Daily Roshni News

بزرگ فرماتے ہیں ہمیں سوچنا پڑے گا۔۔

بزرگ فرماتے ہیں ہمیں سوچنا پڑے گا کے وہ جو ہمارے اندر کِبر پیدا ہو جاتا ہے نہ اعمال کا اور ہم باتیں بنانی شروع کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کے مرتبے ناپنے شروع کر دیتے ہیں تو وہ ناپنے والے سوچ لیں کے اُنکی نمازیں اُن کے روزے حج و عمرے زکوٰة کہاں بکیں گے ؟ کیا Value ہے اُن سب کی ؟اگر محبت کا غلبہ نہ ہوا اور محبت سُچل نہ ہوئی تو کچھ بھی ہمارے پلے نہیں ہے یہ بہت ضروری ہے اس طرح دیکھنا اِس کو اس طرح پرکھنا کوشش کریں قرآن کریم کو اس نگاہ سے دیکھیں سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کا مطالعہ کریں احادیث کو اس نگاہ سے دیکھیں کہ آپ کے اندر محبتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم بڑھتی چلی جائے کیوں کے جتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم سے محبت بڑھتی جائے گی اللہ تعالیٰ سے آپ کا قُرب بڑھتا جائے گا اور کبھی بھی کوئی شخص کسی بھی معاملے میں اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وااصحابہ وسلم کی مرتبت کے حوالے سے نہ سوچے ہم جانتے ہی نہیں کے کیا مقام ہے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کا اور نہ صرف جانتے نہیں بلکہ جان سکتے ہی نہیں ہیں ہماری یہ بساط ہی نہیں ہے وہ اللہ تعلیٰ کا اور اُس کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کا معاملہ ہے ہم پے تو بس کچھ کرم ہو جائے تو ہمارے لیے یہ بڑے نصیب کی بات ہے ایک بات اور سمجھ لیں جو اکثر Quote ہوتی ہے مگر اُس کو سمجھنے میں غلط فہمی ہوتی ہے کے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وصحابہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم مجھے آپُ سے بہت محبت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ واحابہ وسلم نے فرمایا واقعی ؟ اس شخص نے جواب دیا جی سچ اُس نے پھر دہرایا کے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم مجھے آپؐ سے بہت محبت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم نے پھر فرمایا واقعی ؟ تو جب اُس نے تیسری بار ایسا کہا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا پھر فقر کے لیے تیار ہو جاؤ فقر کہتے ہیں غریبی کو اور ہمارے ہاں ہر بندہ حلوے مانڈے کی آرزو میں ہے امیر سے امیر ہونا چاہتا ہے مال کی جستجو میں ہے تلاش میں ہے اور کہتا یہ ہے کے میں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم میں مبتلا ہوں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کا تو رزلٹ نظر آرہا ہے کے تجھے غریب ہونا پڑے گا کیوں کے جب تو عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم میں مبتلا ہو جائے گا تو یقینی طور پر تجھے مال سے محبت نہ رہے گی اور جس چیز سے محبت نہ رہے اُس پے توجہ نہیں رہتی اور جس پے توجہ نہ رہے وہ چیز بھی آپ کے پاس نہیں رہتی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم میں مبتلا ہوئے تو آخری زمانہ بڑی غربت کے عالم میں گزارا متول لوگوں میں سے تھے امیر لوگوں میں سے تھے مکہ کے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب کملی والے صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی محبت میں مبتلا ہوئے تو کوئی پیسہ نہ بچا جب کے اُنؓ کے پیسے کا حساب نہ تھا حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب کملی والے صلی اللہ علیہ وآ لہ واصحابہ وسلم کے عشق میں گرفتار ہوئیں تو مکہ کی امیر ترین خاتون تھیں مگر آخری زمانے میں شعب ابی طالب میں چمڑے کو گلا گلا کر کھاتے تھے کے کھانے کو بھی کچھ نہ تھا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جب مکہ کی گلیوں سے گزرتے تو گلیاں خوشبو سے نہا جاتی تھیں اتنا اعلی عطر استعمال کرتے اُس زمانے میں اور جب کملی والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے عشق میں مبتلا ہوئے تو اُنؓ کے بدن پر گھاس ڈال کر دفن کیا گیا تو کوئی چادر نہ تھی آپؓ کو کفن دینے کے لیے تو جو لوگ دعوے کرتے ہیں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کے تو وہ لوگ سمجھ لیں اگر وہ واقعی ہی سچے ہیں تو انھیں غریبی Adopt کرنی پڑے گی اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم غریب نہیں تھے وہ تو بانٹنے والے تھے اُن کی Choice تھی غریبی تا کے غریب کو یہ پتہ لگے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا عشق ہے تو جو یہ چاہے کے میں عاشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم بن جاؤں تو اُس میں یہ نہیں ہے کے وہ نعتیں کتنی پڑھتا ہے اور کتنی سنتا ہے یہ بھی ایک چھوٹا سا ذریعہ ہے عشق کا مگر اصل بات یہ ہے کے وہ پھر مال سے محبت نہیں کرے گا اپنی ساری محبتیں کملی والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر قربان کرے گا اور جب تک ایسا نہیں کرے گا اُس کے رویے میں درگزر نہیں ہو گی معافی نہیں ہوگی تو اُس کا عشق مکمل نہیں ہو سکتا آپ دیکھیں ذرا سمجھنے کی بات ہے کے بہترین بستروں پر ہم سوتے ہیں بڑی آسائشوں کی ذندگی گزارتے ہیں اور عشق کی باتیں کرتے ہیں کملی والے صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی کملی والے صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا یہ عالم ہے ایک دن صبح کو اٹھے تو کہتے ہیں آج میرے بستر کے ساتھ تم نے کیا سلوک کیا کے مجھے تہجد میں اٹھنے میں مانع ہوا میرا بستر مجھے تہجد میں رکاوٹ بن گیا میرا یہ بستر۔

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم ہم نے کچھ بھی نھیں کیا بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا جو کمبل مبارک ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم بچھاتے ہیں اُس کی ایک تہھ فالتو کر دی کملی والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے یہ معاملات ہیں اور ہم اپنے بیڈ کو کمرے کو اعلی ترین کرتے چلے جاتے ہیں کے ساؤنڈ پروف بھی ہو تا کے باہر کی کوئی آواز آذان سمیت اندر نہ آس کے اور میرے خلل نہ پڑے آرام میں اور عاشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم میں رہوں تو یہ دو باتیں اکھٹی نہیں ہوں گی جو بھی دعویدار بنتا ہے عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کا اُس کو فقر قبول کرنا پڑے گا غربت کی مصبتوں اور مسائل سے گزرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Loading