Daily Roshni News

بے آواز کی گواہی۔۔۔تحریر ۔۔۔ حقیقت اور فسانہ ۔

🌙✨ بے آواز کی گواہی ✨🌙

تحریر ۔۔۔ حقیقت اور فسانہ ۔ 💔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر ۔۔۔ حقیقت اور فسانہ ۔)شہر کے اُس پار، موچی دروازے کے اندر ایک پرانی مسجد تھی۔ اس کی دیواروں پر زمانے کی سیاہی جم چکی تھی، مگر اس کے محراب میں وہ نور تھا جو کبھی بجھا نہیں کرتا۔ اس مسجد کا امام صاحب ایک نوجوان تھے، جن کا نام عرفان تھا۔ وہ ابھی تیسویں موسم سرما کو چھو رہے تھے، مگر ان کی داڑھی میں پہلی سفیدی آ چکی تھی۔ لوگ کہتے تھے یہ سفیدی علم کی چمک ہے، جو دل کے کاغذ پر پڑتی ہے۔

عرفان صاحب کی امامت بے مثال تھی۔ جب وہ “اللہ اکبر” کہتے، تو ایسا لگتا جیسے یہ آواز میناروں سے نہیں، بلکہ آسمان کے دروازے سے آرہی ہو۔ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب تھی۔ سحر کو اذان، دن بھر مسجد کا دروازہ کھلا رکھنا، غریبوں کے گھر کھانا پہنچانا، اور رات کو تلاوت کا وہ مقام جہاں آنسو بھی الفاظ بن جاتے تھے۔

موچی دروازے کی ہر گلی، ہر دکان، یہاں تک کہ انارکلی کے پھلوں والے شیخ جی بھی انہیں جانتے تھے۔ سب کے لیے وہ “عرفان میاں” تھے، یا “امجد صاحب کا لڑکا”۔ امجد صاحب خود ایک درویش صفت آدمی تھے، جو زندگی بھر کتابوں کی دکان چلاتے رہے اور پھر ایک دن خاموشی سے اس دنیا سے چلے گئے۔ تب عرفان نے مسجد سنبھالی تھی۔

یہ سب کچھ تھا ایک خوشگوار سچائی، جیسے موچی دروازے پر لگنے والی شام کی رونق۔ مگر جیسے ہر شام کے بعد رات آتی ہے، ویسے ہی عرفان کی زندگی پر ایک ایسی رات ٹوٹ پڑی جس نے سب کچھ بکھیر دیا۔

وہ جمعہ کی رات تھی۔ مسجد میں نماز مغرب ادا ہو چکی تھی۔ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ عرفان صاحب ہمیشہ کی طرح وضو خانے کی صفائی کر رہے تھے کہ اچانک گلی سے شور بلند ہوا۔ پہلے ایک چیخ، پھر دو، پھر پوری گلی جاگ اٹھی۔

عرفان صاحب نے جب باہر قدم رکھا تو دیکھا کہ لوگ دوڑ رہے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں لالٹین ہے تو کسی نے موبائل کی روشنی آن کی ہوئی ہے۔ دس قدم آگے، مسجد کی دیوار کے ساتھ، پڑوسن عابدہ بی بی کا بیٹا، جو ابھی دس بارہ سال کا ہوگا، رو رہا تھا۔ اور اس کے سامنے، اندھیرے میں، عابدہ بی بی کی بے جان لاش پڑی تھی۔

خون سے زمین تر تھی۔ گلے پر گہرا نشان تھا، جیسے کسی نے تیز دھار سے پھیر دیا ہو۔

پولیس کو اطلاع ہوئی۔ تھانہ موچی دروازے کے اہلکار دو منٹ میں وہاں تھے۔ عابدہ بی بی کی بیوگی کا قصہ پورا علاقہ جانتا تھا۔ وہ کسی زمانے میں اس مسجد کے پاس ہی واقع مکان کی مالک تھیں، مگر شوہر کے مرتے ہی رشتہ داروں نے انہیں تنگ کر دیا تھا۔ پچھلے پانچ سال سے وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اسی گلی کی ایک کوٹھری میں رہ رہی تھیں۔ کسی کے ساتھ دشمنی نہیں تھی، کسی سے جھگڑا نہیں تھا۔

پولیس نے سب سے پہلے عرفان صاحب سے پوچھا۔ “آپ نے کچھ دیکھا؟”

عرفان صاحب نے سر ہلایا۔ “نہیں، میں وضوخانے میں تھا۔ آواز سنی تو باہر نکلا۔”

مگر معاملہ ادھر ہی نہ رکا۔ اگلی صبح جب لوگ مسجد میں فجر کی نماز کے لیے جمع ہوئے تو ان کے چہروں پر نئی بات تھی۔ “عابدہ بی بی کا قتل… کوئی اندر کا ہی ہوگا۔” “مسجد کے پاس ہوتے ہوئے کچھ سنائی نہ دیا؟” “عرفان میاں وضوخانے میں تھے، مگر… وہاں سے تو عابدہ بی بی کا مکان صرف بیس قدم ہے۔”

ایک ہفتہ گزرا۔ پولیس کی تحقیقات آگے بڑھ رہی تھیں مگر کوئی ٹھوس سراغ نہ مل سکا۔ پھر اچانک، جیسے اندھیرے میں سے روشنی نکلتی ہے، پولیس کو ایک گواہ ملا۔ وہ تھا گلی کے چائے والے کا بیٹا، سلیم۔ اس نے بتایا کہ وہ قتل کی رات اپنے موبائل سے ویڈیو بنا رہا تھا۔ اس نے مسجد کے پاس کا منظر ریکارڈ کیا تھا۔

جب پولیس نے ویڈیو دیکھی تو اس میں واضح تھا کہ قتل کے وقت مسجد کا دروازہ کھلا تھا۔ اور اس دروازے میں سے کوئی شخص نکل رہا تھا۔ ویڈیو میں چہرہ دھندلا تھا، مگر قد، وضع قطع اور وہ لمبا سا کرتا جو اس نے پہنا تھا، وہ عرفان صاحب کی عین نقل تھا۔

تھانے میں اس ویڈیو کو دیکھ کر ایس ایچ او صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ انہوں نے فوراً عرفان صاحب کو طلب کیا۔

پوچھ گچھ شروع ہوئی۔ “آپ نے کہا تھا کہ وضوخانے میں تھے؟” “جی۔” “مگر ویڈیو میں کوئی آپ جیسا شخص مسجد سے نکل رہا ہے۔”

عرفان صاحب خاموش رہے۔ ان کی آنکھوں میں کوئی جھٹکا نہیں تھا، نہ کوئی خوف۔ صرف ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے کوئی ایسی خبر سن لی ہو جس کا انتظار برسوں سے تھا۔

پولیس نے ان کے کمرے کی تلاشی لی۔ عرفان صاحب نے کچھ نہ چھپایا۔ ان کے پاس ایک تسبیح تھی، قرآن مجید کی دو جلدیں، کچھ کتابیں، اور کپڑوں کا ایک پرانا تھیلا۔ مگر جب الماری کھولی گئی تو ایک چیز سب کی نظروں میں آئی۔ ایک کرتا، جس پر خون کے دھبے تھے۔

یہ دیکھ کر ایس ایچ او صاحب نے گہرا سانس لیا۔ “عرفان صاحب، یہ کیا ہے؟”

عرفان صاحب نے اس کرتے کو دیکھا۔ ان کی انگلیاں اس پر پھریں، جیسے کسی پرانی یاد کو چھو رہے ہوں۔ پھر بولے، “یہ میرا کرتا ہے۔”

“اس پر خون کیوں ہے؟”

“میں نہیں جانتا۔”

یہ جواب کسی کو پسند نہ آیا۔

عدالت میں مقدمہ چلا۔ پولیس کے پاس دو بڑے ثبوت تھے: ویڈیو اور خونی کرتا۔ عرفان صاحب کے وکیل نے کہا کہ ویڈیو دھندلی ہے، اس میں چہرہ واضح نہیں۔ کرتے پر خون کے دھبے بھی کسی اور وجہ سے لگ سکتے ہیں۔ مگر مدعیانہ پکا تھا۔ عابدہ بی بی کا بیٹا، جو اب کسی رشتہ دار کے پاس تھا، عدالت میں رویا اور کہا، “اماں کو کس نے مارا؟”

ساری عدالت خاموش تھی۔

جج صاحب نے عرفان صاحب سے پوچھا، “کیا آپ نے عابدہ بی بی کو قتل کیا؟”

عرفان صاحب نے آنکھیں اٹھائیں۔ عدالت کی روشنی ان کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ ان کا چہرہ سفید تھا، مگر مضطرب نہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر وہی کہا جو پہلے کہہ چکے تھے۔

“میں وضوخانے میں تھا۔”

“آپ کے کرتے پر خون کیوں ہے؟”

خاموشی۔

“آپ مسجد سے نکلے تھے یا نہیں؟”

پھر خاموشی۔

عدالت نے پوچھا، “کیا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ آپ بے گناہ ہیں؟”

عرفان صاحب نے سر ہلایا۔ “میرے پاس کوئی ثبوت نہیں۔”

یہ سن کر وکیل نے کہا کہ جج صاحب، یہ اعتراف جرم نہیں، یہ صرف اتنا ہے کہ ان کے پاس اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ مگر عدالت میں قیاس کی گنجائش کم ہوتی ہے۔

عدالت نے عرفان صاحب کو چودہ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ یہ خبر موچی دروازے میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ کچھ لوگوں نے کہا، “ہم جانتے تھے، یہ امام صاحب زیادہ ہی نیک تھے۔” کچھ نے کہا، “یہ کسی کا فریم اپ ہے۔” مگر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ کوئی بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔

تھانے میں عرفان صاحب سے پوچھ گچھ ہوئی۔ افسران نے سخت سوال کیے۔ “بتاؤ، عابدہ بی بی سے کیا رنجش تھی؟” “کب سے منصوبہ بنا رہے تھے؟” “وہ کرتا تم نے کیوں نہیں چھپایا؟”

عرفان صاحب نے ہر سوال پر صرف ایک ہی جواب دیا۔ “میں وضوخانے میں تھا۔”

تھانے کے ایک افسر نے طیش میں آ کر کہا، “تم جھوٹ بول رہے ہو۔ ویڈیو میں تم واضح ہو۔ تمہارے کرتے پر خون ہے۔ تمہارے پاس ثبوت نہیں۔ پھر تم اپنی بے گناہی کیسے ثابت کرو گے؟”

عرفان صاحب نے مسکراہٹ سی دی۔ یہ مسکراہٹ عجیب تھی، جیسے کسی ایسی حقیقت کو دیکھ رہے ہوں جو سب سے چھپی ہے۔

پھر انہوں نے کہا، “صاحب، آپ پوچھ رہے ہیں کہ میرے پاس ثبوت کیوں نہیں۔ مگر میں آپ سے ایک بات کہوں؟”

افسر نے کہا، “ہاں، بتاؤ۔”

عرفان صاحب نے آنکھیں جھکیں، جیسے کوئی بھاری بار اٹھا رہے ہوں۔ پھر بولے۔

“وہ کرتا میرا ہے۔ اس پر خون ہے۔ ویڈیو میں مسجد سے نکلنے والا شخص مجھ جیسا ہے۔ مگر میں نے عابدہ بی بی کو نہیں مارا۔”

“تو پھر قاتل کون ہے؟”

عرفان صاحب خاموش رہے۔ ان کے چہرے پر وہی سکون تھا، مگر اب ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔

“صاحب، مجھے معاف کیجیے۔ میں یہ بتا نہیں سکتا۔”

افسر حیران رہ گئے۔ “کیا مطلب؟ قاتل کو بچا رہے ہو؟”

عرفان صاحب نے کہا، “میں کسی کو بچا نہیں رہا۔ میں صرف ایک حقیقت کو چھپا رہا ہوں جو مجھے بے گناہ تو کر دے گی، مگر کسی اور کو تباہ کر دے گی۔”

یہ سن کر افسر کی آنکھیں پھیل گئیں۔ انہوں نے سوچا شاید کوئی نیا موڑ آئے گا۔ مگر عرفان صاحب نے پھر کچھ نہ کہا۔

عدالت میں دوسری سماعت ہوئی۔ اس بار مدعیانہ مضبوط تھا۔ ویڈیو کو مزید صاف کیا گیا تھا، اور کرتے پر موجود خون کی رپورٹ آ گئی تھی۔ یہ عابدہ بی بی کے خون سے مماثل تھا۔

جج صاحب نے آخری بار عرفان صاحب سے کہا، “کیا آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟”

عرفان صاحب نے کرسی سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے عدالت کے چاروں طرف دیکھا، پھر جج صاحب کی طرف دیکھا۔

“جج صاحب، میں جانتا ہوں کہ ثبوت میرے خلاف ہیں۔ میری خاموشی مجرم معلوم ہوتی ہے۔ مگر میں آپ سے صرف اتنا کہوں گا کہ اگر میں سچ بتا دوں تو ایک بے گناہ بچہ اپنی ماں کا سایہ بھی کھو دے گا۔”

عدالت میں ہلچل مچ گئی۔

جج صاحب نے پوچھا، “آپ کس بچے کی بات کر رہے ہیں؟”

عرفان صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے کہا، “عابدہ بی بی کا بیٹا۔ وہ بچہ جس نے اپنی ماں کو کھویا۔ اگر میں بتا دوں کہ اصل قاتل کون ہے، تو وہ بچہ اپنے سائے سے بھی ڈرے گا۔”

عدالت خاموش ہو گئی۔ جج صاحب نے ان سے کہا کہ وہ واضح کریں۔

عرفان صاحب نے ایک لمبا سانس لیا۔ پھر انہوں نے وہ راز کھولا جو انہوں نے ہر سوال پر چھپا رکھا تھا۔

“جج صاحب، عابدہ بی بی کو اس کے اپنے بھائی نے مارا تھا۔ وہ بھائی اس گلی میں کسی کو پتہ نہیں چھپا بیٹھا ہے۔ مگر میں نے اسے دیکھا تھا۔ میں وضوخانے میں نہیں تھا، میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اندھیرے میں آیا، جھگڑا ہوا، اور پھر اس نے اسے قتل کر دیا۔”

عدالت میں شور مچ گیا۔ جج صاحب نے خاموشی کرائی۔

عرفان صاحب نے جاری رکھا، “جب میں نے یہ دیکھا تو میں وہاں سے اٹھا۔ میں نے سوچا کہ بھاگ کر اسے روکوں، مگر وہ پہلے ہی فرار ہو چکا تھا۔ میں عابدہ بی بی کے پاس گیا، مگر وہ پہلے ہی جا چکی تھیں۔ میرے کرتے پر خون اس وقت لگا جب میں نے ان کی نبض دیکھی۔”

“پھر آپ نے پولیس کو یہ کیوں نہیں بتایا؟”

عرفان صاحب کی آواز لرز گئی۔ “کیونکہ عابدہ بی بی کا بھائی وہی ہے جو اب اس کے بیٹے کی پرورش کر رہا ہے۔ اگر میں اس کا نام لے دیتا، تو وہ بچہ پھر سے یتیم ہو جاتا۔ اس کی ایک ہی پناہ گاہ تھی، وہ بھائی۔ میں نے سوچا کہ شاید اللہ اس بچے کو بھائی کی صورت میں باپ دے گا، مگر میں اس بھائی کو قاتل بتا کر اس بچے سے سب کچھ چھین لوں گا۔”

عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ جج صاحب کی آنکھوں میں بھی نمی تھی۔ انہوں نے کہا، “عرفان صاحب، آپ نے اپنی ساری زندگی اس مسجد میں گزاری، لوگوں کو راہ دکھائی، مگر آپ نے خود اپنے لیے سزا قبول کر لی ایک بچے کی خاطر؟”

عرفان صاحب نے کہا، “جج صاحب، ایک امام کا فرض صرف نماز پڑھانا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی امام کو خاموشی سے دکھ بھگتنا پڑتا ہے تاکہ کسی کا گھر بچا رہے۔”

عدالت نے اس قتل کا نیا مقدمہ کھولا۔ عابدہ بی بی کا بھائی گرفتار ہوا۔ اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ وہ جائیداد کے تنازع پر اپنی بہن سے ناراض تھا۔

عرفان صاحب کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔

جس دن وہ تھانے سے باہر نکلے، موچی دروازے کی ساری گلی ان کے استقبال کے لیے جمع تھی۔ ہر کوئی رو رہا تھا۔ عابدہ بی بی کا بیٹا، جو اب اپنے چچا کے قاتل ہونے کا سچ جان چکا تھا، عرفان صاحب کے قدموں میں گر گیا۔

اس نے کہا، “اماں کہتی تھیں کہ تم فرشتہ ہو۔ میں نے کہا تھا کہ فرشتہ نہیں ہوتے۔ مگر آپ نے میرے لیے جیل کاٹی۔”

عرفان صاحب نے اسے اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔

کہا، “بیٹا، ہم سب گناہ گار ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایک خاموشی ہزار گواہیوں سے زیادہ بولتی ہے۔”

ⓕ ⓞ ⓛ ⓛ ⓞ ⓦ

               Ⓗ Ⓐ ⓠ Ⓔ ⓔ ⓠ Ⓐ Ⓣ

           Ⓐ Ⓤ Ⓡ   Ⓕ Ⓐ Ⓢ Ⓐ Ⓝ Ⓐ

🌙

خلاصہ یہ کہ :

انسان کی سب سے بڑی سچائی صرف الفاظ میں نہیں، خاموشی میں بھی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایک شخص اپنی پوری زندگی کا سکون اس لیے قربان کر دیتا ہے کہ کسی اور کا بچپن تباہ نہ ہو۔

اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

ایسی اور سچی کہانیوں کے لیے، ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو ضرور فالو کریں۔

اگر یہ تحریر آپ کے اپنے کسی تجربے کی عکاسی کرتی ہے تو تبصرے میں ضرور بتائیں۔

Loading