ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) وہ خاتون جن کی علم کے سامنے وقت کے بڑے بڑے امام بھی سر جھکاتے تھے سیدہ حفصہ بنت سیرین ۔تابعین کے دور کی وہ فقیہہ اور زاہدہ، جنہوں نے علمی میدان میں نامور مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
حضرت حفصہ بنت سیرین نے ایک ایسے پاکیزہ اور علم دوست ماحول میں آنکھ کھولی جہاں زہد، تقویٰ اور خوفِ خدا کی حکمرانی تھی۔ ان کا گھرانہ علم کا مرکز تھا، اور انہوں نے بالواسطہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس عظیم درسگاہ سے فیض پایا جس نے دنیا کو رشد و ہدایت کے وہ روشن ستارے دیے جنہوں نے پوری انسانیت کو علم کے نور سے منور کیا اور ایک لازوال علمی تہذیب کی بنیاد رکھی۔
اس جلیل القدر تابعیہ کی علمی عظمت اور تقویٰ کا اعتراف ان کے دور کے جید ترین علماء اور فضلاء نے کھلے دل سے کیا ہے۔ ان کی جلالتِ علمی نے انہیں اپنے زمانے کی تمام خواتین میں ایک منفرد اور بلند ترین مقام پر فائز کر دیا۔
تابعین کے مشہور امام اور قاضی ایاس بن معاویہ ان کے مرتبے کے بارے میں گواہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
“میں نے تابعین کے پورے دور میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں پایا جسے میں حفصہ پر فضیلت دے سکوں۔”
ایاس بن معاویہ جیسی پارکھ شخصیت کی یہ گواہی اس بات کا واشگاف اعلان ہے کہ وہ اپنے عہد کی تمام تابعی خواتین کی بلاشبہ بلا منازع سردار تھیں۔
اپنے زمانے میں علم و فقہ کے میدان میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا، اور وہ علم کا ایک ایسا روشن مینار بن چکی تھیں جن کی طرف دنیا رجوع کرتی تھی۔ یہ بلند پایہ خاتون حفصہ بنت سیرین ہیں، جو انصاری بصری فقیہہ ہیں، جن کی کنیت ‘ام الہذیل’ ہے اور وہ خوابوں کی تعبیر کے ماہر اور مشہور تابعی امام محمد بن سیرین کی حقیقی بہن ہیں۔
🏡 ایک مبارک گھرانے کا آغاز
حفصہ بنت سیرین کی زندگی کے معطر گوشوں کا جائزہ لینے سے پہلے، آئیے اس پاکیزہ بنیاد پر ایک نظر ڈالتے ہیں جہاں سے اس خاندان کا سفر شروع ہوا:
والدِ گرامی کی باندی سے آزادی: ان کے والد سیرین، جلیل القدر صحابی سیدنا انس بن مالک انصاری (رضی اللہ عنہ) کے مکاتب غلام تھے۔ انس بن مالک نے انہیں سیدنا خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) سے خریدا تھا، جنہوں نے عراق کے سرحدی علاقے انبار کے قریب ‘عین التمر’ کے معرکے میں انہیں قیدی بنایا تھا۔ بعد میں، سیدنا انس نے سیرین سے مال کے بدلے آزادی کا معاہدہ (مکاتبت) کر لیا، جسے پورا کر کے وہ ایک آزاد شہری بن گئے۔
والدہ محترمہ کی بے مثال کرامت: آزادی کے بعد سیرین نے صفیہ نامی خاتون سے نکاح کیا، جو سیدنا ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کی آزاد کردہ لونڈی تھیں اور انتہائی صالحہ اور بابرکت خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے صفیہ کو یہ نادر اعزاز بخشا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین ازواج مطہرات نے انہیں اپنے ہاتھوں سے خوشبو لگائی اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ یہی نہیں، بلکہ ان کے عقدِ نکاح کے موقع پر اٹھارہ بدری صحابہ موجود تھے، جن میں سیدنا ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) دعا فرما رہے تھے اور باقی صحابہ آمین کہہ رہے تھے۔
حضرت حفصہ خود بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد نے اس شادی کی خوشی میں سات دن تک ولیمہ (دعوت) کیا، اور مہمانوں میں سیدنا ابی بن کعب بھی شامل تھے۔ وہ روزے سے تھے، اس لیے انہوں نے اہل خانہ کے لیے خیر و برکت کی دعا کی اور تشریف لے گئے۔
🌳 شجرۂ صالحین اور اساتذہ کا فیضان
اس مبارک ازدواجی رشتے کے نتیجے میں جو نسل پروان چڑھی، وہ علم و فضل کا شاہکار تھی۔ ان کے ہاں حفصہ پیدا ہوئیں، اور ان کے بعد محمد، یحییٰ، کریمہ اور ام سلیم جیسی ہستیاں دنیا میں آئیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سیرین نے صفیہ کے علاوہ بھی عقد کیے تھے، جن سے معبد، انس، عمرہ اور سودہ پیدا ہوئے اور تاریخِ اسلام کے عظیم مؤرخ ابن کثیر کے مطابق یہ تمام بہن بھائی ثقہ اور جلیل القدر تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔
💬 امام نووی (رحمہ اللہ) ان کے پورے خانوادے کے بارے میں رقم طراز ہیں:
“سیرین کی تمام اولاد حدیث کی ثقہ اور معتبر راوی ہیں۔”
حفصہ نے اسی پاکیزہ ماحول میں تربیت پائی۔ ان کے خاندانی فخر کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ان کی پوری فیملی کے مربی سیدنا انس بن مالک تھے۔ انہوں نے کبار صحابہ اور صحابیات کی آغوشِ علم میں پرورش پائی، جن میں سب سے نمایاں نام ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ام عطیہ انصاریہ (رضی اللہ عنہما) کا ہے۔
صحابہ کے علاوہ انہوں نے تابعین کی بزرگ ہستیوں سے بھی علمِ حدیث حاصل کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی یحییٰ اور امام المقرئین ابو العالیہ رفیع بن مہران البصری (جو اپنے وقت کے عظیم حافظ اور مفسر تھے) سے روایت کی۔ علمی پیاس بجھانے کے لیے انہوں نے صرف مردوں پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ امام حسن بصری کی والدہ محترمہ ‘خیرہ’ (رحمہا اللہ) سے بھی علمی فیض پایا۔
دوسری طرف، ان کے علمی مرتبے کا یہ عالم تھا کہ وقت کے جید ترین علماء نے ان سے احادیث روایت کیں، جن میں ان کے بھائی محمد بن سیرین، امام قتادہ، ایوب، ابن عون اور ہشام بن حسان جیسے اکابرین شامل ہیں۔ ان کی بیان کردہ احادیث صحاحِ ستہ، سنن اور مسانید کی معتبر کتابوں کی زینت ہیں۔
💧 غسلِ میت کی مستند روایت
ان کی سب سے مشہور مروایات میں سے ایک غسلِ میت کے احکام سے متعلق وہ حدیث ہے جو انہوں نے حضرت ام عطیہ انصاریہ (رضی اللہ عنہا) کے واسطے سے نقل کی، وہ فرماتی ہیں:
“جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (حضرت زینب) کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے ہمیں ہدایت فرمائی: ‘انہیں طاق تعداد میں یعنی تین یا پانچ مرتبہ غسل دو، اور آخری غسل میں کافور (یا کافور جیسی کوئی خوشبو) ملا لینا، اور جب تم اس عمل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بلا لینا’۔ چنانچہ جب ہم غسل دے چکیں، تو آپ ﷺ نے ہمیں اپنا حقو (تہبند) عنایت فرمایا اور ارشاد کیا: ‘اسے ان کے کفن کے اندر جسم سے لپیٹ دو’۔”
📖 “حفصہ سے دریافت کرو”
قرآن کریم کے فہم اور اس کی قرأت میں ان کا مقام اتنا بلند تھا کہ ان کے بھائی، امامِ وقت محمد بن سیرین کو بھی جب کلامِ الٰہی کی کسی آیت یا قرأت کے فہم میں کوئی الجھن پیش آتی، تو وہ اپنے شاگردوں سے فرماتے:
💬 “جاؤ اور حفصہ سے معلوم کرو کہ وہ اس آیت کی قرأت کس طرح کرتی ہیں!”
یہ ایک ایسی لاجواب گواہی ہے جو علومِ قرآن پر ان کی گہری گرفت، جودتِ الہی اور بے مثل حفظ کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ لوگ اپنے پیچیدہ علمی مسائل کے حل کے لیے ان کے پاس آتے تھے، کیونکہ انہوں نے صرف بارہ سال کی عمر میں قرآن مجید مکمل حفظ کر لیا تھا۔ ان کی راتیں اور دن کلامِ پاک کی تلاوت اور اس کے سائے میں گزرتے تھے۔ وہ ہمیشہ یادِ الٰہی میں مستغرق رہتیں، اور ان کا مستقل معمول تھا کہ وہ ہر رات تہجد میں آدھا قرآن کریم تلاوت فرماتی تھیں، اور زندگی کے آخری لمحے تک انہوں نے اس مبارک ورد میں کبھی ناغہ نہیں کیا۔
💡 جلباب (حجاب) کی قرآنی دلیل
آیاتِ قرآنی کے فہم میں ان کی دانشمندی اور باریک بینی کا ایک خوبصورت واقعہ ابن الجوزی نے اپنی کتاب ‘صفۃ الصفوۃ’ میں نقل کیا ہے کہ امام عاصم بیان کرتے ہیں:
“ہم جب بھی حفصہ بنت سیرین کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو وہ بڑی چادر (جلباب) اوڑھ کر مکمل پردے اور نقاب میں ہوتیں۔ ہم (ان کی حد سے بڑھی زہد پسندی کو دیکھ کر) بطورِ حجت کہتے: ‘اللہ آپ پر رحم کرے! اللہ تعالیٰ کا تو ارشاد ہے: {والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحاً فليس عليهن أن يضعن ثيابهن غير متبرجات بزينة}(اور جو بڑی عمر کی عورتیں نکاح کی امید نہیں رکھتیں، ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے بیرونی کپڑے (چادر) اتار کر رکھ دیں، بشرطیکہ وہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں)* اور یہاں ثیاب سے مراد جلباب ہی ہے (تو آپ اتنی سختی کیوں کرتی ہیں؟)'”
عاصم کہتے ہیں کہ ہماری یہ بات سن کر وہ فرماتی تھیں: “ذرا اس آیت کا اگلا حصہ تو پڑھو، وہاں کیا لکھا ہے؟” ہم جواب دیتے: {وأن يستعففن خير لهن}(اور اگر وہ اس سے بھی بچیں اور پاکدامنی اختیار کریں تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے)۔ تب وہ بڑی دلیری سے فرماتیں: “یہی اگلا جملہ تو جلباب کو مستقل لازم رکھنے کا سب سے بڑا قرآنی ثبوت ہے۔”
🧎♀️ زہد و تقویٰ اور شب بیداری
حضرت حفصہ ان پاکباز خواتین میں سے تھیں جو اپنی عبادات کو ریاکاری سے دور، صیغۂ راز میں رکھنا پسند کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک مستقل مصلّٰی (مسجد) بنا رکھا تھا جہاں وہ راتوں کو تنہائی میں اپنے رب کے حضور گڑگڑاتی تھیں۔ عبادت کے میدان میں ان کا مرتبہ اس قدر بلند تھا کہ ان کا شمار اس دور کے سب سے بڑے زاہدوں میں ہوتا تھا۔
💬 مہدی بن میمون ان کی گوشہ نشینی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
“حفصہ بنت سیرین نے اپنی زندگی کے تیس سال اس طرح گزارے کہ وہ اپنی جائے نماز سے صرف دوپہر کے قیلولے یا انسانی ضرورت (قضاء حاجت) کے علاوہ کبھی نہیں اٹھیں۔”
ہشام بن حسان نے ان کے روز و شب کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا:
“وہ اپنے عبادت خانے میں داخل ہو کر ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں مسلسل ادا کرتیں، پھر وہ وہیں تسبیح و تلاوت میں مصروف رہتیں یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔ اس کے بعد وہ چاشت کے نفل پڑھ کر وہاں سے نکلتیں، اور یہی وقت ان کے آرام اور تجدیدِ وضو کا ہوتا تھا، اور جیسے ہی اگلی نماز کا وقت ہوتا، وہ دوبارہ اسی حالت میں اپنے مصلے پر لوٹ آتیں۔”
ان کی راتیں اللہ کے خوف سے روتے ہوئے گزرتی تھیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک سندھی لونڈی خریدی۔ جب اس لونڈی سے لوگوں نے پوچھا کہ “تم نے اپنی مالکن حفصہ کو کیسا پایا؟” تو اس نے حیرت سے جواب دیا:
“وہ بہت ہی صالح خاتون ہیں، لیکن مجھے یوں لگتا ہے جیسے ان سے کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے (جس کے پچھتاوے میں) وہ پوری رات رو رو کر نمازیں پڑھتی رہتی ہیں۔”
📢 جوانی کی عبادت کی اہمیت اور صومِ دہر
وہ ہمیشہ اپنے وقت کے نوجوانوں (لڑکوں اور لڑکیوں) کو نصیحت کرتے ہوئے اپنا یہ تاریخی جملہ دہراتی تھیں:
🌟 “اے نوجوانو! اپنی جوانی کی عمر کو غنیمت جانو اور اس میں خوب نیکیاں کما لو، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ حقیقی محنت اور عمل جوانی ہی میں ممکن ہے۔”
نمازوں کے ساتھ ساتھ وہ ‘صومِ دہر’ (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی عادی تھیں۔ جب سے انہوں نے شعور سنبھالا، سال کے ممنوعہ ایام (دونوں عیدیں اور ایامِ تشریق) کے علاوہ انہوں نے کبھی روزہ افطار نہیں کیا۔
ان کے اس جذبے کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے کہ ان کے بیٹے ہذیل کے پاس ایک اونٹنی تھی جس کا تازہ اور لذیذ دودھ وہ روزانہ صبح اپنی والدہ کے لیے بھیجتے تھے۔ حفصہ اپنے بیٹے سے کہتیں: “بیٹے! تم جانتے ہو کہ میں روزے سے ہوں، میں یہ نہیں پی سکتی۔” ہذیل اصرار کرتے: “امی جان! رات بھر اونٹنی کے تھنوں میں رہنے والا دودھ سب سے بہترین ہوتا ہے، آپ اسے خود نہیں پیتیں تو جسے چاہیں ہدیہ کر دیں۔” لیکن حضرت حفصہ اس حالت میں بھی ایثار کرتیں اور وہ قیمتی دودھ غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کروا دیتیں۔
⚖️ ائمۂ حدیث کی نظر میں ان کا مقام
علمِ حدیث کے ججوں، کبار تابعین اور مؤرخین نے حضرت حفصہ بنت سیرین کو انتہائی معتبر اور بلند مقام دیا ہے:
فنِ اسماء الرجال کے امام اور جرح و تعدیل کے سب سے بڑے ماہر یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: “حفصہ بنت سیرین حدیث میں مکمل ثقہ اور حجت (دلیل) ہیں۔”
حافظ احمد بن عبداللہ۔نے گواہی دی: “وہ اعلیٰ درجے کی ثقہ ہیں۔”
امام ابن حبان نے ان کا تذکرہ اپنی مشہور کتاب ‘الثقات'(معتبر شخصیات) میں کیا ہے
امام ایاس بن معاویہ سے جب لوگوں نے حسن بصری اور محمد بن سیرین کا نام لے کر پوچھا کہ کیا آپ حفصہ کو ان پر بھی فوقیت دیتے ہیں؟ تو انہوں نے دوٹوک الفاظ میں فرمایا: “میرا فیصلہ یہی ہے کہ میں ان کے مقابلے میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔”
ہشام بن حسان فرماتے ہیں: “میں نے امام حسن بصری اور محمد بن سیرین دونوں کی صحبت اٹھائی ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ میں نے حفصہ سے زیادہ عاقل اور دانا انسان اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔”
خواتینِ تابعین میں ان کی سیادت کو بیان کرتے ہوئے ابن ابی داؤدفرماتے ہیں:
💬 “تابعین کے دور کی تمام خواتین کی سردار دو ہستیاں ہیں: ایک حفصہ بنت سیرین اور دوسری عمرہ بنت عبدالرحمن، اور ان کے بعد ام الدرداء الصغرىٰ کا مقام آتا ہے۔”
وہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) کی لائق ترین شاگردہ تھیں، اور انہوں نے سیدہ عائشہ کے اخلاق، عادات اور علوم کو اپنے اندر اس طرح سمو لیا تھا کہ وہ اپنے عہد کی خواتین کے لیے ایک رشکِ قمر بن گئیں۔
🤝 ماں بیٹے کی مثالی محبت: حفصہ اور ہذیل
حضرت حفصہ کے بیٹے ہذیل اپنی والدہ کے اتنے فرماں بردار اور خدمت گزار تھے کہ تاریخ ان کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ وہ اپنی ماں کی خوشی اور آرام کے لیے ہر حد پار کر جاتے تھے۔
ہشام بن حسان ان کی فرماں برداری کا ایک رقت آمیز واقعہ نقل کرتے ہیں:
“ہذیل گرمیوں کے موسم میں سردیوں کی تیاری کرتے۔ وہ لکڑیاں جمع کر کے ان کا چھلکا اتارتے اور سرکنڈوں کو چِیر کر رکھ دیتے۔ جب سردیاں آتیں اور حضرت حفصہ اپنے مصلے پر ہوتیں، تو ہذیل ان کے پیچھے انگیٹھی لا کر رکھ دیتے اور ان صاف کی ہوئی لکڑیوں سے آگ جلاتے جن سے دھواں بالکل نہیں نکلتا تھا تاکہ ان کی والدہ کو دھوئیں سے تکلیف بھی نہ ہو اور سردی کے موسم میں انہیں تپش اور گرمائش مل سکے۔ وہ رات بھر وہاں بیٹھ کر یہ خدمت صرف اس لیے کرتے تاکہ ان کی ماں سکون سے عبادت کر سکے۔”
💔 جوان بیٹے کی جدائی پر صبر کی انتہا
لیکن آزمائش کی گھڑی آئی اور یہ ہونہار جوان بیٹا اپنی والدہ کی زندگی ہی میں وفات پا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت حفصہ کو اس صدمے پر بے مثال صبر عطا کیا۔ وہ خود اپنی اس کیفیت کو یوں بیان کرتی ہیں:
“جب میرے پیارے بیٹے ہذیل کا انتقال ہوا، تو اللہ نے مجھے صبر تو دے دیا، لیکن میرے سینے میں ایک گانٹھ سی لگ گئی تھی اور ایک تلخی تھی جو کسی طرح دور نہیں ہوتی تھی۔ ایک رات میں نماز میں سورت النحل کی تلاوت کر رہی تھی کہ میری نظر اس آیت پر پڑی:
{وَلَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا إِنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ، مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ}
(اور اللہ کے عہد کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے، اور ہم ضرور صبر کرنے والوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے)۔
میں نے جب اس آیت کو دوبارہ دہرایا، تو اللہ کی قسم! میرے دل کے اندر بیٹے کی جدائی کی جتنی تلخی اور درد تھا، وہ سب اسی وقت کافور ہو گیا اور میرا دل پرسکون ہو گیا۔”
🕊️ سفرِ آخرت کی مستقل تیاری
حفصہ بنت سیرین کی زندگی کا سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ وہ ہر لمحہ موت کے سفر کے لیے تیار رہتی تھیں۔ ان کے سوانح نگار بتاتے ہیں کہ انہوں نے زندگی میں ہی اپنے لیے ایک کفن تیار کر کے رکھا ہوا تھا۔
جب وہ حج یا عمرے کے لیے تشریف لے جاتیں، تو احرام کے ساتھ اسی کفن کو اوڑھ لیتیں تاکہ ان کا نفس یہ یاد رکھے کہ وہ اپنے مالک کے گھر اس سے ملنے آئی ہیں اور موت انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ جب وہ مکہ سے واپس آتیں، تو اس کفن کو اپنے مصلے کے پاس رکھ دیتیں۔ سال کا آخری حصہ یعنی جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا، تو وہ رات کے وقت اسی کفن کو زیبِ تن کر کے اپنے رب کے حضور کھڑی ہو جاتیں اور تضرع و زاری کے ساتھ اپنی عبادات کی قبولیت کی دعا کرتیں۔
🏹 طاعون کی موت کی خواہش کیوں؟
وہ موت کو اس قدر یاد رکھتی تھیں کہ وہ طاعون جیسی وبائی بیماری سے مرنے کی تمنا کرتی تھیں۔ امام ابن سعد نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت انس بن مالک نے ایک بار حفصہ سے پوچھا: “تم کس طرح کی موت مرنا پسند کرتی ہو؟” انہوں نے جواب دیا: “طاعون کی موت۔” سیدنا انس نے فرمایا: “بیشک، طاعون کی موت ہر سچے مسلمان کے لیے شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔”
یہ ان کی گہری فقہی بصیرت کا ثبوت تھا، کیونکہ طاعون کی موت بظاہر ایک تکلیف دہ وبائی مرض ہے، لیکن اللہ نے اسے مومنین کے لیے امتدادِ رحمت اور شہادت کا ذریعہ بنایا ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: “طاعون ایک عذاب تھا جو اللہ پہلے لوگوں پر بھیجتا تھا، لیکن اللہ نے اسے ایمان والوں کے لیے سراسر رحمت بنا دیا ہے۔”
🌅 آخری سفر اور وفات
حضرت حفصہ بنت سیرین نے تقریباً ستر سال اس دنیا میں گزارے۔ ان کی پوری زندگی امتِ مسلمہ کی خواتین کے لیے عفت، عزم، تقویٰ اور علمی جدوجہد کی ایک لاجواب اور زندہ جاوید مثال ہے۔ انہوں نے اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے نیکی کا ایک ایسا ورثہ چھوڑا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
بالآخر سن 101 ہجری میں، تابعین کے دور کی یہ عظیم سردار خاتون اس فانی دنیا کو الوداع کہہ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ ان کے جنازے میں بصرہ کے تمام نامور تابعین اور علماء نے شرکت کی، جن کی قیادت امام حسن بصری اور ان کے بھائی محمد بن سیرین فرما رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ حضرت حفصہ اور آلِ سیرین پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے درجات کو علیین میں بلند ترین بنائے۔ امین۔
“©All rights reserved . Is page Dastanehaq1 ka Content Bina ijazt copy ya reuse Karna mana hai.”
#dastanehaq #محبت_رسول #صحابہ_کرام #islamic #IslamicHistory #faith #history
الطبقات الكبرى — ابن سعد (رحمہ اللہ)
صفة الصفوة — ابن الجوزی (رحمہ اللہ)
سير أعلام النبلاء — امام ذہبی (رحمہ اللہ)
تاريخ الإسلام — امام ذہبی (رحمہ اللہ)
تهذيب التهذيب — حافظ ابن حجر عسقلانی (رحمہ اللہ)
البداية والنهاية — حافظ ابن کثیر (رحمہ اللہ)
تهذيب الأسماء واللغات — امام نووی (رحمہ اللہ)
الثقات — ابن حبان (رحمہ اللہ)
![]()

