Daily Roshni News

بچوں کے مزاج پر موبائل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور والدین کی ذمہ داریاں

بچوں کے مزاج پر موبائل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور والدین کی ذمہ داریاں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بچوں کے مزاج پر موبائل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور والدین کی ذمہ داریاں)شاید آپ نے محسوس کیا ہو کہ موبائل فون یا لیپ ٹاپ سے چھٹے رہنے اور راتوں کو دیر تک جاگنے والے لڑکے لڑکیوں کا رویہ زندگی کے بیشتر معاملات میں بہت مختلف اور کچھ عجیب سا ہو جاتا ہے۔ روز مرہ کے کئی کاموں میں ان پر ایک عجیب سی سستی اور کاہلی کا غلبہ رہتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ غصے اور چڑ چڑاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے کھانے پینے کے معمولات میں بے قاعدگی آنے لگتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ بعض لوگوں کے رویے میں خوش خلقی، کشادہ دلی، نرمی اور گر مجوشی نہیں رہتی۔ ایسے بعض افراد اپنے ایک دو بہت ہی خاص اور قریبی افراد کو چھوڑ کر باقی سب کے ساتھ رویہ کچھ ایسا ہو جاتا ہے جیسے وہ باد دل نا خواستہ انہیں بس برداشت کر رہے ہیں۔ سماجی نیٹ ورک میں اضافے کی بدولت انسانوں کے باہمی رابطے بہت وسیع ہورہے ہیں۔ یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس سماجی نیٹ ورک کے ہماری زندگی پر کتنے مثبت اور کتنے منفی اثرات ہو رہے ہیں۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محقق اور ماہر نفسیات کی تحقیقات کے مطابق فیس بک (یا آن لائن سماجی رابطوں) کے زیادہ استعمال سے انسان میں خود پرستی، نفسیاتی مشکلات، سماج مخالف دشمن رویے اور پر تشدد جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض نتائج نشاندہی کرتے ہیں کہ فیس بک استعمال کرنے والے بچے اور بڑے نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب اسکاٹ لینڈ میں اساتذہ کو خبر دار کیا گیا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک کا زیادہ استعمال ان کے کیر میئر کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

ایک دور تھا جب بچے گھر سے باہر باغوں اور پارکوں میں، گلیوں اور محلوں میں کھیل کود اور بھاگ دوڑ میں مصروف رہا کرتے تھے۔ ان صحت مند سر گرمیوں سے ان کے جسم اور ذہن کو جلا ملتی تھی، لیکن جب سے کارٹون فلموں، ویڈیو گیمز، کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ کا دور آیا ہے، بچوں کی دنیا ہی بدل گئی ہے۔ آج کے بچوں کا سب سے پسندیدہ مشغلہ آن لائن گیمز میں حصہ لینا ہے۔ ایک وقت تھا جب کمپیوٹر گیمز کو تفریح کا ذریعہ اور غیر مضر قسم کا مشغلہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اس کی یہ حیثیت باقی نہیں رہی۔ کئی والدین اور طب کے پیشے سے وابستہ افراد کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد معمول کی تفریحی سرگرمیوں کو چھوڑ کر اور خاندانی مصروفیات سے صرف نظر کر کے گوشہ تنہائی میں آن لائن گیمز میں مصروف رہتی ہے۔ فارغ وقت میں اور مختصر وقفے کے لیے گیمز کھیلنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن کچھ بچے اور نوجوان آن لائن گیم کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ اس سے ان کی نگاہ اور صحت دونوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

بچوں کو گیمز کھیلنے پر بھی مقررہ وقت کی پابندی لگانی چاہیے۔ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ آدھے ایک گھنٹے تک گیمز کھیلنا مناسب ہے۔

پریشان کن علامتیں جو بچے بہت زیادہ آن لائن گیمز میں حصہ لیتے ہیں ان کے والدین کو چاہیے کہ وہ اگر ان میں اس قسم کی علامتیں دیکھیں تو چوکنے ہو جائیں اور صورت حال کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔

…. کلائیوں اور گردن میں نسوں کے کھنچ جانے سے درد محسوس کرنا (Tendonitis)۔ ….

 افسردگی، ناامیدی مایوسی۔ …. موڈ کی اچانک تبدیلی۔

…. کسی کام سے روکنے یا خلل ڈالنے سے آگ بگولا ہو جاتا۔

…. دوستوں کے سوا دیگر لوگوں سے ملنے ملانے سے گریز، لیکن دوستوں کی صحبت میں

چاق و چوبند ۔

…. گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے بھی کمرے سے باہر نہ نکلنا اور اپنے کمرے میں رہنے کو ترجیح دینا۔

…. اسکول کے کام کے معیار میں گراوٹ اور کلاس میں پڑھائی کے دوران توجہ کہیں اور ہونا۔ اگر بچہ ضرورت سے زیادہ شرمیلا ہے، لوگوں سے ملنے جلنے سے کتراتا ہے یاڈر اور اسی بات پر پریشان ہو جاتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ اسے بھی وہی مسائل پیش آئیں جو افسردگی یا یاسیت ( ڈپریشن) میں مبتلا افراد کو لاحق ہوتے ہیں۔ ان حالات میں بچہ کمپیوٹر گیمز میں خود کو مصروف رکھ کر خود کو با اختیار د کھانا چاہتے ہیں۔ بچے اس طرح یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی دنیا اور ماحول کے بادشاہ ہیں۔ یہ

بھی دیکھا گیا ہے کہ جن بچوں کے مزاج میں غصہ یا چڑ چڑا پن زیادہ ہوتا ہے، وہ جارحانہ قسم کے ویڈیو گیمز میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

والدین کیا کریں۔۔۔۔؟ بچوں میں اس قسم کی پریشان کن علامتیں دیکھنے میں آئیں تو والدین مختلف اقدامات کے ذریعہ صور تحال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ والدین ابلاغ کا فن سیکھیں یعنی یہ جانیں کہ وہ کس طرح اپنی بات بچوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ بچوں کے خیالات و احساسات سے والدین کا آگا ہر بنا ضروری ہے۔ والدین کا رویہ بچوں کے ساتھ زیادہ دوستانہ اور مشفقانہ ہو گا تو انہیں اپنی اہمیت کا احساس ہو گا۔ وہ خوش ہوں گے کہ ان کی بات سنی جارہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ بچوں کے کمپیوٹر استعمال کرنے کے وقت کو محدود کر دیجیے۔ ان کو بتائیے کہ اس وقت سے اس وقت تک کمپیوٹر استعمال کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں کمپیوٹر کو ایسی جگہ پر رکھیں جہاں گھر کا ہر فرد آ جا سکتا ہو اور اس پر نظر رکھ سکتا ہو۔ کسی چیز کی اوٹ میں یا بند کمرے میں کمپیوٹر رکھنا مناسب نہیں ہے۔

والدین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انٹرنیٹ پر بچے کن سائنٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ اگر وہ کمپیوٹر گیمز کھیلتے ہیں تو ان کی دل جوئی کی خاطر کبھی کبھار والدین کو بھی ان کے ساتھ کھیل میں شریک ہونا چاہیے۔

بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے انہیں گھریلو معاملات اور کام کاج میں شریک کرنا چاہیے۔ اسپورٹس اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

والدین کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ان کے بچوں کے لیے انٹر نیٹ واحد تفریح کا ذریعہ نہیں ہے ، نہ ہی انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ بچوں کو انٹرنیٹ میں مصروف رکھ کر وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں سے اسی طرح بری الذمہ ہو گئے ہیں جس طرح بہت سی مائیں اپنے بچوں کو آیاؤں کے حوالے کر کے خود کو ہانکا پھا کا محسوس کرتی ہیں۔ کئی سائنسی دریافتیں انسان کا وقت بچانے کے لیے وجود میں آئی تھیں۔ ایسی ہر دریافت کا مقصد یہ تھا کہ انسان کا کام آسانی سے، اور کم سے کم وقت میں ہو سکے۔ خصوصاً انٹرنیٹ سے تو یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے، ہمارے سامنے چھوٹی سی میز پر سمٹ آئی ہے لیکن ان تمام دریافتوں کی وجہ سے ہم نے جو وقت بچایا، وہ نجانے کہاں چلا گیا۔ آج ہمارے پاس ایک دوسرے سے ملنے اور آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کے لیے وقت نہیں…. کیا یہ حیرت …. اور دکھ کی بات نہیں ….؟

اگر ہم اپنے بچوں کو آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا کے نشے کے نتیجے میں مستقبل میں پیش آنے والے گمبھیر مسائل سے بچانا چاہتے ہیں تو اب بھی موقع ہے کہ ہم خود اپنے بچوں کی زندگی میں شامل ہو جائیں، ان کے مشاغل اور خوشیوں میں شریک ہوں۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ 2023

Loading