Daily Roshni News

باطن کا وہ مقام جہاں ، بندہ راز محبت سننے لگتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

باطن کا وہ مقام جہاں ، بندہ

راز محبت سننے لگتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔

انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔۔ باطن کا وہ مقام جہاں ، بندہ راز محبت سننے لگتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی)صوفیائے کرام کے نزدیک “لطیفۂ سِر” انسان کے اُن باطنی مراکز میں سے ہے جہاں دل محض ذکر کرنے والا نہیں رہتا بلکہ رازوں کو محسوس کرنے لگتا ہے۔

اگر لطیفۂ قلب محبت کا دروازہ ہے، اور لطیفۂ روح اُس محبت کی زندگی، تو لطیفۂ سِر وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب کے ساتھ خاموش تعلق میں داخل ہوتا ہے۔

یہاں زبان خاموش اور باطن گویا ہو جاتا ہے۔

اہلِ سلوک کے ہاں اس کا مقام سینے کے بائیں حصے سے اوپر، قلب و روح کے درمیان یا قدرے وسطِ سینہ کی طرف بیان کیا جاتا ہے۔

یہ مقام ظاہری جسم سے زیادہ باطنی شعور سے متعلق ہے، اس لیے اس کی کیفیت محسوس کی جاتی ہے، دیکھی نہیں جاتی۔

اس لطیفہ کا رنگ اکثر سفید نور یا ہلکا سنہری نور بیان کیا جاتا ہے۔

یہ نور صفائی، اخلاص اور باطنی سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اس لطیفہ کے ساتھ عموماً اسمِ ذات “اللہ” یا ذکرِ خفی کیا جاتا ہے۔

سالک خاموشی سے دل کی گہرائی میں “اللہ… اللہ…” کو محسوس کرتا ہے، یہاں تک کہ ذکر آواز سے نکل کر احساس بننے لگتا ہے۔

بعض اہلِ طریقت اس مقام پر مراقبۂ حضوری کرتے ہیں، یعنی دل کو اس احساس میں رکھنا کہ۔

“میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔”

اس کے اسرار و رموز

لطیفۂ سِر کے بیدار ہونے پر انسان کے اندر چند تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں:

عبادت میں دکھاوے سے نفرت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

تنہائی سے محبت ہو جاتی ہے

خاموشی میں سکون محسوس کرتا ہے

دل نرم پڑ جاتا ہے اور بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے

دنیا کی چمک دھمک مدھم پڑ جاتی ہے اس کی نظر میں

ذکر کے وقت آنکھوں کا نم ہو جانا

گناہ کے بعد باطن میں بےچینی محسوس کرنا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں انسان لوگوں کے عیب کم اور اپنی کمزوریاں زیادہ دیکھنے لگتا ہے۔

باطن میں ایک نرم درد پیدا ہوتا ہے جو انسان کو اللہ کی طرف کھینچتا ہے۔

لطیفۂ سِر کی ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ بندہ اپنی نیکیوں پر خوش ہونے کے بجائے اپنی کمیوں پر نظر رکھتا ہے۔

وہ عبادت کرتا ہے مگر خود کو عبادت گزار نہیں سمجھتا۔

یہ عاجزی، سِر کی زندگی کی علامت ہے۔

اے راہِ سلوک کے مسافر

لطیفۂ سِر شور سے نہیں کھلتا، خاموشی سے کھلتا ہے۔ زیادہ بولنا، زیادہ دیکھنا، اور ہر وقت دنیا میں الجھے رہنا باطن کی روشنی کو کمزور کر دیتا ہے۔

اپنے دل کو تین چیزوں سے بچاؤ۔

ریا سے، تکبر سے اور لوگوں کی بےجا تعریف کی خواہش سے۔

اور تین چیزوں کو لازم پکڑو۔

تہجد کی خاموش عبادت کو

ذکر کی پابندی کو

سچی توبہ کو۔

جب لطیفۂ سِر بیدار ہوتا ہے تو انسان کو عبادت میں لذت کے ساتھ حضوری نصیب ہوتی ہے۔

پھر وہ اللہ کو صرف پکارتا نہیں، بلکہ اپنے اندر اُس کی قربت محسوس کرنے لگتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں دعا الفاظ سے نکل کر آنسو بن جاتی ہے اور بندہ آہستہ آہستہ “علم” سے “معرفت” کی طرف سفر کرنے لگتا ہے۔

#Khaak_e_rawan

Loading