Daily Roshni News

ایک دیوانے سے انٹرویو۔۔۔ تحریر۔۔۔احسان مالک۔۔۔قسط نمبر2

ایک دیوانے سے انٹرویو

تحریر۔۔۔احسان مالک

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ایک دیوانے سے انٹرویو۔۔۔ تحریر۔۔۔احسان مالک) کہا: ” غریب آدمی اگر جھوٹ بولے تو اسے دھوکا، فریب اور ریاکاری کہیں گے۔ امیر آدمی اگر ہی حرکت کرے تو اسے ڈپلومیسی کہا جائے گا۔ “ پوچھا گیا: ” عقلمند انسان کی کتنی قسمیں ہیں ….؟

کہا: “فقط دو۔ ایک وہ جو یہ جانتے ہیں کہ وہ بے وقوف ہیں، دوسرے وہ جو اس حقیقت سےواقف نہیں۔“

پو چھا گیا: ”راہنرن اور رہبری میں کون سی بات مشترک ہے….؟

کہا: “یہ کہ دونوں ہی ناقابل فراموش درس دیتے ہیں۔”

پو چھا گیا: “کیا انسان کا چہرہ اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے….؟”

کہا: ”آئینہ دار تو نہیں پر دو دار ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: ” انسان کس چیز سے زیادہ

ڈرتا ہے….

کہا: “انسان سے ۔ “

پوچھا گیا: “عالم کی پہچان کیا ہے اور جاہل کی پہچان کیا….؟

کہا: “عالم کا پیٹ خالی ہوتا ہے اور جاہل کا دماغ “

پو چھا گیا: ” معاشرے کا ناسور کون لوگ ہیں ..؟”

کہا: ”وہ لوگ جو دوسروں کی زبان کے ہر لفظ کو، اور دوسروں کے جسم کی حرکت کو منفی مفہوم دینے پر مجبور ہیں۔”

پوچھا گیا: “سرمایہ طاقتور ہے یا محنت۔“ کہا: “سرمایه …. کیونکہ ایک نحیف و نزار بوڑھا

سرمایہ دار، ایک جوان، مگر مفلس پہلوان سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے!”

پوچھا گیا: ” دوستی کی بنیاد کیا ہے ….؟ کہا: “وانائی…. کیونکہ دانا افراد میں ایک جیسی صفات ہوں تو وہ دوست بن جائیں گے اور اگر دو جاہلوں میں ایک کی صفات ہوں تو وہ دشمن بن جائیں گے ۔ “

پوچھا گیا: “کیا کبھی انسان خوش بھی رو سکے گا….؟”

کہا: ہاں، اس وقت جب اپنی وہ توانائی جو دوسروں کو دکھ پہنچانے میں صرف کرتا ہے، وہی توانائی دوسروں کو سکھ پہنچانے کے کام لائے۔“ پوچھا گیا: ” نروان کیسے حاصل

ہو سکتا ہے….؟”

کہا: “زندگی میں ایک مقام ایسا بھی ہے جس پر پہنچ کر انسان کو دوسروں کا دکھ اپنا دکھ اور دوسروں کا سکھ اپنا سکھے معلوم ہونے لگتا ہے۔ میرے خیال میں “روان” یہی ہے۔

پوچھا گیا: “انسان کے لیے بہترین غذا کیا ہے….؟”

کہا: “اگر کھانے کا سلیقہ آتا ہو تو غم بہترین غذا ہے۔”

پو چھا گیا: ” آج کے انسان کا بڑا مسئلہ کیا ہے….؟”

کہا: ” آج کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ خوف ہے کہ رات کو اسے دشمنوں کا ڈر ہوتا ہے اور دن کو  دوستوں کا پوچھا گیا: “کسی معاشرے کی پسماندگی اور تہذیب کی علامات کیا ہیں ….؟”

کہا: “کسی معاشرے کے پسماندہ ہونے کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس میں فقط اس انسان کی عزت و تکریم کی جاتی ہے جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کا اہل ہو۔ مہذب معاشرے کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس انسان کی عزت و تکریم کی جاتی ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا اہل ہو !” پو چھا گیا: ” تاریخ کا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟

کہا: “تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں بد فطرت افراد نے نیک سرشت لوگوں کی، اور جاہلوں نے داناؤں کی زندگی برباد کی۔“

پو چھا گیا: “ہمارے معاشرے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے …. ؟

کہا: “ہمارا معاشرہ ایک اذیت پسند معاشرہ ہے۔ اس کا سب سے واضح ثبوت حقیقت سے ملتا ہے کہ ہم سے اکثر لوگ دوسروں کو دکھی دیکھ کر اطمینان حاصل کرتے ہیں اور دوسروں کی خوشی سے آزردہ ہوتے ہیں۔

پو چھا گیا: “زندگی گزار ناسب کے لیے یکساں طور پر مشکل ہے…..؟”

کہا: “عام انسانوں کی طرح زندگی گزارنا مشکل نہیں۔ مشکل اس وقت آن پڑتی ہے جب ہم عام انسانوں کی نسبت زیادہ شریف یا زیادہ رزیل بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ “

پو چھا گیا: “کیا ہر انسان عمر کے ساتھ ساتھ تجربہ کار ہو تا چلا جاتا ہے….؟”

کہا: “ہر انسان تجربہ کار نہیں ہوتا۔ تجربہ کار وہ ہوتا ہے جو اپنے تجربے کو صحیح معانی اور درست مفہوم سے آشنا کر سکے ۔ “

پو چھا گیا: “عقلمند اور بے وقوف کے درمیاں قدر مشترک کیا ہے….؟”

کہا: “انتہائی احمق اور انتہائی عقلمند انسان میں ایک بات مشترک ہوتی ہے کہ دونوں اپنی رائے بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔“

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2017

Loading