Daily Roshni News

بادشاہوں کا مزاج

بادشاہوں کا مزاج

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایران کے ایک بادشاہ کو حکیموں اور دانشمندوں کی صحبت کا بہت شوق تھا۔ اس نے ایک بار ایک دور دراز ملک کے مشہور حکیم کو اپنے دربار میں بلایا اور حکم دیا کہ وہ طب پر ایک ایسی کتاب مرتب کرے جس میں تمام بیماریوں کے علاج کے طریقے نہایت سادہ زبان میں درج ہوں، تاکہ عام آدمی، یہاں تک کہ بچے بھی اسے پڑھ کر اپنا علاج خود کر سکیں۔ حکیم نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ایک نہایت اعلیٰ درجے کی کتاب لکھی۔ بادشاہ اس کتاب سے بے حد متاثر ہوا اور حکیم کو لاکھوں روپے انعام سے نوازا۔

کچھ عرصے بعد حکیم کا انتقال ہو گیا تو اس کا بیٹا بادشاہی حکیم مقرر ہوا۔ وہ بھی اپنے والد کی طرح ذہین اور خدمت گزار تھا، اس لیے بادشاہ اس سے بہت خوش رہتا تھا۔ ایک دن بادشاہ وہی کتاب پڑھ رہا تھا کہ اس کی نظر ایک جملے پر پڑی: **”اگر کوئی شخص پاپڑ اور دہی کا ایک ساتھ استعمال کرے، تو وہ دو گھنٹے کے اندر اندر مر جائے گا۔”**

بادشاہ نے حیرت سے سوچا کہ حکیم نے یہ کیسی بے تُکی بات لکھی ہے؟ پاپڑ اور دہی میں بھلا ایسا کون سا زہر ہوتا ہے؟ اس نے فوراً حکیم کے بیٹے کو طلب کیا اور اس پر اپنی شکایات کا اظہار کیا۔ حکیم کے بیٹے نے ادب سے جواب دیا: “حضور! میرے والد اپنے وقت کے مانے ہوئے حکیم تھے، ان کی تحریر غلط نہیں ہو سکتی۔”

بادشاہ نے اس بات کو پرکھنے کے لیے ایک دیہاتی (جاٹ) کو دربار میں بلایا اور حکیم کے بیٹے کو حکم دیا کہ اس کا تجربہ کر کے دکھائے۔ رات کو اس دیہاتی کو پاپڑ اور دہی کھلایا گیا، مگر صبح ہوئی تو وہ بالکل ٹھیک ٹھاک اٹھا۔ بادشاہ نے طنزیہ انداز میں کہا: “دیکھا؟ تمہارے والد نے غلطی کی تھی۔”

حکیم کے بیٹے نے التجا کی: “حضور، مجھے دو مہینے کی مہلت دیں، میں آپ کو ثابت کر دوں گا۔” بادشاہ نے اجازت دے دی۔ اب حکیم کے بیٹے نے اس دیہاتی کو شاہی محل میں رکھا۔ اسے بہترین پر تکلف کھانے کھلائے گئے، قیمتی ریشمی لباس دیے گئے اور سونے کے لیے نرم مخمل کا بستر مہیا کیا گیا۔ وہ سارا دن سیر و تفریح کرتا اور آرام سے سوتا۔

دو مہینے بعد حکیم کے بیٹے نے اس کے مزاج کو پرکھنا چاہا۔ اس نے چپکے سے اس دیہاتی کے پلنگ کے ایک پائے کے نیچے کاغذ کے دو ٹکڑے رکھ دیے۔ جب وہ شخص آیا اور بستر پر لیٹا، تو بے چینی سے اٹھ بیٹھا۔ کہنے لگا، “آج پلنگ کتنا نا ہموار لگ رہا ہے، مجھے نیند نہیں آ رہی۔” حکیم کا بیٹا سمجھ گیا کہ آرام و آسائش نے اس کے مزاج کو کتنا نازک بنا دیا ہے۔

اگلے دن اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب دوبارہ آزمائش کریں۔ بادشاہ نے رات کو اسے محل میں بلایا اور وہی پاپڑ اور دہی کھانے کو کہا۔ وہ دیہاتی، جو اب نازک مزاج ہو چکا تھا، ہچکچاہٹ کے باوجود بادشاہ کے حکم پر اسے کھا کر سو گیا۔ دو گھنٹے بعد دیکھا تو اس کا انتقال ہو چکا تھا۔

بادشاہ حیران رہ گیا اور وجہ پوچھی۔ حکیم کے بیٹے نے سمجھاتے ہوئے کہا: “حضور! میرے والد نے یہ کتاب بادشاہوں کے لیے لکھی تھی، جن کا مزاج بہت نازک ہوتا ہے۔ میں نے اس دیہاتی کو دو ماہ عیش و آرام میں رکھ کر اس کا مزاج بادشاہوں جیسا نازک بنا دیا تھا، اسی لیے اسے وہ اثر ہوا جو ایک عام دیہاتی پر نہیں ہوتا تھا۔”

**نتیجہ:**

انسان جتنی زیادہ عیش و عشرت اور آرام طلبی کا عادی ہوتا جائے گا، اتنا ہی جسمانی طور پر کمزور اور نازک ہوتا چلا جائے گا۔ زندگی میں توازن ضروری ہے؛ نہ اتنی مشقت کریں کہ بیمار پڑ جائیں اور نہ ہی اتنی آرام طلبی کی عادت ڈالیں کہ چھوٹی سی تکلیف بھی برداشت نہ کر سکیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اصلاحی، سبق آموز اور مزاحیہ کہانیوں کے لیے پیج کو فالو کریں۔ شکریہ

#urdustories

#funnymoments

#storytelling

#funnystories

#MoralStory

Loading