بیعت کا قانون
کتاب : احسان و تصوف
الشیخ خواجہ شمس الدین عظیمی رحمت اللہ علیہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بیعت کا قانون ۔۔۔ الشیخ خواجہ شمس الدین عظیمی رحمت اللہ علیہ)پیر و مرشد کے وصال کے بعد ان کی بیعت ختم نہیں ہوتی اور پیر و مرشد کا روحانی فیض جاری رہتا ہے ۔۔۔!
بیعت کا قانون
” جو شخص پہلے سے کسی سلسلہ میں بیعت ہو اسے سلسلہ عظیمیہ میں بیعت نہ کریں ۔ یہ قانون ہے کہ ایک شخص دو جگہ بیعت نہیں ہو سکتا۔“
کسی سلسلہ میں بیعت کے بعد مستقل مزاجی سے علم حاصل نہ کرنے اور روحانی استاد کو تبدیل کرنے والا طالب علم دوسری جگہ بیعت ہونے کے بعد بھی اپنا وقت ضائع کرتا ہے ۔ اس لئے دو جگہ بیعت ہونے کی ممانعت ہے۔
اگر مرشد کا وصال ہو جائے تو اس صورت میں بھی دوسری جگہ بیعت نہیں کی جا سکتی ۔ البتہ اگر مرشد کے وصال کے بعد کوئی ایسا بندہ مل جائے جس کی طرزِ فکر مرشد سے قریب ہو تو واردات و کیفیات کی تشریح میں اُس سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مرشد کے وصال کے بعد بھی اس کے روحانی فیوض جاری رہتے ہیں ۔
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
کتاب ::: احسان و تصوف
الشیخ خواجہ شمس الدین عظیمی قلندر رحمتہ اللہ علیہ،،،
![]()

