ایک سابق جادوگر کا چونکا دینے والا اعتراف
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )”وہ انسان اپنی جگہ موجود تھا…مگر جنّات کہتے تھے:
ہم نے پورا عالم چھان مارا، مگر وہ ہمیں نظر ہی نہ آیا!”
ایک شخص جو برسوں تک جادو کے عمل میں مبتلا رہا، توبہ کے بعد ایک ایسی حقیقت بیان کرتا ہے جو دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ لوگوں پر جادو کرنے کے لیے جنّات کو بھیجا کرتا تھا۔ بعض لوگوں پر جادو فوراً اثر کر جاتا تھا، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے تھے جن کے بارے میں جنّات ناکامی کے ساتھ واپس لوٹ آتے تھے۔
وہ بیان کرتا ہے کہ بعض اوقات جنّات یہ کہتے تھے:
“ہم نے ان کی آواز تو سنی، مگر انہیں دیکھ نہ سکے۔”
کچھ کے بارے میں ان کا کہنا ہوتا:
“ہم نے انہیں دور سے دیکھا، مگر وہ اچانک ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔”
اور کچھ افراد ایسے بھی تھے جن تک پہنچنے میں جنّات مکمل طور پر ناکام رہتے اور کہتے:
“ہم نے ہر ممکن کوشش کی، مگر ہم ان تک پہنچ ہی نہ سکے۔”
یہ بات سن کر وہ خود بھی حیران ہو جاتا۔ اس نے جنّات سے پوچھا کہ جب وہ شخص اپنی جگہ موجود تھا تو پھر وہ انہیں نظر کیوں نہ آیا؟ اس پر جنّات کا جواب اور بھی زیادہ چونکا دینے والا تھا:
“ہم وہاں گئے تھے… مگر وہ ہمیں نظر ہی نہ آیا۔”
اس نے یہاں تک کیا کہ انتہائی طاقتور جنّات بھیجے، مگر وہ بھی ناکام واپس آئے اور یہی کہا:
“ہم نے پورے عالم کی تلاش کی، مگر اس شخص کو ڈھونڈ نہ سکے۔”
یہ راز اس پر توبہ کے بعد کھلا۔ اسے احساس ہوا کہ انسان کی اصل روحانی حفاظت کسی تعویذ، دھاگے یا ظاہری عمل میں نہیں، بلکہ اللہ کے ذکر اور نماز کی پابندی میں ہے۔ جو لوگ اللہ کی یاد سے غافل ہوتے ہیں، ان پر جادو جلد اثر کر جاتا ہے۔ جو کبھی ذکر کرتے ہیں اور کبھی غفلت میں چلے جاتے ہیں، ان کے بارے میں جنّات کہتے ہیں کہ ہم نے آواز سنی، مگر وہ نظر نہ آیا۔
اور جو لوگ مستقل نماز، قرآن اور اللہ کے ذکر کے حصار میں رہتے ہیں، ان کے بارے میں جنّات یہ اعتراف کرتے ہیں:
“ہم نے پورا عالم چھان مارا، مگر اس شخص کو ڈھونڈ نہ سکے۔”
یہ واقعہ ہمیں ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ اصل حفاظت دنیاوی سہاروں میں نہیں، بلکہ
👉 اللہ کی یاد
👉 قرآن کی تلاوت
👉 اور نماز کی پابندی میں ہے۔
جو شخص اللہ کے ذکر میں جیتا ہے، وہ شیطان اور اس کے لشکروں کے لیے یوں ہوتا ہے جیسے موجود ہوتے ہوئے بھی غائب ہو۔
![]()

