Daily Roshni News

بنو امیہ کے بادشاہوں کا برتاؤ حضرات اہل بیت علیہم السلام سے بہت ہی برا رہا

بنو امیہ کے بادشاہوں کا برتاؤ حضرات اہل بیت علیہم السلام سے بہت ہی برا رہا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بنو امیہ کے بادشاہوں کا برتاؤ حضرات اہل بیت علیہم السلام سے بہت ہی برا رہا ہے اور وه  ہمیشہ حضرات اہل بیت علیہم السلام کی اہانت(توہین) میں کوشاں رہے لیکن اس کے باوجود انہیں مجالس و معارضات میں  ہاشمی فصاحت و بلاغت سے ہمیشه ذلت و رسوائی نصیب ہوتی رہی-

ایک دفعه موسم حج میں ہشام بن عبدالملک نے شام کے چند سرداروں کے ساتھ حرم بیت اللہ میں حجر اسود کے استلام (بوسہ) کے لیے کوشش کی لیکن رش کی وجہ سے کامیاب  نہ ہوا, اس پاک جگہ میں کعبتہ اللہ کا جلال سخت غالب ہے, استلام سے ناکامی کے بعد اس کے ملازمین نے حرم شریف کے صحن میں اس کے لیے کرسی بچھا دی اور وه اس پر بیٹھ کر زائرین کو دیکھتا  رہا-

اس دوران جب امام ہمام حضرت سیدنا علی زین العابدین رضی اللہ عنہ حرم شریف میں داخل ہوئے تو خلق کا ہجوم ان کے راه سے  ہٹ گیا اور حجر اسود کے استلام (بوسہ) کے وقت لوگوں نے ان کے ادب کی وجہ سے جگہ خالی کردی اور وه بڑے آرام اور وقار سے ادائے استلام سے فارغ  ہوئے-

اس وقت شامی سردار جو  ہشام کے ساتھ سفر میں تھا اس سے پوچھنے لگا کہ یہ خوبصورت جوان کون ہے??? جس کے خورشید جمال سے چاند بھی شرماتا ہے, اور اس شوکت کے باوجود شعار بندگی رکھتا ہے, جس کی خوشبوئے لقا سے بوئے زندگی آتی ہے-

ہشام بن عبدالملک کے دل میں خوف پیدا ہوا کہ کہیں اس شامی سردار کے دل میں امام علی زین العابدین رضی اللہ عنہ کی عزت اور وقعت پیدا نہ ہو جائے تو اس نے حقارت سے جواب دیا (لا اعرفہ) یعنی میں نہیں جانتا-

اور ساتھ ہی نہایت حیران ہوا کہ ہماری کوششوں کے باوجود ابھی تک لوگوں کے دل میں ان کا اتنا اعزاز موجود ہے-

عرب کے شاعروں میں سے فرزدق شاعر نے ہشام کی بات سن کر  کہا

(ان کنت لا تعرفه فانا اعرفه)

اگر تو ان کو نہیں  پہچانتا تو میں پہچانتا ہوں, پھر ایک لمنا قصیده مناقب میں بآواز بلند پڑھا, دو تین شعر اس قصیده کے یہ ہیں,

       ھذا ابن رسول الله ان کنت جاھله

       البیت  یعرفه   والحل   و    الحرم

(یہ علی زین العابدین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند ہیں ان کو بیت اللہ حل و حرم پہچانتے  ہیں اگر تو ان کو  نہیں پہچانتا تو اب  پہچان لے کہ)

        ھذا   ابن   فاطمته  اسد لله  والده

        بجده   انبیاء   الله      قد    ختموا

(یہ حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اور شیر خدا رضی اللہ عنہ کے فرزند ہیں اور ان کے نانا پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انبیاء کا سلسلہ ختم ہوا)

        ھذا  اذا جاء القریش  قال قائلھم

       الی مکارم ھذا الفتی ینتهی الکرم

(یہ وه شخص ہیں کہ قریش ان ہی کے بارے میں کہا کرتے ہیں کہ اس جوان کے مکارم و فضائل پر کرم کی انتہا ہے)

         ان عدت  اهل  التقی  فهم  ائمتهم

        وان قیل من خیر خلق الله قیل هم

(اگر تو اے مخاطب اہل تقوی کی گنتی کرے تو یہ ان کے امام ہیں اور اگر خلق اللہ میں سے سب سے اچھے آدمی کی بابت سوال ہو تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہی ہیں)

ہشام نے جب یہ قصیده سنا تو شاعر کو قید کروا دیا, حضرت امام علی زین العابدین رضی اللہ عنہ نے یہ ماجرا سنا تو باره ہزار درہم فزدق شاعر کو ارسال فرمائے تاکہ وه دے کر اپنی جان چھڑا لے, فزدق شاعر نے وه درہم واپس کر دئیے اور کہلا بھیجا کہ میں نے یہ کلمات خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کے لیے کہے ہیں کہ ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنا مؤمن مخلص کا شعار ہے,

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے دوباره وه درہم اس کے پاس ارسال فرما دئیے اور فرمایا کہ اللہ تجھ کو تیری نیت خیر پر جزا دے, بے شک یہ کلمات تم نے طمع اور انعام کے لیے نہیں کہے تھے لیکن ہم بھی ایسے خاندان سے  نہیں ہیں کہ اپنے عطیات اور ہبہ کو واپس لے لیں, اس پر فزدق شاعر نے وه دراہم قبول کر لیے-

مترجم کہتا ہے کہ حضرت قبلہء عالم سیدنا پیر مہر علی شاه رحمتہ اللہ علیہ کا یہ ملفوظ موجوده دور کے ان افراد پر پورا صادق آتا ہے جو یزید کو امیرالمؤمنین اور خلیفہ برحق ثابت کرتے ہیں اور جناب سیدالشہداء امام عالی مقام علیہ السلام پر بغاوت تک کا الزام دھرنے سے نہیں شرماتے, چنانچہ ایک جدید محقق محمود احمد عباسی کی کتاب

“خلافت یزید و معاویہ” اس امر کی کھلی دلیل ہے, جس کے خلاف دیوبندی اور بریلوی مکتب فکر کے علماء نے متفقہ طور پر آواز اٹھائی اور تردید میں کتابیں لکھیں-

سبحان اللہ یہ حضرت قبلہء عالم رحمتہ اللہ علیہ کی کرامت ہے  بہت عرصہ پہلے اس گروه کی نشان دہی فرما دی-

ملفوظ 162 سے اقتباس

Loading