بینکار اور عالمی معیشت
تحریر برکت حسین شاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بینکار اور عالمی معیشت ۔۔۔ تحریر برکت حسین شاد )حضرت مارکس کی نظریات کے مطابق، تاریخ۔ ہمیشہ تضادات سے جنم لیتی ہے، اور یہ تضاد عموماً دو طبقات کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ طبقات عموماً ظالم اور مظلوم، حاکم اور محکوم، آجر اور اجیر، پرولتاریہ اور بورژوازی کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
طبقات کے درمیان یہ امتیاز سماجی، معاشی، اور سیاسی جدوجہد کو جنم دیتا ہے، جس میں بالائی طبقہ ہمیشہ تھیسس کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ زیریں طبقہ اینٹی تھیسس کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ اس تضاد کی شدت سے سنتھیسس بنتا ہے، جو کہ انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
تاہم، اگر انقلاب رکاوٹ کا شکار ہو جائے تو سنتھیسس دوبارہ تھیسس بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک نیا اینٹی تھیسس جنم لیتا ہے۔
اس طرح تاریخ کی عمل داری مستقل طور پر جاری رہتی ہے، اور طبقات کے درمیان کشمکش ایک مسلسل عمل کی شکل اختیار کرتی ہے۔
تاریخ میں معیشت اور اس کی تقسیم ہمیشہ مرکزِ نزاع رہی ہے۔ بالائی طبقہ ہر چیز کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتا ہے، جبکہ زیریں طبقہ ان استحصالی قوتوں کے خلاف ردعمل دیتا ہے۔
یہ مسلسل تنازعہ وہ قوتیں ہیں جو معاشرتی تبدیلیاں اور انقلاب کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
حضرت مارکس کی بصیرت کے مطابق، دنیا کو چلانے والے ہاتھ وہ ہیں جو دکھائی نہیں دیتے، لیکن حقیقت میں ان کے اثرات ہر سطح پر محسوس ہوتے ہیں۔ ان ان دیکھے ہاتھوں کا تعلق مالیاتی اداروں سے ہے، خاص طور پر بینکاروں سے، جو عالمی سیاست، معیشت، اور طاقت کے دائرے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
یہی بینکار دنیا بھر کی حکومتوں کی تشکیل میں اثرانداز ہوتے ہیں، اور انہی کے زیر اثر قوانین، آئین اور بجٹ ترتیب پاتے ہیں۔
بدنصیبی سے پاکستان میں کسی سرمایہ دار کو مستقل نہیں رہنے دیا جاتا ۔ ہر نئی حکومت ناپسندیدہ سرمایہ داروں کا دیس نکالا کر دیتی ہے جو اپنا سرمایہ لے کر یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں ۔ جس کا نقصان عموماً زیریں طبقہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔
خیر
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بینکنگ سسٹم کی اکثریت یہودیوں کے ہاتھوں میں رہی ہے، اور یہ کوئی نیا موضوع نہیں بلکہ پانچ سو سال پرانی حقیقت ہے۔ تاہم، یہاں یہ بات ضروری ہے کہ ہم عام یہودی عوام سے نفرت نہ کریں، کیونکہ وہ بھی اسی طبقے کا حصہ ہیں جس کا استحصال بڑے مالیاتی ادارے کرتے ہیں۔ اس لئے، عام یہودیوں کی حالت بھی اتنی ہی مشکل اور مظلوم ہے جتنی کہ کسی دوسرے طبقے کی۔
ایک تاریخی مثال کے طور پر، جب وولف نے فرانس اور جرمنی کی جنگ کو غیر ضروری قرار دیا تھا کیونکہ جرمنی کی معیشت ترقی کر رہی تھی، تو یہودی بینکاروں نے وولف کو مجبور کیا کہ وہ اعلان کرے کہ جرمنی جنگ ہار چکا ہے یا پھر جنگ جاری رکھے۔
یہ ویسی ہی جنگ تھی جیسی ایران عراق کے درمیان ہوئی تھی ۔ جس میں نہ کوئی جیتا نہ ہارا ۔
جب وولف نے انکار کیا تو ان بینکاروں نے دھمکی دی کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ ملک میں خانہ جنگی شروع کر دیں گے۔ اس دباؤ کے تحت وولف نے یہودیوں کی ایک مختصر سی تعداد کو درست کر دیا، جسے بعد ازاں بڑھا چڑھا کر چھ لاکھ تک پہنچا دیا گیا۔
چھ لاکھ کہاں سے آئے یہودیوں کی آج تعداد چالیس پچاس لاکھ سے زیادہ نہیں ۔ کیونکہ ان کے ہاں قدرتی طور پر بچوں کی شرح پیدائش کم پائی جاتی ہے ۔
یہاں پر اہم بات یہ ہے کہ وولف نے مذہب کی بنیاد پر نسل کشی نہیں کی بلکہ وہ ایک بڑے مالیاتی سسٹم کے خلاف جنگ لڑنے پر مجبور تھا، جس کی قیادت یہودی بینکاروں کے ہاتھ میں تھی۔ لہٰذا، اس بحث کو مذہب یا نسل پرستی کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے ایک سیاسی اور معاشی سازش کے طور پر سمجھنا چاہیے، جو عالمی طاقتوں کی چالاکیوں کے نتیجے میں سامنے آئی۔
حضرت مارکس نے اس مکروہ معاشی نظام اور اس کے طاقتور مجرموں کو بخوبی سمجھا تھا۔ درحقیقت، اس سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کیونکہ خود مارکس کا تعلق بھی پہلے ایک یہودی خاندان سے تھا۔ اس نے اس نظام کی ساخت کو سائنسی نقطہ نظر سے کھول کر دکھایا، اور عوام کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس نے وضاحت کی کہ یہ تمام اقتصادی استحصال ایک منظم طریقے سے کام کر رہا ہے، جس میں طاقتور بینکاروں کا ہاتھ ہے۔ اب یہ دنیا بھر کے محنت کشوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مارکسی نظریات کو سمجھتے ہوئے اپنی جدوجھد شروع کریں اور ان گدھ بینکاروں سے آزادی حاصل کریں، یا پھر وہ مسلسل ان کے استحصال کی زنجیروں میں جکڑے رہیں، جیسے کولہوں کے بیل، جو ہر روز اپنی مشقت کے باوجود اپنے مالکوں کے فائدے کے لیے کام کرتے ہیں۔
![]()

