Daily Roshni News

بہتر کے بدلے کمتر۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم

بہتر کے بدلے کمتر

تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بہتر کے بدلے کمتر۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )اس دن بارش کچھ زیادہ ہی تھی…اور عجیب بات یہ تھی کہ بارش صرف باہر نہیں ہو رہی تھی۔

وہ اسٹاف روم کے کونے میں بیٹھی تھی، ہاتھ میں چائے کا کپ مگر چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔

اس کی آنکھوں میں بھی کچھ ایسا ہی تھا… جو کبھی گرم تھا، اب سرد پڑ چکا تھا۔

“میں نے آخر کھویا کیا ہے…؟”

وہ خود سے پوچھتی ہے… مگر جواب ہمیشہ کی طرح خاموش رہتا ہے۔

کبھی وہ اپنے کام سے محبت کرتی تھی۔

بچوں کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر اس کا دل روشن ہو جاتا تھا۔

ایک لفظ سکھاتی اور یوں لگتا جیسے کوئی چراغ جل گیا ہو۔

مگر پھر…زندگی نے حساب کتاب شروع کر دیا۔

” کتنی سیلری ہے؟”

“کیا ملا تمہیں اتنی محنت کا؟”

“دوسرے دیکھو کہاں پہنچ گئے…”

یہ جملے، دھیرے دھیرے، اس کے اندر اترتے گئے…جیسے زہر پانی میں گھل جائے…. بے رنگ، بے آواز۔

اور پھر ایک دن اس نے فیصلہ کر لیا۔

اس نے وہ نوکری چھوڑ دی…جو اس کے دل کو زندہ رکھتی تھی…

اور ایک ایسی جگہ چلی گئی…جہاں تنخواہ زیادہ تھی… مگر دل کا کوئی کام نہیں تھا۔

نئی جگہ سب کچھ بہتر تھا…ایئر کنڈیشنڈ دفتر، چمکتی میزیں، مہنگی کرسی…اور ہر مہینے بڑھتی ہوئی رقم۔

مگر کچھ تھا…جو مسلسل کم ہو رہا تھا۔

وہ خود۔

وہ اب بھی پڑھاتی تھی… مگر الفاظ میں جان نہیں تھی۔ وہ اب بھی مسکراتی تھی… مگر آنکھوں میں روشنی نہیں تھی۔

ایک دن ایک بچہ اس کے پاس آیا…

اور بولا:

“میڈم، آپ پہلے والی نہیں لگتیں…”

یہ جملہ سیدھا دل میں لگا کیونکہ بچے جھوٹ نہیں بولتے۔

اسی رات، اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ چہرہ وہی تھا… مگر کوئی اور رہ رہا تھا اس کے اندر۔

تب اسے وہ آیت یاد آئی…

“اَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ”

کیا تم بہتر کے بدلے کمتر لے رہے ہو؟

اور اچانک… سب واضح ہو گیا۔

اس نے کیا کھویا تھا؟

اس نے سکون کے بدلے بے چینی لے لی تھی۔

محبت کے بدلے مفاد لے لیا تھا۔ معنی کے بدلے صرف رقم لے لی تھی۔

وہ روئی…کافی دیر تک۔

مگر یہ رونا کمزوری کا نہیں تھا…یہ واپسی کا آغاز تھا۔

کچھ فیصلے آسان نہیں ہوتے…مگر سچ ہمیشہ واضح ہوتا ہے۔

چند ہفتوں بعد…وہ پھر اسی اسکول میں تھی۔

وہی سادہ کرسی…

وہی پرانا کمرہ…

مگر اس بار…وہ خود بھی واپس آ گئی تھی۔

بچے پھر ہنس رہے تھے…اور اس کی آنکھوں میں بھی روشنی لوٹ آئی تھی۔

اس نے سمجھ لیا تھا… ہر چیز جو چمکتی ہے، بہتر نہیں ہوتی…

اور ہر وہ چیز جو سادہ ہو… کمتر نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی زندگی ہمیں زیادہ دیتی ہے…تاکہ ہم پہچان سکیں

کہ اصل میں ہمیں کیا چاہیے تھا۔

اور اصل نقصان ہمیشہ چیزوں کا نہیں ہوتا…کبھی کبھی انسان خود کو کھو دیتا ہے…. اور دیر سے سمجھتا ہے کہ سودا غلط تھا۔

اور تم…؟

کہیں تم بھی تو بہتر کے بدلے کمتر نہیں لے رہے؟

#مقیتہ وسیم

#قرآن_سے_رہنمائی

#زندگی_کا_سچ

#روحانی_افسانہ

#خود_کی_تلاش

#MeaningfulLife

#InnerPeace

#QuranicReflection

#LifeChoices

#SoulAwakening

#MoquitaWasim

Loading