بادشاہ نے کہا ۔۔۔۔
انتخاب ۔ میاں عاصم محمود
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بادشاہ نے کہا ۔۔۔۔ انتخاب ۔ میاں عاصم محمود)ایک طاقتور بادشاہ دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا۔ اس کے لشکر کی گرد سے زمین کانپتی تھی، نیزوں کی چمک سورج کو چیلنج دیتی تھی، اور اس کے نام سے بادشاہوں کے دل دہل جاتے تھے۔ مگر تقدیر نے اسے ایک ایسی بستی سے گزارا جو دنیا کے ہنگاموں سے بالکل بے خبر تھی۔
یہ افریقہ کی ایک چھوٹی سی بستی تھی۔ نہ فصیل، نہ فوج، نہ قلعہ۔ لوگ سادہ تھے، دل صاف، اور زندگی حیرت انگیز حد تک پُرسکون۔ یہاں کے باشندے جنگ کے مفہوم سے ناواقف تھے۔ وہ فاتح اور مفتوح کے فرق کو نہیں جانتے تھے، کیونکہ انہوں نے کبھی کسی کو مغلوب ہوتے نہیں دیکھا تھا۔
جب بادشاہ اس بستی میں داخل ہوا تو لوگوں نے اسے دشمن نہیں بلکہ مہمان سمجھا۔ اسے احترام کے ساتھ اپنے سردار کی جھونپڑی میں لے گئے۔ وہی جھونپڑی ان کی مجلس بھی تھی، عدالت بھی، اور فیصلے کا مرکز بھی۔
سردار نے بادشاہ کا پرتپاک استقبال کیا، پھل پیش کیے، پانی پلایا، اور اس سے اس کے سفر کا حال پوچھا۔ بادشاہ اس سادگی اور خلوص پر حیران تھا۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دو آدمی جھونپڑی میں داخل ہوئے۔ ایک مدعی تھا اور دوسرا مدعا علیہ۔ بستی میں جب بھی کوئی اختلاف ہوتا، لوگ ہتھیار نہیں اٹھاتے تھے بلکہ سردار کے پاس آتے تھے۔
مدعی نے ادب سے بات شروع کی: “میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ جب میں نے ہل چلایا تو اس میں سے ایک خزانہ برآمد ہوا۔ میں نے چاہا کہ یہ خزانہ اسے واپس کر دوں، مگر یہ لینے سے انکار کر رہا ہے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ میں نے صرف زمین خریدی تھی، خزانہ نہیں۔ اس لیے یہ خزانہ میرا نہیں ہو سکتا۔”
مدعا علیہ نے فوراً کہا: “میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ کیسے قبول کر سکتا ہوں؟ میں نے زمین فروخت کر دی تھی، اس کی قیمت لے لی تھی۔ اب اس زمین میں جو کچھ بھی نکلے، وہ اس خریدار کی قسمت ہے، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔”
بادشاہ حیران رہ گیا۔ اس کے کانوں نے جھگڑا سنا، مگر اس جھگڑے میں لالچ نہیں تھا۔ اس نے دعویٰ دیکھا، مگر اس میں حرص نہیں تھی۔
سردار کچھ دیر خاموش رہا، پھر مدعی سے پوچھا: “کیا تمہارا کوئی بیٹا ہے؟”
“جی ہاں۔”
پھر مدعا علیہ سے سوال کیا: “اور تمہاری کوئی بیٹی ہے؟”
“جی ہاں۔”
سردار مسکرایا اور بولا: “تو پھر ان دونوں کی شادی کر دو، اور یہ خزانہ ان کے حوالے کر دو۔”
فیصلہ سادہ تھا، مگر اس میں حکمت کے سمندر پوشیدہ تھے۔
بادشاہ اس فیصلے پر چونک اٹھا۔ اس نے زندگی میں بے شمار مقدمات سنے تھے، مگر ایسا فیصلہ کبھی نہیں سنا تھا۔ اس کے چہرے پر فکر کے آثار دیکھ کر سردار نے پوچھا: “کیا آپ میرے فیصلے سے مطمئن نہیں؟”
بادشاہ نے کہا: “نہیں، ایسا نہیں ہے۔ لیکن یہ فیصلہ ہمارے ہاں واقعی حیران کن سمجھا جائے گا۔”
سردار نے پوچھا: “اگر یہ مقدمہ آپ کے دربار میں پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ دیتے؟”
بادشاہ نے بلا توقف جواب دیا: “ہمارے ملک میں تو زمین بیچنے والا کہتا کہ خزانے کی قیمت میں نے نہیں لی، اس لیے یہ میرا ہے۔ اور خریدنے والا کہتا کہ زمین میری ہے، تو اس میں جو کچھ نکلے وہ بھی میرا ہے۔ آخرکار ہم دونوں کو قید میں ڈال دیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے دیتے۔”
یہ سن کر سردار نے حیرت سے بادشاہ کی طرف دیکھا اور پوچھا: “کیا آپ کے ملک میں سورج نکلتا ہے؟”
بادشاہ نے کہا: “جی ہاں۔”
“بارش بھی ہوتی ہے؟”
“بالکل۔”
“اور جانور؟ گھاس کھانے والے، بے زبان جانور؟”
“ہاں، بے شمار ہیں۔”
سردار نے گہری سانس لی اور آہستہ سے کہا: “اب میں سمجھ گیا… شاید اسی ناانصافی کی سرزمین پر ان بے زبان جانوروں کی وجہ سے ہی سورج طلوع ہوتا ہے اور بارش برستی ہے۔ اگر انصاف صرف طاقتور کے لیے ہو تو زمین بہت پہلے بنجر ہو چکی ہوتی۔”
بادشاہ کے لیے یہ الفاظ تلوار سے زیادہ کاری تھے۔ اس نے پہلی بار سوچا کہ اصل طاقت خزانہ نہیں، انصاف ہے۔ اصل حکومت تلوار نہیں، ضمیر ہے۔ اور اصل عظمت فتح میں نہیں، حق دینے میں ہے۔
یہ بستی چھوٹی تھی، مگر اس کا عدل آسمان سے بلند تھا۔ اور وہ بادشاہ، جس نے دنیا فتح کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس دن اپنے اندر کی سلطنت ہار گیا۔
#AdalKiKahani #InsafKiJeet #HaqAurSach
#ZameerKiAwaz #AsalTaaqat #HikmatBharaFaisla #BadshahAurBasti #InsafSeBariSaltanat #SachaiKiFatah
#AdalKaPaigham #ZulmKeMuqableInsaf
#IlmAurHikmat #PurSukoonZindagi
#QudratKaNizam #kahanijosochbadalde
![]()

