بابا تاج الدین اولیا ءؒ
قسط نمبر(2)
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2019
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ بابا تاج الدین اولیا ءؒ) (سن 1879 تا1880)تب کا مٹی میں بہنے والے کنہان دریا میں سیلاب آگیا۔ سیلاب سے ان کے مکان کو بھی کو کافی نقصان پہنچا۔
سن 1881ء میں ان کے ماموں عبد الرحمن نے انہیں ناگپور کی ریجمنٹ نمبر 13 میں بھرتی کروا دیا۔ فوج میں تین سال ملازمت کے بعد انہیں ساگر ( مدھیہ پردیش) جانا پڑا۔
ساگر مدراسی پلٹن کے خیمہ ( ملٹری کیمپ ) میں پہنچنے کے بعد دوران ملازمت وہیں ایک علاقے پیلی کو ٹھی میں سلسلہ چشتیہ کے بزرگ حضرت داؤد کی کے مزار پر تشریف لے جاتے۔ (حضرت داؤد مکی، خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی کے خلیفہ تھے اور خواجہ شمس الدین ترک کو مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری سے خلافت ملی تھی۔ حضرت داؤد مکی اپنے مرشد کے حکم پر ساگر آئے اور یہیں وصال فرمایا)۔ تاج الدین فوجی ملازمت کے سلسلے میں ساگر میں قیام کے دوران آپ نے بابا داؤد مکی کے مزار پر تقریباً دو سال ریاضت و مراقبے میں گزارے۔ بابا تاج الدین کا معمول تھا کہ دن میں کام کے بعد پوری رات داؤد کی ساگری کے مزار اقدس پر گزارتے اور یاد الہی میں محو رہتے۔ کامٹی میں جب نانی کو اس بات کی خبر ہوئی کہ نواسہ راتوں کو غائب رہتا ہے تو انہیں فکر ہوئی کہ نانی صاحبہ ساگر جاپہنچیں تا کہ یہ معلوم کریں کہ نواسہ راتوں کو کہاں رہتا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ تاج الدین خدا کی بندگی میں راتیں گزارتا ہے تو نانی کو اطمینان ہوا اور وہ نواسے کو دعائیں دیتی ہوئی واپس چلی گئیں۔
رفته رفته تاج الدین کا وقت داؤد مکی کی درگاہ پر زیادہ اور ڈیوٹی پر کم رہنے لگا۔ ایک روز فوج کے کیپٹن کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ تاج الدین ڈیوٹی کے اوقات میں پہلی کو ٹھی کی درگاہ پر دیکھے گئے ہیں۔ اس کیپٹن نے تاج الدین کو تنبیہ کی اور کہا کہ پورے وقت ڈیوٹی پر حاضر رہا کریں، میں نوٹ کروں گا …! تاج الدین کو ملٹری کیمپ میں اسلحہ خانے پر پہرہ دینے کا کام سونپا گیا ، ایک رات دو بجے کے قریب فوج کا کیپٹن اچانک معائنے کے لیے آگیا۔ اس نے دیکھا کہ تاج الدین مستعدی سے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ کیپٹن انہیں دیکھ کر مطمئن روانہ ہو گیا۔ آدھے فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی مسجد کے پاس سے گزرا ۔ مسجد کا صحن چاندنی رات میں صاف نظر آرہا تھا۔ کیپٹن نے دیکھا کہ وہ جس سپاہی کو پہرہ دیتے دیکھ کر آیا ہے۔ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ مسجد کے صحن میں نماز ادا کر رہا ہے۔ سپاہی کو ڈیوٹی سے غفلت برتتے دیکھ کر اسے سخت غصہ آیا اور وہ واپس اسلحہ خانے آیا۔ انگریز کیپٹن سپاہی کو اپنی جگہ دیکھ کر سخت حیران ہوا اور کچھ کہے بغیر مسجد کا رخ کیا اور وہاں جاکر وہ حیران و ششدر رہ گیا کہ تاج الدین اسی طرح محویت کے عالم میں مصروف عبادت تھے۔ وہ ایک بار پھر اسلحہ خانے تصدیق کے لئے گیا اور وہاں ڈیوٹی دیتے دیکھ کر اس نے قریب آکر غور سے دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے یا کوئی اور ؟ اس نے تاج الدین سے بات چیت کر کے اپنی پوری تسلی کر لی کہ ہاں یہ وہی شخص ہے۔
دوسرے دن ایک افسر کے سامنے تاج الدینکی پیشی ہوئی۔ کیپٹن نے رات کے واقعے کی چشم دیدگواہی دی۔ تاج الدین سے پوچھا گیا کہ تم ڈیوٹی چھوڑ کر عبادت کر رہے تھے یا بیک وقت ڈیوٹی بھی ادا کر رہے تھے اور عبادت بھی۔ اگر آخری بات سچ ہے تو صاف صاف بتاؤ تم ایک وقت میں دو کام کس طرح انجام دیتے ہو ؟
یہ سننا تھا کہ تاج الدین کو جلال آگیا۔ انہوں نے پیٹی بندوق، وردی سمیت تمام سرکاری سامان لا کر افسر کی میز پر رکھ دیا اور فرمایا:
لوجی حضت! اب ہم دو دو نوکریاں نہیں کرتے جی حضت ” یہ کہہ کر تاج الدین فورا کمرے سے نکل گئے۔ ناگ پور اور جبل پور شہروں کو ملانے والی شاہراہ کامٹی اور رام ٹیک سے ہو کر گزرتی ہے۔ یہاں سے بہت بڑا پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے گھنے جنگلوں میں قدم قدم پر شیر، خوں خوار کئی درندے گھومتے ہیں۔ دنیا کے زہر یلے ترین سانپ بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔
ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بابا تاج الدین نے زیادہ تر وقت ناگپور سے متصل واکی کے گھنے جنگلوں میں گزارا، وہاں تاج الدین بابا نے کئی برس تک بلا خوف و خطر ریاضت کی۔ کبھی کبھار ریاضت کے بعد آپ ستپڑا پہاڑ کی بلندیوں اور گھنے جنگلوں سے اتر کر بستیوں میں آجاتے۔ جذب و کیف کا یہ عالم تھا کہ انہیں کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کا احساس بھی نہ رہتا۔
ادھر تاج الدین کے استعفیٰ کی خبر ان کے گھر پہنچی تو نانی نے پھر ایک مرتبہ ساگر آکر دیکھا تو تاج الدین گلی کوچوں کی خاک چھانتے نظر آئے۔نانی کو لگا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں۔ وہ انہیں اپنے ساتھ کامٹی لے آئیں۔ کامٹی میں ڈاکٹروں، حکیموں کو دکھایا گیا لیکن کوئی بھی آپ کی حالت سمجھ نہ سکا۔ جب بستی میں آپ کا دل نہیں لگتا تو جب بھی موقع ملتا تو آپ جنگلات میں نکل جاتے اور پھر کبھی کبھی واپس کا مٹی پہنچ جاتے۔
چار سال شدید جذب و استغراق کی کیفیت میں رہے، عام لوگوں نے انہیں پاگل سمجھ لیا، بستی کے آوارہ لڑکے انہیں چھیڑتے اور تنگ کرتے کوئی آوازیں کستا تو کوئی پتھر مارتا۔
کامٹی میں آپ سے کئی کرامات بھی رونما ہوئیں، کچھ عرصے میں آپ کی کرامات کا چہ چاہو اتو لوگ دور دور سے آپ کے پاس اپنا درد لے کر آنے لگے۔ بابا تاج الدین کی دعاؤں سے لوگوں کے کام ہونے لگے تو سائلین اور عقیدت مندوں کا ہجوم رہنے لگا۔ ایسے میں کچھ لوگوں نے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی سوچی تو بابا صاحب نے اعلان کر دیا کہ ” اب ہم پاگل جھونپڑی جائیں “۔ حالات کچھ ایسے بنے کہ 26 اگست، 1892 کو کا مٹھی کے کینٹونمنٹ اور ضلع مجسٹریٹ نے انہیں پاگل خانے بھیج دیا۔
پاگل خانہ کا سپر نٹنڈنٹ ڈاکٹر ماروتی راؤ تھا۔ اس کی پانچ لڑکیاں تھیں، لڑکا کوئی نہیں تھا، اولاد نرینہ کی اسے بہت تمنا تھی۔ ڈاکٹر کی بیوی نے ایک دن اپنے خاوند سے کہا کہ مجھے بابا صاحب کے پاس لے چلو۔ اس کا خاوند چونکہ مذہبا مرہٹہ برہمن تھا، اس لیے پہلے تو کچھ ہچکچایا مگر ایک دن اُس کی بیوی اپنی پانچوں لڑکیوں کے ساتھ بابا صاحب کی خدمت میں پہنچ گئی اور عرض کیا کہ۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2019