Daily Roshni News

باکو کا تعارف…تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  شیر دل

باکو کا تعارف

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  شیر دل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔  شیر دل)سوویت یونین کے بھاری سائے سے نکل کر اکیسویں صدی کے افق پر چمکتا ہوا شہر باکو (Baku)، مشرقی روایات اور مغربی جدت کا ایک سحر انگیز سنگم ہے۔ بحیرہ خزر (Caspian Sea) کے ساحل پر آباد یہ شہر جہاں اپنی تیل اور گیس کی بے پناہ دولت کے لیے جانا جاتا ہے، وہاں اپنے طرزِ تعمیر کی بوقلمونی، خوابناک مقامات اور یہاں کے باسیوں کے دلنشیں مزاج کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

باکو محض ایک شہر نہیں، بلکہ ایک زندہ عجائب گھر ہے جہاں ماضی اور مستقبل کی حدیں آپس میں ملتی ہیں۔ آئیے اس شہر کے طرزِ تعمیر، حسین مقامات اور یہاں کے لوگوں کے مزاج کا ایک تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

  1. 1. باکو کا طرزِ تعمیر: صدیوں کا سفرنامہ

باکو کے طرزِ تعمیر کی سب سے بڑی خاصیت اس کا تضاد اور تنوع ہے۔ یہاں محض چند کلومیٹر کے دائرے میں تاریخ کے کئی ادوار ایک ساتھ سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں:

قدیم اسلامی اور مشرقی طرز (اچری شہر): شہر کے وسط میں واقع قلعہ بند شہر “اچری شہر” (Icherisheher) 12ویں سے 15ویں صدی کے شیروان شاہی دور کی یاد دلاتا ہے۔ یہاں کی تنگ، بل کھاتی ہوئی پیلی مٹیالی گلیاں، پتھریلی دیواریں اور لکڑی کی خوبصورت بالکنیاں مشرقی مسلم طرزِ تعمیر کا شاندار نمونہ ہیں۔

پیرس کا عکس (پہلا آئل بوم): 19ویں صدی کے اواخر میں جب باکو میں دنیا کا پہلا تیل کا دھماکہ (Oil Boom) ہوا، تو مقامی کروڑ پتیوں نے یورپ کے ماہرِ تعمیرات کو بلا کر گوتھک، بیروک اور رینیسانس طرز کی شاندار عمارتیں بنوائیں۔ یہی وجہ ہے کہ باکو کے وسطی حصوں کو دیکھ کر پیرس یا ویانا کا گمان ہوتا ہے۔

سوویت یونین کا رعب دار ورثہ: 1920ء سے 1991ء تک کے دور نے باکو کو ایک بھاری بھرکم، وسیع اور رعب دار وضع دی۔ “گورنمنٹ ہاؤس” جیسی عمارتیں سوویت دور کے کلاسک اور طاقتور طرزِ تعمیر کی عکاس ہیں۔

مستقبل پسند (Futuristic) ڈیزائنز: آزادی کے بعد باکو نے دنیا کے جدید ترین اور اچھوتے ڈیزائنز کو اپنایا۔ ملکہِ فنِ تعمیر زہا حدید کا ڈیزائن کردہ حیدر علیئیف سینٹر اور شعلوں کی شکل میں بنے فلیم ٹاورز اس جدید اور جرات مندانہ سوچ کا پتہ دیتے ہیں جہاں شیشے اور اسٹیل کو پانی کی طرح موڑ دیا گیا ہے۔

  1. 2. باکو کے سحر انگیز اور خوبصورت مقامات

باکو میں تاریخی یادگاروں سے لے کر جدید ترین تفریح گاہوں تک، ہر آنکھ کے لیے ایک الگ نظارہ موجود ہے:

الف۔ نظامی اسٹریٹ (Nizami Street)

شہر کے بالکل مرکز میں واقع نظامی اسٹریٹ باکو کی دھڑکن کہلاتی ہے۔ مشہور فارسی اور آذربائیجانی شاعر نظامی گنجوی کے نام سے منسوب یہ پیدل چلنے والوں کی مخصوص شاہراہ (Pedestrian Street) شاپنگ، تفریح اور طرزِ تعمیر کا ایک جادوئی شاہکار ہے۔

اسے مقامی طور پر “ٹورگووایا” (Torgovaya) بھی کہا جاتا ہے۔

اس اسٹریٹ پر واک کرتے ہوئے آپ کو 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل کی باروکی اور گوتھک فنِ تعمیر کی خوبصورت ترین عمارتیں، پرتعیش برانڈز، کیفے اور دلکش لیمپ پوسٹس نظر آتے ہیں۔ رات کے وقت جب یہ سڑک برقی روشنیوں سے جگمگا اٹھتی ہے، تو یہاں کا حسن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

ب۔ اچری شہر (Icherisheher) اور میڈن ٹاور

یونیسکو کا عالمی ورثہ قرار دیا جانے والا یہ قلعہ نما پرانا شہر تاریخ کے دھندلکوں میں لے جاتا ہے۔ یہاں کا “میڈن ٹاور” (Maiden Tower) جو اپنی پراسرار تاریخ اور منفرد ساخت کے لیے مشہور ہے، اور “شیروان شاہ محل” فنِ تعمیر کا لازوال شاہکار ہیں۔

ج۔ باکو بلیوارڈ (Baku Boulevard)

بحیرہ خزر کے ساحل کے ساتھ ساتھ میلوں لمبا یہ پارک باکو کی روح ہے۔ شام کے وقت یہاں کی چہل پہل، چلتی ہوئی خنک ہوائیں، کیفے، اور سمندر کے پانی میں چمکتی روشنیاں ایک جادوئی ماحول پیدا کرتی ہیں۔ یہیں پر “لٹل وینس” (Little Venice) بھی واقع ہے جہاں کشتی رانی کا لطف لیا جا سکتا ہے۔

د۔ حیدر علیئیف سینٹر (Heydar Aliyev Center)

بغیر کسی سیدھی لائن یا کونے کے بنی یہ مائع (Fluid) نما سفید عمارت جدید فنِ تعمیر کا معجزہ معلوم ہوتی ہے۔ اس کے باہر پھیلے سبزہ زار اور اس کے اندر موجود عجائب گھر آذربائیجان کی ثقافت کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں۔

ہ۔ فلیم ٹاورز (Flame Towers)

باکو کے سب سے اونچے پہاڑی مقام پر بنے یہ تین ٹاورز دور سے ہی نظر آتے ہیں۔ رات کے وقت جب ان پر لگی ہزاروں ایل ای ڈی لائٹس سے آگ کے شعلے اور آذربائیجان کا پرچم لہراتا دکھائی دیتا ہے، تو پورا شہر اس کے سحر میں کھو جاتا ہے۔

و۔ حیدر مسجد (Heydar Mosque)

یہ پورے خطہِ قفقاز کی خوبصورت ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ اپنی وسعت، دلکش گنبدوں اور رات کے وقت اس پر کی جانے والی لائٹنگ کی وجہ سے یہ عقیدت اور خوبصورتی کا ایک شاہکار ہے۔

  1. 3. باکو کے لوگوں کا مزاج اور طرزِ زندگی

باکو کی خوبصورتی صرف اس کی عمارتوں میں نہیں، بلکہ یہاں کے باسیوں کے دلوں میں بھی ہے۔ یہاں کے لوگوں کا مزاج مشرقی مروّت اور مغربی شائستگی کا عکاس ہے:

مہمان نوازی (Guest is King): آذربائیجانی لوگ مہمان نواز اور ملنسار ہیں۔ اگر آپ کسی مقامی سے راستہ بھی پوچھیں، تو وہ مسکرا کر نہ صرف راستہ بتائے گا بلکہ بسا اوقات آپ کی منزل تک ساتھ جانے کے لیے بھی تیار ہو جائے گا۔ سیاحوں کی عزت کرنا ان کی جبلت کا حصہ ہے۔

چائے اور گفتگو کی ثقافت: ترکیہ کی طرح باکو کے لوگوں میں بھی چائے (Çay) پینے اور پلانے کا جنون حد سے زیادہ ہے۔ ناسپاتی کی شکل کے چھوٹے شیشے کے گلاسوں (Armudu) میں لیموں اور جام (Jam) کے ساتھ چائے پیش کرنا ان کی روایتی تواضع ہے۔ چائے خانوں میں گھنٹوں بیٹھ کر گفتگو کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔

پرسکون اور مہذب طرزِ زندگی: یہاں کی سڑکوں پر بے ہنگم شور یا جلد بازی نظر نہیں آتی۔ لوگ قانون کا احترام کرتے ہیں، خواتین کی عزت کی جاتی ہے اور جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

فن اور ادب سے لگاؤ: باکو کے لوگ موسیقی، اوپیرا، تھیٹر اور شاعری کے دلدادہ ہیں۔ پارکوں میں اکثر لوگ خاموشی سے کتابیں پڑھتے نظر آتے ہیں۔ یہاں نسلی اور مذہبی رواداری کو بہت اہمیت حاصل ہے؛ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی مقامی آبادی میں مسلمان، عیسائی اور یہودی صدیوں سے امن و آشتی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

باکو ایک ایسا شہر ہے جو اپنے طرزِ تعمیر سے آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے، اپنے تفریحی مقامات سے روح کو تازگی بخشتا ہے اور اپنے لوگوں کے دھیمے اور شفیق مزاج سے دلوں کو جیت لیتا ہے۔ یہ مشرق کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں ماضی کا احترام اور مستقبل کے خواب دونوں یکساں چمک رہے ہیں۔

#شیردل

Loading