بطن نخلہ کا واقعہ: پہلی جنگ اور پہلی غنیمت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل) مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت تیار تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی طور پر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو اس جماعت کا امیر مقرر کیا تھا، لیکن جب وہ رخصت ہونے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کا غم ان پر طاری ہو گیا اور وہ رونے لگے۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا اور حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو نئے سردار کے طور پر مقرر کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مہر بند خط دیا اور فرمایا: “دو دن سفر کرنے کے بعد ہی اسے کھولنا۔”
حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ آٹھ مہاجر صحابہ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ان میں حضرت عمار بن یاسر، حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عتبہ بن غزوان، حضرت سہیل بن بیضاء، حضرت عامر بن فہیرہ، حضرت واقد بن عبداللہ اور حضرت رباب اسدی رضی اللہ عنہم شامل تھے۔
دو دن کے بعد جب وہ بطن نخلہ پہنچے تو حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے خط کھولا۔ اس میں لکھا تھا: “مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں جاؤ، قریش کے قافلے کی معلومات حاصل کرو اور ہمیں اطلاع دو۔”
انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: “جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو، وہی میرے ساتھ چلے۔” دو صحابی، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما اپنے گمشدہ اونٹوں کی تلاش میں رہ گئے، باقی چھ صحابی آگے بڑھے۔
راستے میں انہیں قریش کا ایک تجارتی قافلہ نظر آیا جس میں عمرو بن حضرمی، عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان شامل تھے۔ صحابہ کرام کو علم نہ تھا کہ یہ جمادی الاخری کا آخری دن ہے یا رجب کا پہلا۔ انہوں نے مشورہ کیا: اگر آج انہیں چھوڑ دیا تو کل سے حرمت کا مہینہ شروع ہو جائے گا اور ہم کچھ نہیں کر سکیں گے۔
آخرکار حضرت واقد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حضرمی پر تیر چلایا جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ باقی دو افراد کو قیدی بنا لیا گیا اور مال غنیمت ساتھ لے کر واپس مدینہ کی طرف چل پڑے۔
مدینہ پہنچ کر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ کی تفصیلات معلوم ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی ظاہر فرمائی: “میں نے تمہیں حرمت والے مہینوں میں لڑائی کا حکم نہیں دیا تھا۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو مال غنیمت قبول کیا، نہ ہی قیدیوں کو رکھا۔
ادھر قریش نے پراپیگنڈا شروع کر دیا: “دیکھو محمد اور ان کے ساتھی حرمت والے مہینوں میں بھی لڑائی کرتے ہیں!” یہودیوں نے بھی بدفالی نکالی۔
اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں:
“یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِیلِ اللّہِ وَکُفْرٌ بِہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَہْلِہِ مِنْہُ أَکْبَرُ عِندَ اللّہِ وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ” (البقرہ: 217)
“اے نبی! لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ اس میں لڑائی بڑا (گناہ) ہے، لیکن اللہ کی راہ سے روکنا، اس کا انکار کرنا، مسجد حرام تک (لوگوں کی) رسائی روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔ اور فتنہ انگیزی قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔”
ان آیات کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت اور قیدی قبول کیے۔ قریش نے فدیہ دے کر قیدی چھڑا لیے، جن میں سے حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر کے مدینہ ہی میں رہ گئے اور بعد میں شہید ہوئے۔
یہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں کو مال غنیمت ملا، پہلا موقع تھا جب قیدی لیے گئے، اور پہلا موقع تھا جب خمس نکالا گیا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں “سریہ عبداللہ بن جحش” کے نام سے مشہور ہوا۔
حدیث شریف:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ نے تم پر حرمت والے مہینوں کی حرمت کو تمہارے لیے مضبوط کیا ہے، پس تم بھی ان کی حرمت کو مضبوط کرو۔” (مسند احمد)
![]()

