دیوانے سے پو چھا گیا: “باشعور انسان کی پہچان کیا ہے اور بے شعور انسان کی پہچان کیا ….؟
اس نے کہا: ” باشعور دوسروں کا بھلا چاہتا ہے اور خود تکلیف میں رہتا ہے، بے شعور اپنا بھلا چاہتا ہے اور آرام میں رہتا ہے۔“
پو چھا گیا: “جدید تہذیب کا المیہ کیا ہے…..؟” دیوانے نے کہا: “یہ کہ آسٹریلیا میں بیٹھا ہوا انسان امریکہ میں بیٹھے ہوئے انسان کی آواز تو سن سکتا ہے، مگر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے دل کاحال نہیں جان سکتا۔“
پوچھا گیا: ”آزادی کیا ہے اور غلامی کیا ….؟” کہا: “آزادی نام سے اعلیٰ اقدار کی قید “ کا اور غلامی نام ہے جہل کی آزادی“ کا !
پوچھا گیا: کون سا طرز عمل اختیار کیا جائے کہ لوگ نہیں برا نہ کہیں۔“
کہا: “اگر کوئی شخص فرشتہ بھی بن جائے تو اس کو برا کہنے والے لوگ دنیا میں موجود در ہیں گے۔“
پوچھا گیا: سب سے بڑی ذہنی بیماری کیا ہے….؟
کہا: ” وراثت میں ملی ہوئی دولت ۔ “
دنیا میں چھوٹا آدمی کون ہوتا ہے اور بڑا کون ….؟”
چھو ٹا وہ ہے جو دنیا سے کچھ لینا چاہے، بڑا وہ ہے جو دنیا کو کچھ دینا چاہے۔“
پوچھا گیا: ” عیاشی کا اور ضرورت کا مفہوم کیا ہے…..؟”
یہ کہ روٹی غریب کے لیے عیاشی ہے اور شراب و چنگ و رباب صاحب ثروت کے لیے ضرورت ہے۔“
پو چھا گیا: ”کون سا کام دنیا میں سب سے مشکل ہے۔
کہا: “اپنی کمزوریوں سے آگاہی حاصل کرنا۔ “
پو چھا گیا: کس چیز سے ڈار ناضروری ہے …؟ کہا: ” بے وقوف انسان سے۔”
پوچھا گیا: ”جرات اور حوصلے کی نشانی کیا ہے.. کہا: “حقائق کو تسلیم کرنا۔“
پو چھا گیا: “جمہوریت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
کہا: یہ کہ دنیا میں جاہل ہمیشہ اکثریت میں اور دانا ہمیشہ اقلیت میں رہیں گے۔“
پوچھا گیا: “کیا وجہ ہے آپ سرمایہ داروں کو مفلس کہتے ہیں۔“
کہا: ” اس لیے کہ دولت ” اس استغنا کا نام ہے جو سرمایہ داروں کو کبھی میسر نہیں آسکتی۔” پو چھا گیا: “آپ خوش پوشاک لوگوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں ….؟
کہا: اس لیے کہ جو اوپر سے اجلے نظر آتے ہیں، عموماً اندر سے میلے ہوتے ہیں۔”
پوچھا گیا: کسی انسان کی شرافت کا بہترین امتحان کیا ہے….؟”
کہا: اس سے بدی کر کے دیکھیے ۔ “ پوچھا گیا: کسی معاشرے میں نا انصافی اگر انتہا کو پہنچ جائے تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے …؟” کہا: ”انصاف۔“
پوچھا گیا: “لوگ دنیا میں دکھ کیوں اٹھاتے ہیں ….؟”
کہا: “دکھ اُٹھا ناز ندگی کی شرط اولین ہے، بعض لوگ اپنی بدی کی وجہ سے اور بعض اپنی نیکی کی وجہ سے دکھ اٹھاتے ہیں۔“
پو چھا گیا: “جانور کس بات میں انسان سے افضل ہیں ….؟”
کہا: “جانور خوش رہنا جانتے ہیں، انسان اس فن سے نابلد ہے۔” پوچھا گیا: “غمزدہ تو ہر کوئی ہوتا ہے، یہ کیا وجہ ہے کہ کوئی سدار و تارہتا ہے اور کوئی ہر وقت متبسم دکھائی دیتا ہے…؟”
کہا: “وہ جو روتے دکھائی دیتے ہیں، ان کے سامنے فقط اپنا غم ہوتا ہے۔ جو مسکراتے نظر آتے ہیں، سارے جہاں کا غم دل میں لیے ہوتے ہیں۔“ پو چھا گیا: “کیا وجہ ہے کہ آپ بعض لوگوں کو پتھر کہتے ہیں ..؟”
کہا: ”جو لوگ اچھے کام کی داد نہیں دے سکتے اور برے کام پر ملامت نہیں کر سکتے ، ان کو میں پتھر کہتا ہوں، کیونکہ میرے نزدیک پتھر کی سب سے بڑی صفت ہی ہے۔”
پوچھا گیا: “دنیا میں کون سا زہر سب سے زیادہ مہلک ہے….؟”
کہا: فاحشہ عورت کا طعنہ اور کمینے مرد کا قصہ !”
پوچھا گیا: ” سچی خوشی کا راز کیا ہے….؟” کہا: ” سچا غم !” پو چھا گیا: “کیا وجہ ہے کہ خواتین کو کم عقل سمجھا جاتا ہے….؟” کہا: اس وجہ سے کہ وہ مردوں کی تمام حماقتوں سے واقف ہوتی ہیں۔ “
پوچھا گیا: “دنیا کا سب سے مشکل عقدہ کیا ہے….؟” کہا: “انسان” پو چھا گیا: ڈپلومیسی کا مطلب کیا ہے…..؟
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2017
![]()

