بچوں کے حافظے کو بہترین بنائیے
تحریر۔۔۔قراء علی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔ بچوں کے حافظے کو بہترین بنائیے۔۔۔ تحریر۔۔۔اقرا علی)کیا آپ کا بچہ چیزیں رکھ کر بھول جاتا ہے۔ بار بار بھولتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے….؟ کیا وہ کلاس میں بیٹھ کر اونگھتارہتا ہے….؟
جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں ان کی یاداشت بہتر ہوتی ہے۔ اگر آپ کا بچہ پڑھائی پر اور دیگرکاموں میں پوری توجہ اور دھیان نہیں دے پاتا تو اس مسئلے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ابتدائی مرحلے میں ایک بچہ اپنی پانچ حسوں Senses کے ذریعے معلومات جمع کرتا ہے وہ سن کر ، دیکھ کر، سونگھ کر، چھو کر اور حرکت کر کے یہ کام کرتا ہے۔
دوسرے مرحلے میں جسے ہم پروسیسنگ کہتے ہیں وہ سننے اور دیکھنے والی چیزوں کو محسوس کر کے ان کا جائزہ لے کر معلومات کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ آخری Output فیز میں بچے سے امید کی جاتی ہے کہ وہ حاصل کردہ معلومات کا تجزیہ کر کے اپنا رد عمل ظاہر کرے۔
مثال کے طور پر الفاظ یادداشت کے بینک سے نکالے جاتے ہیں اور ان سے جملے ترتیب دیے جاتے ہیں یا بچہ ذہن پر زور دے کر یاد کرتا ہے کہ انسانی ڈھانچہ دیکھنے میں کیسا لگتا ہے اور پھر سائنس ٹیسٹ میں ڈائی گرام بناتا ہے۔ اس پوری زنجیر میں اگر کوئی ایک کڑی بھی کمزور ہو تو اس کی یادداشت کمزور پڑ جاتی ہے اور بچہ بھول جاتا ہے یاAbsent Mind بن جاتا ہے۔ آئے دیکھتے ہیں کہ Spelling کے معمولی سے کام میں گڑبڑ کس طرح ہوتی ہے۔ کسی لفظ کی اسپیلنگ یاد کرنے میں پہلا کام یہ یاد کرنا ہوتا ہے کہ الفاظ کس قسم کی آواز پیدا کر رہے ہیں اور یہ الفاظ کہاں رکھے ہیں۔ (انگریزی میں ہم پہلے عمل کو Phonemic Awareness اور دوسرے کو Sequencing کہتے ہیں۔ ایک بچے کو بہت احتیاط سے کسی لفظ کی آواز سنی پڑتی ہے اور اس قابل ہونا پڑتا ہے کہ وہ اس لفظ کے Sequence کو دوبارہ بتا سکے اس کے ساتھ ہی اسے اسپیلنگ رولز یاد ہونے چاہئیں جن کو وہ خود بخود استعمال کر سکے اور صحیح لفظ لکھنے کے لیے اسے ذہن پر زور دے کر الفاظ کی Shape یاد کرنی چاہیے۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں آپ کو بالکل کار کی ڈرائیونگ کی طرح ایک ساتھ کئی کام کرنے پڑتے ہیں۔
کچھ بچوں کی یاداشت دوسروں سے بہتر کیوں ہوتی ہے…..؟ اس میں بہت کچھ بچے کا اپنا شوق اور اس اہمیت پر ہوتا ہے کہ وہ معلومات کو کتنی اچھی طرح Link کرتا ہے۔ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں ان کی یادداشت بہتر ہوتی جاتی ہے کیونکہ ان کو ارد گرد کی دنیا کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل ہوتی ہیں اور وہ پس منظر میسر آتا ہے جس میں وہ اپنا کوئی تجربہ فٹ کر سکتے ہیں۔
زیادہ عمر کے بچے کسی صورت حال کے بارے میں زیادہ تفصیلات زیادہ عرصے تک یاد رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ممتاز چائلڈ ایکسپرٹ ڈاکٹر جورک مشورہ دیتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو اتنے ہی اعداد و شمار اور حقائق یاد کرنے کے لیے دیں جن کو وہ اپنی عمر
کے اعتبار سے یادرکھ سکیں۔
پانچ سال کی عمر تک کے بچے ناخوشگوار واقعات زیادہ یاد رکھتے ہیں مثلا کسی بلی کی موت اور ڈاکٹر کا Visit ان کی یادداشت میں زیادہ عرصے تک محفوظ رہتا ہے کیونکہ Stress یاد باؤ دھیان میں اضافہ کرتا ہے اور یادداشت میں زیادہ آسانی سے راستہ بناتا ہے اسکول بھی یادداشت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چنانچہ پروفیسر ڈاکٹر لیون کا کہنا ہے کہ پریکٹس آدمی کو پر فیکٹ بناتی ہے اور بچوں کو اسکول میں بہت زیادہ پر سیٹس کے مواقع ملتے ہیں۔ مگر اس کے الٹ بھی ہو سکتا ہے بعض بچے تو دباؤ برداشت نہیں کر پاتے اور اس قسم کے جملوں سے بلاخر گھر اجاتے ہیں کہ یاسر کو اسپیلنگ یاد نہیں ہوتی۔ حارث کو ریاضی کے فارمولے یاد نہیں رہتے۔
دھیان دینا اور حقیقت اپنی توجہ کو کنٹرول کرنے کی اہمیت ہے۔ ذیل میں وہ اسباب دیے جارہے ہیں
جن سے دھیان بر قرار رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ….. دھیان بانٹنے والی آواز میں۔
…. آپ کے جسم کی کیفیت۔
یوریت ….. دن کو خواب دیکھنا ( Day Dreaming)۔
بھوک
….. فکر پریشانی
کسی موضوع کی ناپسندیدگی یا عدم دلچسپی۔
…. ٹیلی ویژن پروگرام
. یہ احساس کہ کام بہت مشکل اور بڑا ہے۔
….. بار بار کی دخل اندازی (Interruption)۔
پڑھنے کے بارے میں فیصلے کی کمی (پڑھوں یانہ پڑھوں)۔
نیند کی کمی۔
چند اچھی عادتیں ڈالیے …
یاد کرنے کا ارادہ کیجیے۔ خود سے کہیے۔ یہ کچھ نہیں ہے میں اسے یاد کر سکتا ہوں۔
یہ یقین کرلیں کہ آپ کا ذہن وہ سب کچھ محفوظ کر رہا ہے جو آپ کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔
اپنے Subject میں دلچسپی لیں۔ بور ہور ہے ہوں تو سبجیکٹ بدل لیں۔
…. اپنے آپ کو جاننے خاص طور پر اپنا سیکھنے کا اسٹائل۔ مثلاً یہ کہ آپ چیزوں کو فہرستوں کے ذریعے ، فلو چارٹ سے یا پھر ڈ آئی گرام سے زیادہ بہتریادر کھتے ہیں۔
…. دهیان بانٹنے والی فہرست سامنے رکھیں اور اسے کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔ جیسے ہی آپ خود کو Day Dream میں مصروف پائیں فوراً ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دیں۔
کسی چیز کو یاد کرتے ہوئے کسی ایک پوائنٹ ( یعنی گھڑی، انگوٹھی، انگلیاں، دیوار
پر کوئی نشان) پر اپنی نگاہ مرکوز کر لیں۔ … اپنے آپ سے باتیں کریں۔ جیسے آپ کسی اور کو اس موضوع کے بارے میں پڑھا رہے ہیں۔
یاد کرنے کے دوران اپنے ذہن میں اس سے ” متعلق تصویریں بناتے رہیں۔
…. یاد کرتے ہوئے زبان سے اسے دہرائیں Recite کریں۔ …..
کسی معلومات کو دیکھ کر اسے اپنی نوٹ بک میں ہیں۔
….. تقریباً 45 منٹ پڑھنے کے بعد پانچ سے دس منٹ کا وقفہ کریں۔
کسی نئے موضوع کو شروع کرنے سے پہلے دماغ کو پندرہ سے ہیں منٹ تک دوبارہ فوکس
(Refocus) کریں۔
…. جب تازہ دم ہوں تو سب سے مشکل میٹریل اٹھا ئیں۔
پہلے یہ فیصلہ کریں کہ ایک وقت میں کتنا یاد کرتا ہے اور پہلے اپنی یاد کرنے کی حکمت عملی کو آخری شکل دیں۔
یہ وہ اصول ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف آپ کے بچے کی بلکہ آپ کی بھی یادداشت بہتر ہو سکتی ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2016