بارش تھمی، آنسو نہ تھمے
تحریر : حقیقت اور فسانہ ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بارش تھمی، آنسو نہ تھمے۔۔۔ تحریر : حقیقت اور فسانہ )رات کے آخری پہر کا وقت تھا جب اماں کے سینے میں اٹھنے والی درد کی لہر نے پورے گھر کو جگا دیا، اور اس درد کی وجہ کوئی بیماری نہیں بلکہ فون پر آنے والی وہ خبر تھی جس نے ہمارے گھر کی چارپائیوں سے خوشی کی چادر کھینچ کر رکھ دی تھی۔ توقیر کے نکاح کی خبر تھی، اور یہ سننا تھا کہ جیسے اماں کے دل پر کسی نے ہتھوڑا مار دیا ہو، وہ جسے برسوں سے اپنا داماد مان چکی تھیں اور جس کی آمد کا انتظار گھر کے آنگن میں بچھی ہوئی ان کی نگاہیں ہر عید پر کرتی تھیں، آج بنا بتائے کسی اور کا ہو گیا تھا۔ ابو گم سم ہو کر بیٹھک میں جا بیٹھے، ان کی خاموشی کمرے کی دیواروں کو چیر رہی تھی، اور میں کئی دن تک اپنے کمرے کی دہلیز سے باہر نہ نکلی، میرا چہرہ انتہائی بے نور ہو کر ماتم کی ایک زندہ تصویر بن گیا تھا۔ گھر کے صحن میں لگا پرانا نیم کا درخت بھی جیسے خاموش کھڑا میری طرف دیکھتا رہتا، اس کی شاخوں پر بیٹھا ایک کوا صبح سویرے اڑ کر کہیں چلا جاتا لیکن شام ڈھلتے ہی واپس آ کر اپنی اسی سوکھی ٹہنی پر بیٹھ جاتا، جیسے کوئی پرانا محافظ جو حویلی کو چھوڑ کر نہیں جاتا۔ دانش بھائی نے میری وہ خاموش محبت پڑھ لی جو میں نے کبھی زبان پر نہیں آنے دی تھی، انہوں نے اسی وقت تایا کے گھر جانا بند کر دیا اور دردانہ سے بھی کوئی رابطہ نہ رکھا، میرے اور دردانہ کے وہ خواب جو ہم نے ایک ساتھ بچپن میں موجاں کی تنگ گلیوں میں چلتے ہوئے دیکھے تھے، آج مٹی میں مل گئے تھے۔ ہمت کر کے میں خود اس کے گھر گئی، لاکشمی چوک کی اس پرانی چائے خانے والی گلی سے گزرتی ہوئی جہاں سے الائچی والی دودھ پتی کی خوشبو ہوا میں رچی بسی رہتی تھی، اور جب دردانہ نے اپنی بھیگی پلکوں کے ساتھ مجھ سے اپنے بھائی کی اس حرکت کا جواب مانگا تو میں کچھ نہ کہہ سکی، بس اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی، اور میرا وہ رونا راوی کے کنارے بہنے والی ٹھنڈی ہوا کی طرح تھا جو گرمی کی رات میں اچانک آتی ہے اور سب کچھ ٹھنڈا کر جاتی ہے۔
ⓕ ⓞ ⓛ ⓛ ⓞ ⓦ
Ⓗ Ⓐ Ⓠ Ⓔ Ⓔ Ⓠ Ⓐ Ⓣ
Ⓐ Ⓤ Ⓡ Ⓕ Ⓐ Ⓢ Ⓐ Ⓝ Ⓐ
توقیر میرے تایا کا بیٹا تھا، انتہائی خوبصورت، چلبلا، اور کھلاڑیوں جیسے قد کاٹھ والا نوجوان جسے دیکھ کر محلے کی ہر بوڑھی اماں دعا دیتی کہ اللہ اسے نظر بد سے بچائے۔ وہ ہمیشہ سے نٹ کھٹ اور تیزرو تھا، بچپن میں جب بھی وہ گڑھی شاہو کے پرانے ریلوے پھاٹک کے پاس والے گھر سے ہمارے گھر آتا تو گویا زلزلہ آ جاتا تھا، جبکہ میں سکون پسند، آہستہ مزاج، اور زمین سے جڑی ہوئی لڑکی تھی جسے کتابوں کی خاموش صحبت اور کمرے کی تنہائی میں اپنی ہی دھن میں رہنا نصیب ہوا تھا۔ وہ آسمان و زمین کے قلابے ملانے والا لڑکا تھا، کبھی چھت سے الٹا لٹک کر مجھے ڈراتا تو کبھی بجلی کے تاروں پر بیٹھے کووں کو پتھر مار کر اڑانے کی کوشش کرتا، اور میں دھرتی پر مضبوطی سے قدم جمائے رہنے والی لڑکی تھی جسے اس کا یہ طوفانی میل جول کبھی نہ بھایا۔ اماں اور تایا کی سوچ ضرور الگ تھی، وہ ہمیں عمر بھر کے لیے جوڑنا چاہتے تھے اور اکثر عنایت فرما کر کہنے لگے کہ دیکھو کیسا جوڑ ہے، مگر مجھے تو اس طوفان میل جیسے لڑکے کے ساتھ دو قدم چلنا بھی بھاری لگتا تھا، اس کی محفل میں بیٹھنا تو دور کی بات تھی۔
جب وہ ہمارے گھر حاضر ہوتا تو گویا گھر کی فضا ہی بدل جاتی، وہ اونچی آواز میں میوزک لگاتا جو انارکلی کے پچھلے کونے میں واقع اس ریکارڈ شاپ سے آیا ہوا کوئی پرانا فلمی گانا ہوتا تھا، زور زور سے بولتا جیسے دور بیٹھے کسی شخص کو آواز دے رہا ہو، دھم دھم چلتا کہ برتن گرجاتے، یا چارپائی پر بیٹھ کر اتنی زور سے ٹانگیں ہلاتا کہ دیواریں بھی ہلنے لگتیں اور اماں کہتیں کہ بیٹا ذرا آرام سے، دیواروں میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔ میں دل ہی دل میں دعا مانگتی کہ وہ جلدی سے رخصت ہو جائے اور گھر کی وہ فضا واپس آ جائے جس میں میں اپنی کتاب لے کر خاموشی سے بیٹھ سکتی تھی، لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ جتنا میں اس سے چڑتی، وہ اتنا ہی میری طرف کھنچتا، جیسے میری ناراضگی ہی اس کے لیے کوئی انعام ہو، میری توجہ پانے کے لیے وہ چھت سے الٹا لٹکنے کو بھی تیار تھا اور گھر آتے ہی سب سے پہلے مجھے ڈھونڈتا، پھر وہی حرکتیں شروع کر دیتا جو مجھے انتہائی ناپسند تھیں۔ شام کے وقت جب مغرب کی اذان کی آواز داتا دربار کی طرف سے ہوا میں گونجتی تو وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو جاتا، لیکن اذان ختم ہوتے ہی پھر وہی شور شرابا شروع کر دیتا۔
میں اس کے آنے سے پہلے ہی کتاب اٹھا کر گھر کے کسی کونے میں چھپ جاتی، کبھی اسٹور روم کے اندھیرے میں جہاں پرانے ٹرنک اور بند پڑی الماریوں سے مٹی کی بو آتی تھی، کبھی سیڑھیوں کے بیچوں بیچ جہاں سے آنگن میں پڑے پانی کے مٹکے کی ٹپ ٹپ صاف سنائی دیتی تھی۔ لیکن اسے جیسے الہام ہو جاتا، وہ سیدھا وہیں آ دھمکتا اور طنزیہ لہجے میں کہنے لگتا، “کتنا پڑھ لیا بھئی؟ کتنا بھی پڑھ لو، پاس تو ہونا نہیں، رزلٹ تیرا مجھے پتا ہے، بس کتابیں بغل میں دبائے چھپتی رہتی ہو، گدھے پر کتابیں لادنے سے کیا وہ عالم فاضل ہو جاتا ہے؟” جب اس کی باتیں حد سے بڑھ جاتیں تو میرا سر گھومنے لگتا، کانوں کی لوویں جل اٹھتیں، اور غصے سے کہتی، “توقیر، میرا دماغ خراب نہ کرو، ورنہ تایا سے شکایت کر دوں گی!” مگر وہ کہاں سنتا تھا، بس اپنی من مانی کرتا اور مجھے ستاتا رہتا، جیسے مجھے تنگ کرنے میں ہی اسے زندگی کا سب سے بڑا مزہ نصیب ہوا ہو۔
عید کے دنوں میں وہ ہمارے گھر کا راجہ بن جاتا، مٹھائی یا کھانے پینے کی دیدہ زیب چیزیں ضرور لاتا جو اندرون لاہور کی کسی خاص دکان سے منگوائی گئی ہوتی تھیں، لیکن میں جان بوجھ کر اسے جلانے کے لیے انہیں لینے سے انکار کر دیتی اور اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر مجھے عجیب سی خوشی ملتی تھی، جیسے گھنٹوں کی چڑ کا بدلہ ایک لمحے میں مل گیا ہو۔ گھر والے اس سے بے حد محبت کرتے، اس کی ہر بات کو اہمیت دیتے، وہ جب گھر ہوتا تو ہر طرف رونق ہوتی، بہن بھائی اسے عید کی چہل پہل کہتے، وہ کبھی گیت سنتا تو کبھی مہینوں سے پڑا کوئی ٹوٹا پھوٹا کام کر ڈالتا جیسے بجلی کی تار ٹھیک کرنا یا ٹوٹی ہوئی کرسی جوڑنا۔ لیکن جب وہ ہفتے دس دن بعد واپس جاتا تو گھر میں خاموشی چھا جاتی، سب اداس ہوتے، مگر مجھے سکون ملتا کیونکہ وہ میرے ہر کام میں ٹانگ اڑاتا تھا، روٹیاں بناؤں تو کہتا “بس یہی کام تمہارے بس کا ہے”، صفائی کروں تو طنز کرتا “یہی تو تمہارے کرنے کے کام ہیں”، اور یہ طعنے سن سن کر میں تھک چکی تھی۔
رفتہ رفتہ، نجانے کب اس کی شرارتیں دل میں گھر کرنے لگیں، اس کے خطوط آنے لگے جن میں چھپے چھپے پیغامات میرے لیے ہوتے اور لفافے پر لگی مہر کی سرخی دیکھ کر میرا دل دھڑکنے لگتا تھا۔ میں نے بھی ڈرتے ڈرتے ایک خط لکھا، یہ سوچ کر کہ کہیں وہ میرا مذاق نہ اڑائے اور میری بربادی کا سامان نہ بن جائے، لیکن اس بار اس نے کچھ نہ کہا، خاموشی سے میرا خط پڑھا اور اپنی جیب میں رکھ لیا۔ پھر کئی دن گزر گئے، نہ اس کی کوئی خبر آئی، نہ خط، اور عید پر بھی وہ نہ آیا، گھر کے آنگن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ کر میں گھنٹوں اس دروازے کو دیکھتی رہتی جہاں سے وہ آیا کرتا تھا، بارش کا ایک قطرہ بھی جب چھت کے ٹین پر گرج کر گرتا تو مجھے لگتا شاید وہ آیا ہے۔ میرا دل اس کی یاد میں تڑپنے لگا، وہ جو کبھی نفرت کا نشانہ تھا اب نجانے کیسے محبت بن گیا تھا، اس کے بغیر جینا مشکل لگتا مگر حیا کی وجہ سے کسی سے کچھ نہ کہتی، بس چپ چاپ اپنی ڈائری میں لکھتی رہتی کہ آج پھر اس کا انتظار کیا اور وہ نہ آیا۔
پھر اچانک ایک دن خبر ملی کہ توقیر کا نکاح ہو گیا، نہ منگنی، نہ کوئی بات، بس اچانک نکاح؟ یہ سن کر جیسے میرے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا گیا ہو، میں راتوں روتی رہی، تکیے کو منہ میں دبا کر سسکیاں لیتی تاکہ گھر والے نہ سن لیں، لیکن کسی سے کچھ نہ کہا۔ وقت گزرتا گیا، میں اپنی روٹین میں مصروف ہو گئی، دل کے درد کو دبائے مردہ سی زندگی جینے لگی، بھابھیوں کے بچوں میں دل لگاتی، انہیں کہانیاں سناتی، ان کے ساتھ کھیلتی، کہ اچانک وہ ایک دن گھر آ گیا، اپنی بیگم اور بچی کے ساتھ۔ ڈیڑھ سال بعد وہ آیا تھا، ایک بچی کا باپ بن چکا تھا، اس کی بیوی چھوٹے قد کی، سیاہ رنگت والی، اور موٹی سی عورت تھی، بچی بھی ویسی ہی تھی، ماں پر گئی ہوئی۔ اسے دیکھ کر اس کے پرانے طنز یاد آ گئے جب وہ مجھ سے کہا کرتا تھا، “مجھے بونے بچے نہیں چاہئیں، قد دیکھا ہے اپنا؟ ایک بالشت کی ہو!” میں نے آئینہ دیکھا، اپنے گورے رنگ اور خوبصورت چہرے کو دیکھا، اور ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ سوچا کہ میرا یہ حسن اس کے طنزیہ الفاظ کا مذاق اڑا رہا ہے۔ اس دن کے بعد میرے دل پر تالا پڑ گیا، اور توقیر کی محبت جو کبھی دل کے سنگھاسن پر براجمان تھی، ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی، جیسے کسی نے ایک خوبصورت کتاب کو سینے میں دبا کر دفن کر دیا ہو۔
اب وہ جب بھی آتا، اکیلا آتا، اور میں دل ہی دل میں خدا سے دعا مانگتی کہ وہ نہ آئے، مگر وہ پھر بھی حاضر ہو جاتا، میرے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے۔ میرا دل اس سے پھر نفرت کرنے لگا، وہی پرانی نفرت جو کبھی محبت میں بدلی تھی اب دوبارہ لوٹ آئی تھی۔ کئی رشتے آئے، اچھے اچھے گھروں سے پیغامات آئے، لیکن میرا دل جیسے مر چکا تھا، اپنے آپ سے نفرت ہو گئی تھی تو کسی اور کی زندگی کیسے تباہ کرتی؟ میں نے تایا کے گھر سے رابطہ ختم کر دیا، حالانکہ خاندان اب بھی میرا اور توقیر کا رشتہ چاہتا تھا، تایا کئی بار فرمانے لگے کہ بیٹا میں تمہاری شادی اس سے کروا دوں، بس تم ہاں کرو، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ وہ اماں کا لاڈلا تھا، اگر وہ ڈٹ جاتا تو تائی ضرور مان جاتیں، لیکن میں نے سوچ لیا کہ محبت ایسی ہونی چاہیے جو اعتماد دے، ورنہ رسوائی مقدر بن جاتی ہے۔
اس سارے قصے میں میری سہیلی دردانہ تھی، توقیر کی بہن، جس کی خاطر ہی میں تایا کے گھر سے رابطہ رکھتی تھی اور اس کے ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کرتی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ جو میرے بھائی دانش نے کیا، وہ بھی کوئی کم سانحہ نہ تھا۔ ایک خوبصورت شام تھی، باہر بارش برس رہی تھی اور چھت کے ٹین پر بارش کی بوندوں کی تال میری دھڑکنوں سے مل رہی تھی، دانش بھائی توقیر سے ملنے گئے تھے اور جب واپس آئے تو ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اگلے دن دردانہ نے مجھ سے انتہائی معصومیت سے کہنے لگی، “مائرہ، خدا کرے ہم دونوں کو اپنی چاہتیں مل جائیں۔” میں نے حیرت سے پوچھا، “اچھا! تجھے بھی کسی سے محبت ہو گئی؟ کون ہے وہ نصیبوں والا؟” وہ بولی، “وہی، جس کا نام دانش ہے۔” میں خوشی سے اچھل پڑی، بارگاہ خداوندی میں شکرانے کے آنسو بہائے، “تو پھر تو ہم دونوں بھابھیاں بن جائیں گی!” وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا جب ہم دونوں سہیلیاں، بھابھیاں بن کر ایک ہی آنگن میں گھوم رہی تھیں۔
میں بی اے میں تھی، اور دانش بھائی مجھے ناسمجھ سمجھتے تھے مگر مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ ایک دن وہ مجھے اپنی کلاس فیلو کے گھر سے درخواست لینے لے گئے، راستے میں بولے، “دردانہ کے گھر چلیں؟ گھر میں بڑی خاموشی ہے، اگر وہ اکیلی ہو تو اسے کہو کہ ہمارے گھر آ جائے، دل بہل جائے گا۔” میں سب سمجھتی تھی، لیکن خاموش رہی، دردانہ کو پیغام دیا، وہ گھر آ گئی، اس کی چوڑیوں کی کھنک نے گھر کے صحن کو بھر دیا۔ وہ مجھ سے باتیں کرتی، لیکن اس کی نگاہیں دانش بھائی کے لیے ہوتیں، اور وہ شرم سے سرخ ہو رہے تھے، دیوار پر لگی ہوئی بتی کی مدھم روشنی میں ان کا چہرہ اور بھی خوبصورت لگ رہا تھا۔ وہ دن ہم سب کے لیے یادگار تھا، اس دن کی خوشبو آج بھی میری یادوں میں بسی ہوئی ہے، جیسے مولا جٹ کی زمین سے اٹھنے والی مٹی کی خوشبو جو بارش کے بعد ہوا میں گھل جاتی ہے۔
کچھ دن بعد میں دردانہ کے گھر نہ جا سکی، نہ وہ آئی، دانش بھائی انتظار میں رہے، لیکن ان کے پرچے شروع ہونے والے تھے، وہ اکثر کمرے میں بند ہو کر پڑھتے اور میں ان کے لیے چائے بنا کر لے جاتی۔ ایک دن وہ مجھے تایا کے گھر لے گئے، توقیر باہر گراؤنڈ میں تھا جہاں بچے کرکٹ کھیل رہے تھے اور ان کے جوشیلی نعروں کی آواز دور تک جا رہی تھی، دانش بھائی اس کے پاس چلے گئے، اور میں گھر کے اندر۔ پندرہ منٹ بعد وہ مجھے لینے آئے اور دردانہ سے بولے، “مجھے پرچوں کی تیاری کرنی ہے، کچھ دن تم سے ملاقات نہیں ہو سکے گی۔” دردانہ نے مسکرا کر کہا، “ضرور، لیکن وعدے نبھانا اور اچھے نمبر لانا۔” اس کی وہ مسکراہٹ کسی امید کے چراغ کی مانند تھی جو اندھیری رات میں ٹمٹما رہا تھا۔
دانش بھائی نے انتہائی محنت کی، رات رات بھر جاگ کر پڑھتے اور کافی کے مگ ان کی میز پر قطار میں لگے رہتے، اور شاندار نمبر لائے، گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ دردانہ مبارکباد دینے ہمارے گھر آئی، اس نے ہاتھوں میں مٹھائی کا ڈبہ پکڑا ہوا تھا اور اس کی پیشانی پر خوشی کے موتی چمک رہے تھے۔ بھائی نے اسے دیکھ کر کہا، “دردانہ، یہ سب تیری محبت کا کرشمہ ہے، اگر تو نے ساتھ نہ دیا ہوتا تو میں کبھی اتنا نہ پڑھ پاتا۔” گھر میں چرچے ہونے لگے کہ مائرہ توقیر کی ہے، اور دردانہ دانش کی، ہم دونوں بہن بھائی خوش تھے، اماں کے ہاتھوں کی بنی ہوئی کھیر کی خوشبو گھر بھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن پھر اچانک تائی اماں کو اپنی بھتیجی یاد آ گئی، وہ توقیر کو اس سے بیاہنا چاہتی تھیں اور اس خواہش نے ہمارے سارے خوابوں کی جڑوں میں زہر ڈال دیا۔ توقیر اور تایا نے بہت سمجھایا، تایا نے تو یہاں تک فرما دیا کہ یہ رشتہ ہمارے خاندان کی عزت کا معاملہ ہے، لیکن تائی نے زہر کھانے کی دھمکی دے دی، اور یہ دھمکی اتنی بھیانک تھی کہ ہم چاروں خاموش رہے، حالانکہ دھمکی تو ہمیں دینی چاہیے تھی کہ اگر ہماری مرضی کے خلاف کچھ ہوا تو ہم نہیں جی سکیں گے، مگر ہم نے کچھ نہ کہا، بس خاموشی سے اپنی قسمت پر روتے رہے۔
توقیر کے نکاح کی خبر نے امی کو اسپتال پہنچا دیا، انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس لڑکے کو وہ اپنا بیٹا سمجھتی تھیں، جسے وہ برسوں سے اپنا داماد مان چکی تھیں، وہ اچانک کسی اور کا ہو گیا۔ ابو گم سم ہو گئے، ان کی خاموشی گھر کی دیواروں پر چھائی ہوئی تھی، اور میں کئی دن کمرے سے نہ نکلی، میرا چہرہ ماتم کی تصویر بن گیا تھا جیسے رنج و غم کی کوئی زندہ مورت ہوں۔ دانش بھائی نے میری خاموش محبت پڑھ لی اور تایا کے گھر جانا بند کر دیا، وہ دردانہ سے بات بھی نہ کرتے، اس کا فون آتا تو اٹھاتے نہیں تھے، اس کا پیغام دیکھتے تو جواب نہیں دیتے تھے۔ دردانہ بیچاری ہم دونوں کے بیچ پِس گئی، اس کا حال ایسا تھا جیسے دو پاٹوں کے بیچ پسی ہوئی چکی کا دانہ جو آہستہ آہستہ گھس کر ختم ہو رہا ہو۔ اس نے کہا، “نکاح تو توقیر بھائی کا ہوا، دانش تم مجھ سے کیوں نہیں بولتے؟ میرا کیا قصور؟ آخر میرا جرم کیا ہے؟”
امی نے دانش سے صاف کہہ دیا، “اگر بھاوج نے میری بیٹی نہ لی، تو میں ان کی بیٹی کیوں لوں؟ خبردار، دانش، اگر دردانہ کا سوچا بھی تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔” ان کی آواز میں وہی ضد تھی جو تائی کی آواز میں تھی، اور یہ ضد دونوں طرف سے ہمارے گھر کی اینٹوں کو کھوکھلا کر رہی تھی۔ میں نے بھائی سے کہا، “ہر کسی کے خواب پورے ہونا ضروری نہیں، دردانہ کو سزا نہ دو، اس کا کوئی قصور نہیں ہے، قصور تو حالات کا ہے۔” لیکن وہ بولے، “اس کی بات نہ کرو، میں نے اس کا نام بھی سننا نہیں۔” دردانہ نے میرا سہارا لیا اور کہا، “دانش سے پوچھو، کیا وہ مجھے اپنائیں گے؟ کیا وہ اپنی ماں کی ضد توڑ کر مجھے اپنا سکتے ہیں؟” میں نے بھائی سے خدا کا واسطہ دے کر پوچھا، تو انہوں نے کہا، “اگر توقیر کو اس کی ماں پیاری ہے، تو مجھے بھی میری ماں پیاری ہے، امی نے کہا یہ ناممکن ہے، تو پھر کیسے ممکن ہوگا؟” یہ سن کر مجھے لگا جیسے کسی نے میرے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہو، وہ محبت جو بھائی بہن کے رشتے کی بنیاد تھی، آج ماں کی ضد کے سامنے بے بس ہو گئی تھی۔
میں اپنی کزن کو کیا منہ دکھاتی؟ جس گھر میں میں نے بہو بن کر جانا تھا، جہاں کا آنگن میرے خوابوں کی تعبیر تھا، آج اس گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے بھی مجھے شرم آ رہی تھی۔ میرے اور دردانہ کے خواب مٹی میں مل گئے، اس مٹی کی طرح جو بارش میں بھیگ کر کیچڑ بن جاتی ہے اور پھر دھوپ میں سوکھ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ ہمت کر کے اس کے گھر گئی، جب اس نے اپنے سوال کا جواب مانگا، وہی سوال جو اس کی آنکھوں میں مہینوں سے رکا ہوا تھا، تو میں اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، میری سسکیاں اس کے کندھے پر گرج رہی تھیں اور اس کا آنچل میرے آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا۔ اسے جواب مل گیا، وہ جان گئی کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، محبت کی یہ کشتی ضد کی چٹانوں سے ٹکرا کر ٹوٹ چکی ہے۔ ہم دونوں سہیلیاں گلے مل کر خوب روئیں، اس گھر کے اس کونے میں جہاں کبھی ہم نے مل کر آم کھائے تھے اور شادیوں کے خواب بنے تھے۔ دردانہ بولی، “تمہارا کیا قصور؟ قصور تو امی کا ہے، جن کی ضد نے ہم چاروں کو اجاڑ دیا، جنہوں نے اپنی ہٹ کے لیے چار زندگیوں کی خوشیاں قربان کر دیں، خدا ایسی ماں کسی کو نہ دے۔” اس کی آواز میں اتنی تلخی تھی کہ ہوا میں گھلی ہوئی مٹھاس بھی کڑوی ہو گئی تھی۔
آج میں اپنے گھر بس چکی ہوں، اپنی چھوٹی سی دنیا میں مصروف ہوں، اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہوں، ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں اپنا غم بھلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ دانش بھائی کی شادی ہو گئی، اماں نے اپنی پسند کی لڑکی ڈھونڈ نکالی، لیکن دردانہ نے شادی نہ کی، اس نے ساری عمر تنہا رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ کوئی فرق نہ پڑا، سوائے اس کے، اس کا خیال آتا ہے تو دل رنجیدہ ہو جاتا ہے، جیسے کوئی پرانا زخم ہو جو نم ہو جاتا ہے۔ میں بھائی سے خفا ہوں، جن کی ہٹ نے ایک شوخ و چنچل لڑکی کو اداس، عمر رسیدہ عورت میں بدل دیا، جس کی آنکھوں کی چمک چلی گئی اور ہنسی ہونٹوں سے غائب ہو گئی۔ توقیر شاید مجھے بھلا چکا ہوگا، اپنی بیوی اور بچوں میں مصروف ہوگا، لیکن میں جانتی ہوں کہ اس کے دل کے کسی کونے میں میری یاد آج بھی زندہ ہے، رات کے سناٹے میں جب بارش کی بوندیں چھت پر گرجتی ہیں تو اسے بھی میری کمی محسوس ہوتی ہوگی۔ میں نے بھی دل پر پتھر رکھ لیا اور اپنے بچوں میں گم ہو گئی، ان کی معصوم مسکراہٹوں میں جینے کا بہانہ ڈھونڈ لیا۔ لیکن جب تائی دردانہ کو اجڑی ہوئی دیکھتی ہیں، تنہا، بے سہارا، عمر کی چکی میں پسی ہوئی، تو ان کے کلیجے سے ایک ٹھنڈی آہ ضرور نکلتی ہے، اور وہ جان گئی ہیں کہ ان کی ضد نے کتنا بھیانک انجام پایا، لیکن اب پچھتانے کا وقت گزر چکا ہے، اب وہ صرف خاموشی سے دردانہ کے سر پر ہاتھ پھیر سکتی ہیں، اور کچھ نہیں۔
💔
خلاصہ یہ کہ : یہ کہانی دو بہن بھائیوں اور دو سہیلیوں کی تھی جن کی محبت کو بڑوں کی ضد نے اجاڑ کر رکھ دیا۔ توقیر اور مائرہ کا رشتہ خاموشی سے ٹوٹا، اور دانش نے دردانہ کو چھوڑ کر اپنی ماں کی بات مان لی، جس نے دردانہ کی زندگی کو ویران کر دیا۔ آخر میں تائی کی ضد نے سب کو ہرا دیا، اور اس کا انجام بہت بھیانک نکلا۔
اس کہانی نے آپ کے دل کے کسی نہ کسی کونے کو ضرور چھوا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو لائک ضرور کریں، یہ بتانے کے لیے کہ آپ ابھی تک ہمارے ساتھ ہیں۔
ایسی اور دل کو چھو لینے والی کہانیوں کے لیے ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو فالو کریں۔
اگر اس کہانی نے آپ کو اپنی زندگی کا کوئی لمحہ یاد دلا دیا ہے تو تبصرے میں ضرور بتائیں۔ ہم آپ کا انتظار کریں گے ۔
![]()

