Daily Roshni News

“بھٹو کب مرے گا؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) یہ محض ایک سوال نہیں، ایک عہد کی گونج ہے: “بھٹو کب مرے گا؟”اور اس سوال کا جواب تاریخ نے خود دے دیا — بھٹو ایک شخص نہیں، ایک عہد، ایک سوچ اور ایک احساس کا نام ہے۔

جب Zulfikar Ali Bhutto نے سگار کا آخری کش لیا، تو وہ صرف ایک انسان نہیں تھا جو پھانسی گھاٹ کی طرف بڑھ رہا تھا، بلکہ وہ ایک نظریہ تھا جو وقت کے سینے پر نقش ہونے جا رہا تھا۔ اس نے ایک ڈکٹیٹر، Zia-ul-Haq کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وقتی زندگی سے بڑی چیز دائمی تاریخ ہوتی ہے۔

بھٹو ایک رومانوی، سرمست اور جرات مند لیڈر تھا۔ وہ جلسوں میں صرف تقریریں نہیں کرتا تھا، وہ دلوں میں اتر جاتا تھا۔ اس کے الفاظ دریا کی موجوں کی طرح تھے — بے باک، بے خوف، اور بہتے ہوئے۔ وہ کہتا تھا کہ “ہم نے سیاست اپنے دریاؤں سے سیکھی ہے”، اور واقعی اس کی سیاست میں روانی بھی تھی اور گہرائی بھی۔

اس کی ساڑھے پانچ سالہ حکومت کو محض اقتدار نہیں کہا جا سکتا؛ یہ پاکستان کی تشکیلِ نو کا ایک دور تھا۔ 1973 کا آئین، جو آج بھی ریاست کی بنیاد ہے، اسی کے وژن کا نتیجہ ہے۔ مزدور، کسان اور عام آدمی کو زبان دینے والا یہی شخص تھا۔

اور پھر وہ فیصلہ کن لمحہ آیا، جب اسے تختہ دار پر چڑھا دیا گیا — ایک ایسا عمل جسے آج بھی بہت سے لوگ Bhutto execution 1979 کو عدالتی قتل قرار دیتے ہیں۔

بھٹو کی موت کے بعد وہ ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک داستان بن گیا۔

احمد فراز

نے اس کی پھانسی کو حضرت عیسیٰؑ کی مصلوبیت سے تشبیہ دی،پروین شاکر

 نے اس پر مزاحمتی شاعری لکھی،

اور حبیب جالب نے اسے عوام کی امیدوں کا استعارہ بنا دیا۔

یہی وجہ ہے کہ بھٹو محض سیاستدان نہیں رہا، بلکہ ایک اساطیری کردار بن گیا — کچھ کے لیے مولاجٹ، کچھ کے لیے ایک زیرک مدبر، اور کچھ کے لیے ایک عالمی رہنما۔

خاص طور پر عالمی سیاست میں بھٹو کا کردار غیر معمولی تھا۔ اس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک خودمختار شناخت دینے کی کوشش کی۔ اسلامی سربراہی کانفرنس (1974) کا انعقاد، تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات، اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا — یہ وہ فیصلے تھے جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

بھٹو کا وہ جملہ آج بھی گونجتا ہے:

“ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے” — اور یہی وژن بعد میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد بنا۔

جہاں تک بنگلہ دیش کے قیام کا الزام ہے، تاریخ کو سادہ جملوں میں سمیٹ دینا ناانصافی ہے۔ Bangladesh Liberation War 1971 ایک پیچیدہ سیاسی، عسکری اور بین الاقوامی بحران تھا، جس میں کئی قوتیں، غلطیاں اور حالات شامل تھے۔ بھٹو کو اس سانحے کا واحد ذمہ دار ٹھہرانا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔

بھٹو کے بعد بھی اس کا نام زندہ رہا — بینظیر بھٹو

 نے اس مشن کو آگے بڑھایا، اور آج بلاول بھٹو زرداری اسی وراثت کے امین ہیں۔

بھٹو کی شخصیت ایک مقناطیس تھی — جو اس سے محبت کرتے تھے، وہ بے مثال کرتے تھے، اور جو مخالفت کرتے تھے، وہ بھی شدت سے کرتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا میں بڑے خواب دیکھنے والے لوگ پیدا ہوتے تھے:

Che Guevara، Fidel Castro، Jamal Abdul Nasser، Nelson Mandela — اور انہی کے درمیان ایک نام بھٹو کا بھی تھا۔

وقت بدل گیا، کردار چھوٹے ہوگئے، مگر بھٹو کا قد آج بھی تاریخ کے افق پر کھڑا ہے۔

لوگ آج بھی پوچھتے ہیں: “بھٹو کب مرے گا؟”

تو جواب سادہ ہے:

بھٹو اس دن مرے گا جب اس ملک سے عوام کی امید، مزاحمت کی روح، اور خودمختاری کا خواب ختم ہو جائے گا۔

اور سچ یہ ہے —

وہ دن ابھی نہیں آیا۔

Loading