Daily Roshni News

تخلیقِ آدمؑ سے پہلے زمین پر آباد مخلوق کا عبرتناک انجام

تخلیقِ آدمؑ سے پہلے زمین پر آباد مخلوق کا عبرتناک انجام

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کائنات کی بے کراں وسعتوں میں جب سورج، چاند، ستارے اور کہکشائیں اپنے خالق کے حکم کے تابع گردش کر رہے تھے، جب زمین اپنے ابتدائی ادوار سے گزر رہی تھی، جب سمندر خاموشی سے لہریں اٹھا رہے تھے اور پہاڑ زمین کے سینے میں میخوں کی طرح گاڑے جا چکے تھے، تب اس دنیا پر انسان کا کوئی وجود نہ تھا۔ نہ کوئی شہر تھا، نہ کوئی سلطنت، نہ کوئی بازار تھا اور نہ ہی کوئی انسانی تمدن۔ زمین ایک ایسی مخلوق کی آماجگاہ تھی جس کا ذکر قرآن مجید نے براہِ راست تفصیل کے ساتھ نہیں کیا، مگر اسلامی روایات، آثارِ سلف اور بعض تفسیری اقوال میں اس کے اشارے ملتے ہیں۔

رات کی تاریکی جب زمین کو اپنے حصار میں لے لیتی، تو ویران میدانوں، بلند پہاڑوں اور گھنے جنگلات میں عجیب و غریب مخلوقات کی نقل و حرکت شروع ہو جاتی۔ ان کے پاس قوت تھی، اختیار تھا، آزادی تھی اور زمین پر حکمرانی کا موقع بھی۔ لیکن تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ جب طاقت عدل سے جدا ہو جائے، جب اختیار فساد کا ذریعہ بن جائے اور جب مخلوق اپنے رب کی نافرمانی کو زندگی کا شعار بنا لے، تو پھر اس کا انجام عبرت ناک ہو جاتا ہے۔

اسلامی روایات کے مطابق حضرت آدمؑ کی تخلیق سے پہلے زمین پر جنات آباد تھے۔ قرآن مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ جنات کی تخلیق انسان سے پہلے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور جن کو ہم نے اس سے پہلے آگ کی لپٹ سے پیدا کیا تھا۔” (سورۃ الحجر: 27)

یہ آیت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ جنات انسان سے پہلے وجود میں آ چکے تھے۔ ان کے پاس عقل تھی، شعور تھا، ارادہ تھا اور نیکی و بدی میں سے کسی ایک راستے کو اختیار کرنے کی آزادی بھی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے بعد میں انسان کو دی گئی۔

ابتدائی زمانے میں جنات کی ایک بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کی عبادت گزار تھی۔ وہ اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے، اس کے احکام کی تعمیل کرتے اور زمین میں امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بدلنے لگے۔ طاقت نے تکبر کو جنم دیا، آزادی نے سرکشی کو بڑھایا اور خواہشات نے اطاعت کی جگہ لینا شروع کر دی۔

زمین پر مختلف قبائل اور گروہ وجود میں آئے۔ ان کے درمیان اقتدار کی جنگیں شروع ہو گئیں۔ طاقتور کمزوروں کو دبانے لگے۔ خونریزی عام ہو گئی۔ ظلم، فساد اور بغاوت نے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ روایات میں آتا ہے کہ جنات ایک دوسرے کے خلاف جنگیں کرتے، قتل و غارت گری میں مصروف رہتے اور اللہ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال چکے تھے۔

یہ محض ایک اخلاقی زوال نہیں تھا بلکہ ایک مکمل تہذیبی تباہی تھی۔ اگر ہم ان روایات کو ایک تاریخی منظرنامے کے طور پر دیکھیں تو زمین پر ایک ایسی دنیا قائم ہو چکی تھی جہاں طاقت ہی قانون بن گئی تھی۔ انصاف کمزور ہو چکا تھا اور ظلم غالب آ چکا تھا۔

اسی تناظر میں بعض مفسرین نے سورۃ البقرہ کی اس آیت کی تشریح کی ہے جس میں فرشتوں نے عرض کیا:

“کیا تو زمین میں ایسے کو پیدا کرے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا؟”

فرشتوں کا یہ سوال اس بات کی طرف اشارہ سمجھا گیا کہ وہ زمین پر پہلے موجود مخلوق کے طرزِ عمل کو جانتے تھے یا اس کے مشاہدے کی بنیاد پر ایسا سوال کر رہے تھے۔ اگرچہ قرآن مجید نے اس مخلوق کا نام نہیں بتایا، لیکن متعدد تفسیری روایات اسے جنات سے جوڑتی ہیں۔

تصور کیجیے ایک ایسی دنیا کا جہاں ہر طرف جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں۔ قبیلے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوں۔ طاقتور سردار اپنی قوت کے نشے میں مست ہوں۔ زمین ظلم اور خونریزی سے بھر چکی ہو۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب آسمان کی عدالت نے فیصلہ صادر کیا۔

روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ایک لشکر کو زمین پر بھیجا تاکہ فسادی جنات کو سزا دی جائے۔ ان فرشتوں نے سرکش گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔ بہت سے باغی ہلاک کر دیے گئے، بہت سے دور دراز جزیروں اور ویران علاقوں کی طرف بھگا دیے گئے اور زمین کا نظم دوبارہ قائم کیا گیا۔

انہی روایات میں ایک اہم کردار ابلیس کا بھی سامنے آتا ہے۔ ابلیس اصل میں جنات میں سے تھا، جیسا کہ قرآن مجید واضح کرتا ہے:

“وہ جنات میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔” (سورۃ الکہف: 50)

کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں ابلیس عبادت گزار تھا۔ اس کی عبادت اور ریاضت کی وجہ سے اسے فرشتوں کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ وہ علم، عبادت اور ظاہری تقویٰ میں ممتاز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن تاریخ بار بار ثابت کرتی ہے کہ ظاہری عبادت اگر عاجزی سے خالی ہو تو انسان یا جن کو نجات نہیں دے سکتی۔

ابلیس کی زندگی میں اصل آزمائش ابھی آنی باقی تھی۔

زمین پر فساد کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ ایک نئی تاریخ رقم ہونے والی تھی۔ فرشتوں کی صفوں میں خاموشی تھی۔ آسمانوں میں ایک عظیم اعلان گونجا:

“میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔” (سورۃ البقرہ: 30)

یہ اعلان کائنات کی تاریخ کا سب سے اہم موڑ تھا۔

فرشتوں نے عرض کیا:

“کیا تو اس میں ایسے کو پیدا کرے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں؟”

اللہ تعالیٰ نے جواب دیا:

“میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔”

یہ الفاظ محض جواب نہیں تھے بلکہ پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ تھے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اگرچہ انسانوں میں کچھ لوگ فساد کریں گے، لیکن انہی میں انبیاء بھی ہوں گے، صدیقین بھی ہوں گے، شہداء بھی ہوں گے اور صالحین بھی۔ انہی میں حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ بھی تشریف لائیں گے۔

پھر وہ لمحہ آیا جب آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ زمین کے مختلف حصوں کی مٹی کو جمع کیا گیا۔ اس مٹی میں رنگوں کا تنوع تھا، ساخت کا اختلاف تھا اور خصوصیات کا تنوع تھا۔ گویا پوری زمین کا خلاصہ ایک وجود میں جمع کر دیا گیا۔

جب آدمؑ کی تخلیق مکمل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی۔ پھر فرشتوں کو حکم دیا گیا:

“آدم کو سجدہ کرو۔”

تمام فرشتے سجدے میں گر گئے، مگر ابلیس نے انکار کر دیا۔

اس نے کہا:

“میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔”

یہ وہ لمحہ تھا جس نے ابلیس کی برسوں کی عبادت کو برباد کر دیا۔ تکبر نے اسے وہاں گرا دیا جہاں کوئی ظاہری گناہ بھی نہ گرا سکا تھا۔

زمین پر پہلے آباد مخلوق کا عبرتناک انجام صرف ان کی جنگوں اور فساد میں نہیں تھا، بلکہ ابلیس کی داستان بھی اسی انجام کا حصہ ہے۔ وہ جو کبھی عبادت گزار تھا، اپنی انا کے ہاتھوں ہمیشہ کے لیے مردود قرار پایا۔

قرآن مجید بار بار اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم اور فساد کو پسند نہیں کرتا۔ زمین پر پہلے آنے والی مخلوق کی تباہی ایک تنبیہ تھی، اور انسانوں کے لیے ایک سبق بھی۔

ان واقعات نے بعد کی پوری انسانی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ جب حضرت آدمؑ زمین پر تشریف لائے تو انہیں معلوم تھا کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں اطاعت اور نافرمانی کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔ یہاں تکبر اور عاجزی کی جنگ جاری رہے گی۔ یہاں حق اور باطل آمنے سامنے آئیں گے۔

اگر ہم اس واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق پر غور کریں تو سب سے پہلی حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ طاقت کبھی دائمی نہیں ہوتی۔ جنات زمین پر غالب تھے، لیکن جب انہوں نے اللہ کے احکام کو چھوڑ دیا تو ان کی قوت انہیں بچا نہ سکی۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ عبادت صرف ظاہری اعمال کا نام نہیں۔ ابلیس کی مثال بتاتی ہے کہ تکبر ایک ایسا زہر ہے جو برسوں کی عبادت کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت انسانی عقل سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ فرشتوں نے فساد کے امکان کو دیکھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے روشن مستقبل کو دیکھا۔

چوتھا سبق یہ ہے کہ زمین پر خلافت ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ انسان کو محض اختیار نہیں دیا گیا بلکہ جواب دہی بھی دی گئی ہے۔ ہر فرد اپنے اعمال کا حساب دے گا۔

پانچواں سبق یہ ہے کہ تاریخ کا ہر دور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں اور مخلوقات اس وقت تک باقی رہتی ہیں جب تک وہ عدل، حق اور اطاعتِ الٰہی پر قائم رہتی ہیں۔ جب ظلم، غرور اور نافرمانی غالب آ جائے تو زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔

آج جب ہم دنیا کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں، طاقت کی دوڑ، ظلم و ناانصافی، اخلاقی زوال اور خود پسندی کے مظاہر دیکھتے ہیں تو تخلیقِ آدمؑ سے پہلے زمین پر آباد مخلوق کی یہ داستان محض ایک قدیم قصہ محسوس نہیں ہوتی بلکہ ایک زندہ تنبیہ بن جاتی ہے۔

ان کے کھنڈرات شاید ہماری آنکھوں کو نظر نہ آئیں، ان کی بستیاں شاید تاریخ کے صفحات میں محفوظ نہ ہوں، لیکن ان کا انجام قرآن کے پیغام، اسلامی روایات اور آسمانی تعلیمات میں محفوظ ہے۔ وہ ہمیں پکار پکار کر کہتا ہے کہ طاقت فنا ہو جاتی ہے، سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، قومیں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں بدلتا۔

زمین پر پہلے فساد کرنے والی مخلوق مٹ گئی، مگر ان کی داستان باقی رہ گئی تاکہ آنے والے انسان عبرت حاصل کریں۔ حضرت آدمؑ کی تخلیق دراصل ایک نئی شروعات تھی، لیکن اس شروعات کے پس منظر میں ایک ایسی تباہ شدہ دنیا کی یاد موجود تھی جو اپنے رب کی نافرمانی کی وجہ سے زوال کا شکار ہو چکی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید بار بار انسان کو اپنی اصل، اپنی ذمہ داری اور اپنے انجام کی یاد دلاتا ہے۔ جو شخص ان حقائق پر غور کرتا ہے، وہ سمجھ جاتا ہے کہ زندگی طاقت حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ امانت ادا کرنے کا نام ہے؛ برتری جتانے کا نام نہیں بلکہ عاجزی اختیار کرنے کا نام ہے؛ اور دنیا پر حکمرانی کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا نام ہے۔

تخلیقِ آدمؑ سے پہلے زمین پر آباد مخلوق کا عبرتناک انجام دراصل پوری انسانیت کے لیے ایک خاموش مگر طاقتور پیغام ہے: جو مخلوق اپنے خالق کو بھلا دیتی ہے، وہ خود تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتی ہے، اور جو اپنے رب سے جڑ جاتی ہے، اس کا نام زمانوں تک زندہ رہتا ہے۔ :::

Loading