تاریخ کی کتابوں سے ہٹ کر، اس خاص رات کے مکہ کا تصور کیجیے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) یہ تیرہ سو سال سے بھی پہلے کی ایک ایسی رات تھی جب وقت کا دھارا سست پڑ چکا تھا اور صحرائے عرب کی ریتلی تہوں پر خاموشی کا ایک گہرا خول چڑھا ہوا تھا۔ مکہ کے پہاڑ، قبیلہ قریش کے سیاہ پتھریلے گھر، اور وادیِ بطحاء کی خاک—سب گہری نیند میں ڈوبے ہوئے تھے۔ آسمان پر چاند اپنی مدہم روشنی بکھیر رہا تھا اور صحرائی ہواؤں میں ایک عجیب سی خنکی، ایک انوکھا توازن تھا۔ یہ وہ رات تھی جب کائنات کا ذرہ ذرہ کسی عظیم الشان واقعے کی آمد کا منتظر تھا، مگر غافل انسان اپنے بستروں پر دراز تھے۔
اسی مکہ کی ایک خاموش گلی میں، بیت اللہ کے سائے تلے، حطیم کے مقام پر یا اُمِ ہانی کے گھر کی چھت کے نیچے، ایک ایسی ہستی محوِ استراحت تھی جن کے وجودِ مسعود سے کائنات کا حسن قائم تھا۔ سید المرسلین، احمدِ مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے۔ وہ دل جو امت کے غم میں دن رات تڑپتا تھا، اس لمحے پرسکون تھا۔ اچانک، سکوتِ شب ٹوٹا، مگر کسی آہٹ یا شور سے نہیں، بلکہ ایک ایسی الٰہی روشنی سے جس نے چاند اور ستاروں کی ضیا کو ماند کر دیا۔ جبریلِ امیں علیہ السلام، ملائکہ کی ایک عظیم جماعت کے ساتھ، عرشِ بریں کا پیغام لیے زمین پر اتر آئے۔ زمین کے اس خطے پر، جہاں مٹی اور پتھروں کے سوا کچھ نہ تھا، اب نور کا ہالہ تھا۔ فرشتے نے نہایت ادب سے اس عظیم ہستی کو بیدار کیا، جن کی خاطر یہ پوری بزمِ کائنات سجائی گئی تھی۔ یہ شروعات تھی اس ابدی سفر کی، جسے تاریخ نے “واقعۂ معراج” کے نام سے اپنے سینے میں محفوظ کر لیا۔
اس سحر انگیز رات کی عظمت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے تاریخی پس منظر کی تاریکی کو دیکھنا ہوگا۔ یہ واقعہ مکہ کی زندگی کے آخری سالوں کا ہے، ایک ایسا دور جب مکہ کی زمین رسول اللہ ﷺ اور ان کے مٹھی بھر رفقاء پر تنگ کر دی گئی تھی۔ قریش کے مظالم کی انتہا ہو چکی تھی، شعبِ ابی طالب کی تین سالہ ہولناک محصوریت نے مسلمانوں کے جسموں کو جھلسا کر رکھ دیا تھا۔ اور پھر، مصائب کے اس طوفان میں مکہ کے افق پر دو گہرے سائے لہرائے۔ پہلے محسنِ اعظم، دستِ بازو اور شفیق چچا ابوطالب دنیا سے رخصت ہوئے، جنہوں نے قریش کے ہر وار کو اپنے سینے پر روکا تھا۔ ابھی یہ زخم ہرا ہی تھا کہ نبوت کی سب سے پہلی تصدیق کرنے والی، اپنے مال اور محبت سے اسلام کی آبیاری کرنے والی، رفیقۂ حیات سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئیں۔ حضور ﷺ کے لیے یہ سال “عام الحزن” یعنی غم کا سال بن گیا۔
جب مکہ میں سہاروں کی یہ دیواریں گریں، تو آپ ﷺ نے امید کی ایک کرن لیے طائف کا رخ کیا۔ یہ سفر تاریخِ انسانی کا سب سے مظلومانہ سفر تھا۔ طائف کے سرداروں نے نہ صرف دعوت کو مسترد کیا، بلکہ شہر کے اوباشوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا۔ انہوں نے رحمتِ عالم پر پتھر برسائے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے نعلین مبارک خونِ اطہر سے بھر گئے۔ اس کٹھن سفر کے بعد جب آپ ﷺ مکہ واپس لوٹے، تو دل رنجیدہ تھا، ظاہری اسباب ختم ہو چکے تھے، اور زمین پر کوئی جائے پناہ نظر نہیں آتی تھی۔ جب دنیا کے تمام دروازے بند ہو جائیں، جب زمین اپنے تمام تر پھیلاؤ کے باوجود تنگ محسوس ہونے لگے، تو پھر ربِ ذوالجلال اپنے حبیب کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ معراج دراصل طائف کے پتھروں کا جواب تھی، یہ الٰہی پیغام تھا کہ “اے محبوب! اگر زمین والوں نے آپ کو رد کیا ہے، تو کیا ہوا؟ آئیے، آج آسمان والے آپ کے استقبال کے لیے منتظر ہیں۔”
سفر کا آغاز مکہ سے ہوا۔ جبریلِ امیںؑ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کے سینۂ مبارک کو چاک کیا (شقِ صدر)۔ زمزم کے مقدس پانی سے قلبِ اطہر کو غسل دیا گیا اور اسے حکمت، ایمان، یقین اور معرفت کے نور سے بھر دیا گیا۔ یہ ایک مادی تیاری تھی اس روحانی سفر کے لیے جس کے بوجھ کو اٹھانے کی سکت عام انسانی دل میں نہیں ہوتی۔ پھر حرم کی حدود میں ایک ایسی سواری لائی گئی جس کی رفتار کی حد وہ تھی جہاں نگاہ جا کر رکتی تھی۔ یہ “براق” تھا—نورانی، سفید، اور تیز رفتار۔ روایات بتاتی ہیں کہ جب حضور ﷺ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ فرطِ جذبات اور ہیبت سے چمکنے لگا۔ جبریلِ امیںؑ نے پکارا: “اے براق! کیا تو جانتا ہے کہ آج تیری پیٹھ پر کون جلوہ افروز ہے؟ خدا کی قسم، تجھ پر آج تک کوئی ایسی ہستی سوار نہیں ہوئی جو بارگاہِ الٰہی میں ان سے زیادہ مکرم ہو۔” یہ سنتے ہی براق شرمندگی اور تعظیم سے پسینے سے شرابور ہو گیا اور ساکت کھڑا ہو گیا۔ رات کے سناٹے کو چیرتے ہوئے، براق مکہ کی وادیوں سے پرواز کر گیا۔ صحرا کی ریت، کھجوروں کے باغات اور قدیم تجارتی قافلے، جو رات کے اندھیرے میں سستانے کے لیے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے، سب کے سب لمحوں میں پیچھے چھوٹتے گئے۔
پہلا پڑاؤ سرزمینِ فلسطین کا وہ مقدس خطہ تھا جسے ہم “بیت المقدس” کہتے ہیں۔ مسجدِ اقصیٰ، جو صدیوں سے انبیاء کا مسکن اور وحی کی امین رہی تھی، اس رات ایک بے مثال منظر کی گواہ بننے والی تھی۔ جب حضور ﷺ وہاں پہنچے، تو مسجد کے در و دیوار انوار و تجلیات سے روشن تھے۔ وہاں آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک، تاریخِ انسانی کے تمام جلیل القدوقف انبیاء اور مرسلین صف بستہ کھڑے تھے۔ یہ ایک ایسا اجتماع تھا جس کی نظیر نہ زمین نے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ کبھی دیکھے گی۔ سب کے سب خاموش، باادب اور منتظر تھے۔ اذان کی صدا گونجی۔ نماز کا وقت ہوا تو سوال پیدا ہوا کہ امامت کون کرے گا؟ جبریلِ امیں علیہ السلام نے حضورِ اکرم ﷺ کا دستِ مبارک تھاما اور انہیں مصلائے امامت پر آگے بڑھا دیا۔ سید المرسلین نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جہاں یہ ثابت ہو گیا کہ دینِ ابراہیمی کے تمام سلسلے، تمام نبوتیں اور تمام شریعتیں اب محمدِ عربی ﷺ کی ذاتِ گرامی پر آکر مکمل ہو چکی ہیں۔ آپ ﷺ صرف عرب کے نہیں، بلکہ پوری کائنات اور تمام زمانوں کے امام ہیں۔
نماز کے بعد، انبیاء کرام نے باری باری بارگاہِ رسالت میں ہدیۂ تبریک پیش کیا اور آپ ﷺ کی عظمت کا اعتراف کیا۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کے سامنے دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کیے گئے۔ آپ ﷺ نے فطرت کو پسند کرتے ہوئے دودھ کا پیالہ چن لیا، جس پر جبریلؑ نے خوشخبری دی کہ “آپ نے فطرت کو چنا، اور آپ کی امت ہدایت پر رہے گی۔”
بیت المقدس کے زمینی سفر کے بعد، اب اس سفر کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا جسے “معراج” یعنی بلندی پر جانا کہتے ہیں۔ براق اب زمین کی حدود کو چھوڑ کر نیلگوں آسمان کی وسعتوں کی طرف پرواز کر رہا تھا۔ جب حضور ﷺ پہلے آسمان پر پہنچے، تو وہاں کے نگران فرشتے نے پوچھا: “کون ہے؟” جبریلؑ نے جواب دیا: “میں جبریل ہوں اور میرے ساتھ محمد (ﷺ) ہیں۔” پوچھا گیا: “کیا انہیں بلایا گیا ہے؟” جواب ملا: “ہاں۔” اس کے ساتھ ہی آسمانِ دنیا کے دروازے کھل گئے اور آسمانی مخلوق نے پکارا: “مرحبا! ایک پاکیزہ نفس اور پاکیزہ آنے والے کو خوش آمدید!”
پہلے آسمان پر آپ ﷺ کی ملاقات ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ آدم علیہ السلام کے دائیں اور بائیں کچھ سائے (ارواح) تھے۔ جب وہ دائیں دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب بائیں دیکھتے تو رو پڑتے۔ دائیں طرف جنتی ارواح تھیں اور بائیں طرف دوزخی۔ انہوں نے اپنے عظیم بیٹے کو دیکھا تو پکار اٹھے: “مرحبا بالابن الصالح والنبی الصالح” (خوش آمدید اے صالح بیٹے اور صالح نبی!)۔ جیسے جیسے سفر اوپر کی طرف بڑھتا گیا، کائنات کے راز کھلتے گئے۔ دوسرے آسمان پر سیدنا عیسیٰؑ اور سیدنا یحییٰؑ نے استقبال کیا۔ تیسرے آسمان پر حسنِ مجسم سیدنا یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ چوتھے آسمان پر سیدنا ادریس علیہ السلام، پانچویں پر ہارون علیہ السلام اور چھٹے آسمان پر جلیل القد پیغمبر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ ہر نبی نے آپ ﷺ کی آمد پر فخر کا اظہار کیا اور آپ کے لیے دعائیں کیں۔ ساتویں آسمان پر آپ ﷺ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، جو “بیت المعمور” (آسمانی کعبہ، جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں اور جو ایک بار طواف کر لے اس کی باری دوبارہ قیامت تک نہیں آتی) سے پشت لگائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کو دیکھ کر فرمایا: “مرحبا بالنبی الصالح والابن الصالح۔” اور ساتھ ہی امتِ محمدیہ کے لیے ایک پیغام دیا: “اپنی امت سے کہیے کہ جنت کی مٹی بہت زرخیز اور پاکیزہ ہے، اس کے پودے ‘سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إله إلا اللہ، واللہ اکبر’ ہیں۔”
اس سفر کے دوران آپ ﷺ کو جنت کے باغات، اس کی نہریں اور محلات دکھائے گئے، جہاں ایمان داروں کے لیے نعمتیں تیار کی گئی تھیں۔ دوسری طرف، آپ ﷺ کو دوزخ کے ہولناک مناظر بھی دکھائے گئے، جہاں گناہگاروں، سود خوروں، یتیموں کا مال ہڑپ کرنے والوں اور غیبت کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دی جا رہی تھیں۔ یہ مناظر انسانیت کے لیے ایک واضح تنبیہ تھے کہ زمین پر کیے جانے والے اعمال کے اثرات کتنے گہرے ہوتے ہیں۔
کائنات کی تمام حدود، ساتوں آسمان اور بیت المعمور کے نورانی دائرے پیچھے چھوٹ گئے۔ اب سامنے ایک ایسی حد تھی جہاں پہنچ کر مادی اور نوری کائنات کا علم ختم ہو جاتا ہے۔ یہ “سدرۃ المنتہیٰ” تھا—ایک عظیم الشان بیری کا درخت، جس پر سونے کے پروانے منڈلا رہے تھے اور جس کے رنگ بدل رہے تھے، جن کا وصف بیان کرنے سے انسانی زبان قاصر ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر، روح الامین، سفر کے روایتی ساتھی، سیدنا جبریل علیہ السلام رک گئے۔ ان کے قدم سست پڑ گئے۔ حضورِ اکرم ﷺ نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا: “اے جبریل! کیا اس جیسے مقام پر کوئی دوست اپنے دوست کو اکیلا چھوڑ دیتا ہے؟” جبریلِ امیںؑ کی آواز میں عجز اور ہیبت کا امتزاج تھا۔ انہوں نے عرض کیا: “اے محمد ﷺ! اگر میں اس مقام سے ایک انگلی کے پور برابر بھی آگے بڑھا، تو تجلیاتِ الٰہی کے نور سے میرے پر جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ میری حد یہیں تک ہے۔ یہاں سے آگے صرف آپ کا راستہ ہے، کیونکہ آپ وہ مہمانِ خاص ہیں جس کی منزل عرشِ بریں ہے اور میری منزل یہی سدرۃ المنتہیٰ ہے۔”
یہ وہ مقام تھا جہاں عقل کی حد ختم ہو گئی اور عشق کا سفر شروع ہوا۔ جبریلؑ پیچھے رہ گئے اور کائنات کے مسافر ﷺ اکیلے اس لامتناہی، بے سمت اور بے کیف سفر پر آگے بڑھے جہاں صرف نور ہی نور تھا، جہاں نہ کوئی زمان تھا نہ مکان۔ پھر وہ لمحہ آیا جو کائنات کا حاصل تھا۔ حضور ﷺ رفرف (ایک نورانی تخت) پر سوار ہو کر لاہوت کی ان بلندیوں پر پہنچے جہاں قلموں کے لکھنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ آپ ﷺ اللہ رب العزت کے اتنے قریب ہوئے کہ قرآن نے اس قربت کو یوں بیان کیا: “ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ” (پھر وہ قریب ہوا، پھر مزید قریب ہوا، یہاں تک کہ دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم)۔
ایک انسان، ایک بندۂ خاکی، اپنے رب کی بارگاہ میں کھڑا تھا۔ وہاں کیا گفتگو ہوئی؟ یہ محب اور محبوب کا وہ راز ہے جس پر کوئی تیسرا مطلع نہیں ہو سکتا۔ تاہم، اس گفتگو کا ایک حصہ ہم روزانہ اپنی نمازوں میں “التحیات” کی صورت میں پڑھتے ہیں۔ حضور ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: “تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔” اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو جواب دیا: “سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں۔” محبوبِ خدا ﷺ نے اس سلامتی میں اپنی امت کو بھی شامل کر لیا اور عرض کیا: “سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر۔”
اس بے مثل ملاقات میں، جہاں تمام پردے اٹھا دیے گئے تھے، امت کے لیے ایک عظیم الشان تحفہ دیا گیا۔ وہ تحفہ تھا پچاس نمازوں کا۔ جب آپ ﷺ واپس لوٹے اور چھٹے آسمان پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے پوچھا کہ امت کے لیے کیا ملا؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ پچاس نمازیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے تجربے کی بنیاد پر فرمایا: “اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کمزور ہے، وہ دن رات میں پچاس نمازیں قائم نہیں رکھ سکے گی۔ میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں۔ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور اس میں کمی کی درخواست کیجئے۔” حضور ﷺ بارگاہِ الٰہی میں واپس گئے، نمازیں کم ہوئیں۔ یہ چکر کئی بار چلا، یہاں تک کہ نمازوں کی تعداد پانچ رہ گئی۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: “اے محبوب! یہ گنتی میں تو پانچ ہیں، لیکن جو انہیں خلوصِ دل سے ادا کرے گا، اسے پچاس نمازوں کا ہی ثواب ملے گا۔ میرا قول بدلا نہیں کرتی۔” یہ پانچ نمازیں دراصل مومن کے لیے معراج ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر امت مجھ سے براہِ راست گفتگو کرنا چاہے، زمین پر رہ کر عرش کی رفعتوں کو چھونا چاہے، تو وہ مصلے پر آ کھڑی ہو، کیونکہ نماز مومن کی معراج ہے۔
سفرِ معراج مکمل ہوا۔ زمان و مکان کی مسافتیں طے کرنے کے بعد، حضورِ اکرم ﷺ اسی رات مکہ واپس تشریف لے آئے۔ جب آپ بیدار ہوئے، تو ابھی بستر کی گرمی باقی تھی اور دروازے کی کنڈی تاحال ہل رہی تھی۔ وقت کو روک دیا گیا تھا، کیونکہ وقت کا خالق اپنے محبوب سے محوِ گفتگو تھا۔
صبح ہوئی، تو حضور ﷺ کعبہ کے صحن میں خاموش اور متفکر بیکٹھے تھے۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ مکہ کا مادی معاشرہ، جو صرف ظاہری اسباب پر یقین رکھتا ہے، اس ماورائے عقل واقعے کو تسلیم نہیں کرے گا۔ قریش کے سردار ابوجہل کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے طنزیہ انداز میں پوچھا: “اے محمد! کوئی نئی بات؟” حضور ﷺ نے نہایت اطمینان سے فرمایا: “ہاں، آج رات مجھے سیر کرائی گئی ہے۔” ابوجہل نے پوچھا: “کہاں کی؟” فرمایا: “بیت المقدس کی۔” ابوجہل اچھل پڑا: “بیت المقدس؟ جہاں جانے اور آنے میں قافلوں کو دو مہینے لگتے ہیں، تم ایک رات میں وہاں ہو آئے؟ اگر میں قریش کو جمع کروں، تو کیا تم ان کے سامنے بھی یہی بات کہو گے؟” آپ ﷺ نے مضبوط اور پر اعتماد آواز میں فرمایا: “ہاں، بالکل کہوں گا۔”
قریش کا مجمع اکٹھا ہو گیا۔ مکہ کے گلی کوچوں سے لوگ دوڑے آئے کہ آج دعوے کی انتہا ہو گئی ہے۔ لوگ ہنس رہے تھے، تالیاں بجا رہے تھے اور تمسخر اڑا رہے تھے۔ قریش کے وہ لوگ جو تجارت کے سلسلے میں بیت المقدس جا چکے تھے، انہوں نے امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہنے لگے: “اچھا، اگر آپ وہاں گئے تھے، تو ہمیں بیت المقدس کے دروازوں، ستونوں اور اس کی محرابوں کی تفصیل بتائیے۔” حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اس وقت مجھے اتنی پریشانی ہوئی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی، کیونکہ میں تو وہاں مسجد دیکھنے نہیں، رب کی نشانیاں دیکھنے گیا تھا۔ اسی لمحے، اللہ کی رحمت جوش میں آئی۔ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو مکہ کے صحن میں لا کھڑا کیا! حضور ﷺ فرماتے ہیں: “بیت المقدس میری نظروں کے سامنے تھا، قریش مجھ سے سوال کرتے جاتے اور میں اسے دیکھ دیکھ کر ایک ایک ستون اور دروازے کی تفصیل بتاتا جاتا۔” قریش دنگ رہ گئے، انہوں نے کہا: “واللہ! تفصیلات تو بالکل ٹھیک ہیں۔” مگر ان کے دلوں پر کفر کے تالے تھے۔ انہوں نے بات بدلنے کے لیے راستے میں آنے والے تجارتی قافلوں کے بارے میں پوچھا۔ حضور ﷺ نے ان کے ایک گمشدہ اونٹ کا پتہ بتایا، ان کے پانی کے برتن کی تفصیل دی، اور فرمایا کہ فلاں قافلہ بدھ کے دن مکہ میں داخل ہوگا جس کے آگے ایک گندمی رنگ کا اونٹ ہوگا۔ بدھ کے دن مکہ والے شہر سے باہر نکل کر بیٹھ گئے اور بالکل اسی وقت وہ قافلہ اسی پوزیشن میں مکہ میں داخل ہوا، مگر انہوں نے کہہ دیا: “یہ تو کھلا جادو ہے!”
جب یہ پروپیگنڈا عروج پر تھا، تو ابوجہل بھاگتا ہوا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ اس نے سوچا کہ آج دوستی کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ اس نے کہا: “اے ابوبکر! کیا تم نے سنا کہ تمہارے صاحب کیا دعویٰ کر رہے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ وہ راتوں رات بیت المقدس گئے، آسمانوں کی سیر کی اور واپس بھی آ گئے۔” سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بغیر کسی جھجک کے، تاریخ ساز جملہ ارشاد فرمایا: “کیا انہوں نے خود یہ بات فرمائی ہے؟” ابوجہل نے کہا: “ہاں۔” ابوبکرؓ نے فرمایا: “تو پھر گواہ رہو، اگر انہوں نے یہ فرمایا ہے تو بالکل سچ فرمایا ہے۔ میں تو اس سے بھی بڑی بات پر ان کی تصدیق کرتا ہوں کہ آسمان سے ان پر وحی اترتی ہے، تو کیا میں اس زمینی سفر کی تصدیق نہیں کروں گا؟” اس بے ساختہ اور اٹل یقین کی بدولت بارگاہِ رسالت سے ابوبکر کو “صدیق” کا ابدی لقب عطا ہوا۔ معراج کا واقعہ ایمان والوں کے لیے یقین کی پختگی اور منافقین کے لیے علیحدگی کا سبب بن گیا۔
واقعۂ معراج محض ایک تاریخی داستان یا معجزہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانیت کے نام ایک ابدی چارٹر ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان کا رشتہ زمین کے سہاروں سے ٹوٹ جاتا ہے اور وہ اپنے مقصد کے لیے مخلص ہو جاتا ہے، تو آسمانی مدد اس کے استقبال کے لیے تیار کھڑی ہوتی ہے۔ طائف کے مظالم کے بعد معراج کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے، اور رات جتنی تاریک ہوگی، صبح اتنی ہی درخشاں ہوگی۔
آج کا انسان، جو مادی ترقی کی انتہا پر پہنچ کر بھی ذہنی تناؤ، ناامیدی اور روحانی خلا کا شکار ہے، اس کے لیے معراج کا سب سے بڑا پیغام “نماز” ہے۔ نماز ہمیں روزانہ پانچ مرتبہ اس مادی دنیا کی دلدل سے نکال کر خالقِ کائنات کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ اگر ہم اپنی نمازوں کو صرف ایک میکانکی عمل بنانے کے بجائے اس میں وہ حضورِ قلب پیدا کر لیں جو معراج کا اصل مقصد تھا، تو ہم زمین پر رہتے ہوئے بھی اپنی روح کو عرش کی بلندیوں سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ معراج کا سفر ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان کائنات کی سب سے مکرم مخلوق ہے۔ جب ایک انسانِ کامل ﷺ سدرۃ المنتہیٰ کو پار کر سکتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ انسان کی پرواز ستاروں اور سیاروں سے بھی آگے ہے۔ ہمیں اپنی حقیقی قدر کو پہچاننا ہوگا، غلامی کے بندھنوں کو توڑنا ہوگا، اور اپنے اندر وہ ایمان اور یقین پیدا کرنا ہوگا جو ابوبکر صدیقؓ کا شیوہ تھا۔ آسمانِ دنیا پر لکھے گئے اس سفر کا اختتام اس پیغام کے ساتھ ہوتا ہے کہ منزلیں ہمیشہ ان کے قدم چومتی ہیں جو صبر، حکمت اور اللہ پر کامل توکل کے ساتھ اپنے راستے پر ڈٹے رہتے ہیں۔ معراج سفرِ عشق بھی ہے اور معراجِ انسانیت بھی۔
#ShabEMiraj #MirajUnNabi #ProphetMuhammad #AlAqsa #JourneyToHeaven #FaithAndSpiritualism #IslamicDocumentary #Seerah #MakkahToJerusalem #𝐒𝐮𝐛𝐡𝐚𝐧𝐚𝐥𝐥𝐚𝐡𝐰𝐚𝐛𝐢𝐡𝐚𝐦𝐝𝐢𝐡𝐢
![]()

