بیعتِ رضوان کا مکمل واقعہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سن 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب دیکھا کہ آپ مسجد الحرام میں داخل ہوئے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ ادا کرنے کا ارادہ فرمایا اور اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ کے ارادے سے نہیں بلکہ صرف عمرہ کی نیت سے گئے تھے، اس لیے آپ کے پاس جنگی ہتھیار نہیں تھے بلکہ صرف مسافر کا سامان تھا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش کو اس کی خبر ملی اور انہوں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ سے بچنے اور معاملہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے صبر اور حکمت کا راستہ اختیار کیا اور قریش کو اپنے مقصد سے آگاہ کرنے کے لیے نمائندہ بھیجنے کا فیصلہ فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان کو مکہ بھیجا تاکہ وہ قریش کو بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ نہیں چاہتے بلکہ صرف عمرہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عثمان مکہ گئے اور قریش سے گفتگو کی، لیکن ان کی واپسی میں تاخیر ہوگئی۔ اسی دوران مسلمانوں میں یہ خبر پھیل گئی کہ حضرت عثمان کو قتل کر دیا گیا ہے۔
جب یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کیا اور ایک درخت کے نیچے ان سے بیعت لی۔ یہ بیعت اس بات پر تھی کہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور اگر جنگ پیش آئی تو ثابت قدم رہیں گے اور میدان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
مسلمان درخت کے نیچے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرتے گئے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دوسرا ہاتھ حضرت عثمان کی طرف سے بیعت کے طور پر رکھا اور فرمایا کہ یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے، اس طرح وہ بھی اس بیعت میں شامل شمار ہوئے۔
قرآن مجید میں اس واقعہ کا ذکر سورہ فتح آیت 18 میں آیا ہے کہ اللہ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی، اور اللہ ان کے دلوں کا حال جانتا تھا اور ان پر سکون نازل فرمایا۔ اس آیت میں ان مخلص اہل ایمان کی تعریف بیان کی گئی ہے جنہوں نے سچے دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کو قتل نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ محفوظ تھے۔ اس کے بعد قریش اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان صلح حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا، جو بظاہر بعض شرائط کے لحاظ سے سخت محسوس ہوتا تھا لیکن بعد میں اسلام کی بڑی فتح ثابت ہوا۔
صلح حدیبیہ کے بعد اسلام تیزی سے پھیلا اور لوگوں کو بغیر خوف کے اسلام کے پیغام کو سمجھنے اور قبول کرنے کا موقع ملا۔
علم گفتگو کے لیے پیج کو فالو کریں اور ویڈیو کو آگے شیئر کریں
![]()

