Daily Roshni News

بالِ جبریل سے انتخاب شاعر۔۔۔علامہ اقبال

بالِ جبریل سے انتخاب

شاعر۔۔۔علامہاقبال

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق

یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب‌ خانے میں

فقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق

علاجِ ضعفِ یقیں ان سے ہو نہیں سکتا

غریب اگرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے دقیق

مُریدِ سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب

خدا کرے کہ مِلے شیخ کو بھی یہ توفیق

اُسی طلسمِ کُہن میں اسیر ہے آدم

بغَل میں اس کی ہیں اب تک بُتانِ عہدِ عتیق

مرے لیے تو ہے اقرار بالِلّساں بھی بہت

ہزار شُکر کہ مُلّا ہیں صاحبِ تصدیق

اگر ہو عشق تو ہے کُفر بھی مسلمانی

نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق

پہلا شعر : ہر زمانے میں مومنوں کا طریقہ ایک ہی رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے جان بچانے کے لیے کبھی جھوٹ نہیں بولا بلکہ ہمیشہ وہی بات زبان سے کہیں جس کو دل سے سچی سمجھتے تھے. مثلاً امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کیں لیکن مامون الرشید کو خوش کرنے کے لئے یہ نہیں کہا کہ قرآن مجید مخلوق ہے کیونکہ اُن کا دل یہ کہتا تھا کہ  قرآن کتاب اللہ ہے، مخلوق نہیں ہے.

دوسرا شعر : یہ شعر تو بالکل آسان ہے لیکن اقبال نے اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ جس طرح پیر مغاں کا خلق شراب نوشوں کے لئے باعثِ کشش ہوتا ہے اسی طرح عالمِ دین واعظ یا دینی پیشوا کے لئے صاحبِ خلق ہونا ضروری ہے تاکہ لوگ کثیر تعداد میں اُس کی طرف رجوع کریں. جو لوگ قوم کی اصلاح کا آرزومند ہیں اگر اُن کے مزاج میں درشتی ہے تو لوگ اُن سے یقیناً متنفر ہو جائیں گے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنے مقصد میں ناکام ہو جائیں گے. اس شعر کا مضمون قرآن حکیم کی اس آیت سے ماخوذ ہے. فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْكُنتُ فَظاََ غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا الْفَضَّوا مِنْ حَوْلِكَ (آل عمران – ۱۵۱) سو یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان (صحابہ) پر مہربان ہیں اور ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرتے ہیں اور اگر آپ درشت کلام اور سنگدل ہوتے تو وہ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ دیتے یعنی آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے.

اس شعر کے پردہ میں اقبال اپنی قوم کے علماء اور واعظین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ لوگ چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہیں اس لئے آپ حضرات کو بھی عوام الناس کے ساتھ محبت اور نرمی کا برتاؤ کرنا چاہیے.

تیسرا شعر: رازی سے امام فخر الدین رازی مراد ہیں جو ٥٤٣ھ میں بمقام رے پیدا ہوئے تھے. امام صاحب علم و فضل، شہرت، عزت، دولت اور کثرت تصانیف کے اعتبار سے دنیائے اسلام کی معدودے چند خوش نصیب ہستیوں میں سے ہیں. اگرچہ علومِ نقلی و عقلی دونوں میں ید طولیٰ رکھتے تھے لیکن سب سے زیادہ شہرت ایک متکلم کی حیثیت سے حاصل ہوئی اس کے بعد پھر دنیا اُن کو ایک فلسفی اور مفسر کی حیثیت سے جانتی ہے. ٦٠٦ ھ میں وفات پائی.

(علامہ اور مفکر کی طرح اُس زمانہ میں متکلم کا لفظ بھی اپنے حقیقی مفہوم سے معرا ہو چکا ہے چنانچہ جو لوگ علم الکلام سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے وہ بھی آج متکلم کے لقب سے مشہور ہیں حالانکہ متکلم وہ شخص ہوتا ہے جو منطق، فلسفہ اور الٰہیات تین علوم میں مہارت نامہ رکھتا ہو اور اُن کے مسائل پر مجتہدانہ انداز میں گفتگو کر سکتا ہو)

اُن (امام رازی) کا سب سے بڑا علمی کارنامہ تفسیر “مفاتیح الغیب” ہے تو تفسیر کبیر کے نام سے مشہور ہے اور بارہ جلدوں میں ہے. اس کے بعد اساس التقدیس – علمِ کلام میں اور مباحثِ مشرقیہ – الٰہیات اور طبیعیات میں اور شرح اشارات – منطق و حکمت میں. یہ تین کتابیں بہت مشہور ہیں.

چونکہ امام صاحب پر علمِ کلام کا رنگ غالب تھا اس لئے انہوں نے اپنی تفسیر میں مباحثِ کلامیہ اور مسائلِ عقلیہ اس کثرت کے ساتھ درج کئے ہیں کہ بعض محققین نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اُن کی تفسیر میں تفسیر کے علاوہ باقی سب کچھ ہے. میں اس جگہ اُن مباحث کی مثالیں تو بخوفِ طوالتِ کلام درج نہیں کر سکتا لیکن بڑے ادب کے ساتھ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد دل میں اس قدر یقین پیدا نہیں ہوتا جس قدر شکوک اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں مثلاً جب وہ وجودِ باری تعالیٰ یا ذات و صفاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو کرتے ہیں تو پہلے مخالفین کی طرف سے جس قدر اعتراضات کئے گئے ہیں. سب کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں پھر ان کے جوابات دیتے ہیں لیکن چونکہ ان کا موضوع علم کلام نہیں بلکہ تفسیر ہے اس لئے وہ بعض اوقات بعض اعتراضات کے جوابات بہت معمولی طور پر دیتے ہیں اور بعض اعتراضات کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے اس لئے اکثر لوگوں کے لئے وہی اعتراضات باعث تشکیک بن جاتے ہیں.

(میری کیا مجال کہ امام صاحب پر تنقید کر سکوں

چه نسبت خاکِ را با عالمِ پاک

ہاں یہ ضرور ہے کہ میں ۱۹۲۲ء میں اُن کی تفسیر کی پہلی جلد کا مطالعہ کیا تھا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس کی بدولت میں ایک شدید قسم کی ذہنی کشمکش میں گرفتار ہو گیا تھا اور اگر ۱۹۲٤ء میں مثنوی میری تشفی کا سامان مہیا نہ کرتی تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آج کس حال میں ہوتا. واقعی سچ کہا ہے مرشد رومی نے.

دستِ ہر نا اہل بیمارت کُند

سُوئے مادر آ کہ تیمارت کُند

ترجمہ : طبیب ہو یا تیمار دار، ہر نا اہل شخص کا ہاتھ تجھے مزید بیمار کر دے گا. مامتا یہی ہے کہ جو حقیقی تیمار داری کی اہل ہے اسی کی جانب متوجہ ہو. مراد یہ ہے کہ محض علم و فنون سے روح کی تشنگی دور نہیں ہو سکتی نا ہی انسانی دکھ اور کرب کا مداوا ہو سکتا ہے. روح کی کسک تو اہلِ حق رفع کر سکتے ہیں جو اس کے اہل ہوں اور جس میں ماں کی سی شفقت بھی ہو)

میری رائے میں اقبال نے اس شعر میں جو یہ بات کہی ہے کہ اگرچہ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بعض بڑے عجیب و غریب فلسفیانہ نکتے بیان کئے ہیں جن کو پڑھ کر اُن کی ذہانت و فطانت اور دقتِ نظر بلکہ تبحر علمی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے لیکن ان سے ضعفِ یقیں کا علاج نہیں ہو سکتا، ایمان و عرفان کا رنگ پیدا نہیں ہو سکتا. یہ بات بالکل صحیح ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر جگہ رازی پر رومی کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ خود فلسفی ہونے کے باوجود آخر الذکر کے متبع ہیں. رازی کے مطالعہ سے پیچ و تاب کی کیفیت تو پیدا ہو سکتی ہے، سوز و گداز کا رنگ نہیں پیدا ہو سکتا اور اسلام چونکہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے اس لیے اقبال کی رائے میں فتح کا سہرا رومی کے سر پر ہے.

نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازی

جیتا ہے رومیؔ، ہارا ہے رازیؔ

شرح : پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم

پیشکش : قیصر ندیم

Loading