ایک لیٹر پیٹرول
تحریر۔۔۔ابن آس محمد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میں پریس کلب سے نکلا تو بائیکیا رائڈر میرا منتظر تھا۔وہ دروازے کے عین سامنے کھڑا تھا۔وقت پر آگیا تھا۔فون کرکے لوکیشن سمجھنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی ۔عام طور پر بائیکیا رائڈر خون تھکوادیتے ہیں ،لوکیشن سے پرے کہیں کھڑے ہوجاتے ہیں ، اور فون کرکے کہتے ہیں کہ میں لوکیشن پہ پہنچ گیا،باہر نکلو تو دور دور تک پتا نہیں ہوتا ،وہ کہیں اور کھڑے ہوتے ہیں ،فون پر ہی بدتمیزی کرنے لگتے ہیں کہ جو لوکیشن لگائی ہے میں وہیں ہوں ۔مگر یہ عین پریس کلب کے دروازے پہ تھا،پہنچتے ہی میسج کردیا تھا کہ میں پہنچ گیا ہوں ۔
اسٹریٹ لائٹ کی زرد روشنی اس کے اوپر یوں پڑ رہی تھی جیسے کسی نے اس پر ہلکی سی گرد چھڑک دی ہو۔ سر جھکا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ ہینڈل پر رکھے ہوئے، دوسرا موبائل پر۔۔ مگر مجھے دیکھتے ہی اس نے فوراً موبائل ہولڈر پہ لگالیااور سیدھا ہو گیا۔استفہامیہ انداز میں پوچھا۔
“اختر صاحب۔۔؟”
” جی ۔۔آپ ۔۔نعمان ۔۔؟”
” جی ہاں ۔۔بیٹھیے ۔۔”
رائڈربہ ظاہر نوجوان تھا،مگر شاید حالات کی گرد نے ادھیڑ عمری کو پہنچا دیا تھا۔پتلاسا چہرہ ،آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی ،چہرے پر فکر اور پریشانیوں کی پرچھائیاں ،بشرے سے وہ خاصا تھکا ہوا ،اور کچھ نڈھال محسوس ہوا۔
موٹر سائیکل پرانی تھی۔ سیٹ کے کنارے گھس چکے تھے۔ہینڈل کے قریب موبائل ہولڈر لگا ہوا تھا۔ ہیڈ لائٹ کے اوپر دھول کی باریک تہہ جمی ہوئی تھی۔ کراچی کی سڑکیں پچھلے بہت سے مہینوں سے کھدی ہوئی ہیں، پورا شہر دھول دھول ہے،موٹر سائیک کے اکثر پرزوں ،اور پہیوں پہ اس دھول کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی ۔
میں پیچھے بیٹھ گیا۔اس نے ایک ہلکی سی کک ماری۔ موٹر سائیکل نے ایک کھانسی سی لی اور پھر چل پڑی۔
رات ساڑھے گیارہ بجے تھے،اور رات کا راہی وقت سے کچھ پہلے گھر کی طرف چل پڑا تھا۔گھر جلدی جانا میرے معمولات میں کبھی شامل نہیں رہا۔کراچی کی راتوں میں جانے کیا سحر ہے ،کیا جادو ہے کہ میں کہیں بھی ہوتا ہوں تودیر تک وہیں ہوتا ہوں ،گھر کی طرف نکلنے کا خیال ہی اس وقت ذہن میں آتا ہے جب بیٹھے بیٹھے تھک جاؤں ،بور ہوجاؤں ،یا کوئی اور کام نہ رہے ۔
آدمیوں کی یہی خرابی ہے ،اپنے آرام کے لیے گھر بناتے ہیں اور تب ہی گھر جاتے ہیں جب آرام کرنے کا احساس ذہن میں آجائے ۔
پریس کلب کے باہر ابھی زندگی کی کچھ باقیات موجود تھیں۔ باہر بہت سی موٹر بائیک خاموش کھڑی تھیں ،کسی چینل کی ایک وین کھڑی تھی ،چینل کے دو ملازم باہر کھڑے تھے ارو وین کی اگلی نشست پہ بیٹھی خوب صورت سی لڑکی کو متاثر کرنے کے لیے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے ۔
” یہ ان میں سے کسی ایک سے پھنس جائے گی ۔۔”میرے ذہن میں خیال آیا۔
“یا ان میں سے کوئی ایک اس کا ہو جائے گا ،دوسرا اس سے محبت کرتا رہے گا ۔۔”
اس طرح کے سچے جھوٹے خیال میرے ذہن میں آتے ہی رہتے ہیں ،اسی وقت لڑکی نے ہلکا سا قہقہہ لگا یا تو موٹر بائیک آگے نکل گئی ۔دو آدمی سڑک پہ باتیں کرتے آرہے تھے۔آواز اونچی تھی ،شاید کسی اہم سیاسی بحث کے آخری جملے بول رہے تھے۔ ایک رکشہ خالی کھڑا تھا، جیسے کسی مسافر کا انتظار کرتے کرتے تھک گیا ہو۔
ہم پریس کلب والے روڈ سے نکل کر زینب مارکیٹ کی طرف مڑنے والی سڑک پہ آگئے ۔
ہوا میں عجیب سی خنکی تھی۔ کراچی کی راتیں کبھی کبھی اچانک نرم ہو جاتی ہیں، جیسے شہر کو بھی تھوڑی دیر کے لیے سکون مل گیا ہو،اور کبھی گرم ہوجاتی ہیں ،بے سکون کر دیتی ہیں ۔
نصف رات ہونے کو تھی اور سڑکوں پہ معمول سے زیادہ ٹریفک تھا۔ہم شاہ راہ فیصل پہنچ چکے تھے ۔کچھ دیر خاموش رہے۔پھر میں نے پوچھا۔
“کتنے گھنٹے چلاتے ہوبائیکیا۔۔؟”
وہ دھیرے سے سا ہنسا۔
“نہیں صاحب۔۔سارا دن نہیں چلاتا۔۔ دن میں دکان پر ہوتا ہوں۔”
“کون سی دکان۔۔؟”
“موبائل ٹھیک کرتا ہوں۔۔ چھوٹی سی دکان ہے۔۔تھوڑی سی تن خواہ ہے ۔”
اس نے جیسے ایک جملے میں پوری کہانی سمیٹ دی۔
پھر تھوڑی دیر بعد خود ہی بولا۔
“میں اصل میں۔۔ واپسی میں رائیڈ لے لیتا ہوں۔”
“کیوں۔۔؟” میں نے پوچھا۔
اس نے کندھے ہلائے۔”خالی کیوں جاؤں۔۔تین سو روپے تک بن جائیں تو ٹھیک ہے۔۔”
ہم ایک موڑ سے گزرے۔ سڑک کے کنارے ایک چائے کا ہوٹل تھا۔ دو آدمی بنچ پر بیٹھے تھے۔ کیتلی سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ ایک سگریٹ جل رہا تھا۔شہر کی راتوں میں ایسے مناظر ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔
موٹر سائیکل چلتی رہی۔وہ پھر بولا۔
“میں روز گھر سے نکل کرصبح ایک لیٹر پٹرول ڈلواتا ہوں۔”
میں نے کہا۔
“صرف ایک لیٹر؟”
“جی۔۔ایک لیٹر کافی ہوتا ہے ۔۔آنا جانا ہو جاتا ہے۔۔صبح بہن کو نرسری پہ اس کے آفس تک چھوڑنا ہوتا ہے ۔۔رات کو واپسی پہ رائیڈ لے لیتا ہوں ۔۔ “
پھر ہلکا سا قہقہہ لگایا۔
“زندگی بھی اب لیٹر کے حساب سے چل رہی ہے۔”
موٹر سائیکل سگنل پر رک گئی۔حالاں کہ یہاں رات کے اس وقت سڑک خالی تھی۔اس نے ہینڈل پر ہاتھ ڈھیلے چھوڑ دیے۔
پھر اچانک بولا۔”صاحب، مسئلہ پٹرول نہیں ہے۔”
میں نے کہا۔”پھر۔۔؟”
“مسئلہ یہ ہے کہ جینا مہنگا ہو گیا ہے۔۔ایک ایک روپیہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنا پڑتا ہے ۔۔عزت بچانا مشکل ہو گیا ہے ۔۔اب ہم بھیک تو نہیں مانگ سکتے ۔۔محنت اور حلال کمانے کی عادت ہوگئی ہے ۔۔”
پھر خاموش ہو گیا۔میں بھی چپ ہی رہا۔وہ چند سیکنڈ بعد بولا۔
“گھر کا خرچ دیکھو ۔۔، بچوں کی فیس دیکھو۔۔، دودھ۔۔راشن ۔۔ آدمی کبھی کبھی سوچتا ہے کہ وہ زندہ ہے یا حساب کی کاپی بن گیا ہے۔”
سگنل سبز ہوا۔موٹر سائیکل پھر چل پڑی۔وہ بولتا رہا۔
“میری بیوی کہتی ہے اتنی محنت کرتے ہو، پھر بھی پیسے کہاں جاتے ہیں۔”
وہ پھر ہنسا۔
“میں اسے کیا بتاؤں۔۔ پیسے جاتے نہیں صاحب۔۔، مہنگائی انہیں کھا جاتی ہے۔۔”
ہم اس سڑک کے قریب پہنچ گئے جہاں مجھے اترنا تھا۔
رات اور گہری ہو چکی تھی۔ اسٹریٹ لائٹس لمبی لمبی لکیریں بنائے کھڑی تھیں۔
میری منزل آگئی ۔موٹر سائیکل رک گئی۔اس نے موبائل دیکھا۔
“صاحب، دو سو اکیاسی روپے۔۔”
میں نے جیب سے پیسے نکالے اور اسے تین سو تیس روپے دے دیے۔
اس نے فوراً تیس روپے الگ گیے۔
“یہ زیادہ ہیں۔۔بیس روپے د ے رہا ہو ں ۔۔”
اس نے اپنی شرٹ کی اوپری جیب سے بیس کا مڑا تڑا نوٹ نکال لیا۔میں نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
“رکھ لو۔”
وہ مجھے دیکھنے لگا۔میں نے کہا۔
“پٹرول مہنگا ہو گیا ہے نا۔۔پچاس روپے بڑھ گئے ہیں۔۔ اب ایک لیٹر تین سو تیس کا آئے گا۔۔دو سو اسی کا نہیں ۔۔”
چند لمحے وہ مجھے دیکھتا رہا۔اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی ۔آنکھوں میں کچھ تھکن تھی، اور شاید تھوڑی سی شرمندگی بھی۔اس نے پیسے جیب میں رکھے۔ موٹر سائیکل اسٹارٹ کی۔دھیرے سے بولا۔
“آج پچاس روپے نے خود داری ماردی ۔۔ایک لیٹر پیٹرول میری اوقات سے زیادہ مہنگا ہو گیا۔۔”
۔۔۔۔۔
( ختم شد )
![]()

