Daily Roshni News

ترقی پسند ادب کا احساس “۔۔۔تبصرہ ۔ناز پروین

”ترقی پسند ادب کا احساس “

تبصرہ ۔ناز پروین

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔”ترقی پسند ادب کا احساس “۔۔۔تبصرہ ۔ناز پروین )میں ہوں ناز پروین احساس کے ساتھ ..جی میرے ہر آڈیو کالم کا آغاز احساس سے شروع ہوتا ہے .رمضان کے آخری ہفتے میں شوہر نامدار گھر تشریف لائے ۔۔میرے حوالے دو کتابیں کرتے ہوئے کہا کہ آج چائنہ ونڈو کے دفتر میں موصول ہوئی ہیں  .سرخ پتوں سے جھانکتی سورج کی شعائیں۔۔  ترقی پسند ادب کا احساس اور ناصر علی سید .ٹائٹل دیکھ کر ہی طبیعت سرشار ہو گئی۔ نوجوان افراز علی سید کا بنایا ہوا۔۔۔ نئی زندگی کی نوید دلاتا سر ورق ۔۔۔ جریدے کی نئی اشاعت کا اعلان کر رہا تھا  ۔ناصر علی سید اور  بھابھی فی الحال اپنے بچوں کے پاس کینیڈا اور امریکہ میں ہیں اس کے باوجود ان کا دل یہیں پشاور میں اٹکا رہتا ہے۔اتنے خوبصورت جریدے میں میرا نہ صرف مضمون شامل کیا بلکہ اہتمام بھی کیا کہ مجھ تک پہنچ بھی جائے ۔اب ہم اتنی محبتوں کے مقروض ہیں  ۔ احساس (میرے کالم  کا  نام ) اور میرا تعلق گزشتہ آٹھ برس کا ہے .آغاز ہی سے خوش قسمتی رہی کہ ناصر علی سید صاحب کا دست شفقت میسر آیا اور رہنمائی بھی .تھوڑی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ احساس ” (ادبی جریدے )کو یہ اعزاز حاصل رہا ھے کہ اسکی ادارت ممتاز شاعر ،ادیب ،نقاد ،محقق خاطر غزنوی کرتے رہے ہیں اور اس کو اپنے عہد میں بام عروج تک پہنچایا ۔ پھر  دوسرے دور میں خاطر غزنوی کو ناصر علی سید کا ساتھ میسر رہا. خاطر غزنوی کی وفات کے بعد احساس کے تیسرے دور میں ناصر علی سید کو حسام حر کی فعال معاونت ملی مگر اب کچھ عرصے سے جریدہ عارضی طور پر  تعطل کا شکار ھوا ۔ ایک عرصے کے بعد    اب اس معروف جریدے کے مدیر اعلیٰ عالمی شہرہ آفاق ،ممتاز ترقی پسند شاعر، ادیب ،کالم نگار ،ڈرامہ نویس اورصدارتی ایوارڈ یافتہ استاد محترم ناصر علی سید صاحب نے دوبارہ اشاعت کا سلسلہ شروع کیا   ۔۔۔جو کہ بہت خوش آئیند  ھے ۔ ایک ایسا ادبی جریدہ جس کی سرپرستی اتنی نامی گرامی شخصیات کرتی رہی ہیں ۔ اب  اس کا دوبارہ اجرا ادبی دنیا کے لیے ایک خوشخبری ہے  ۔ادبی دنیا کی چمکتی دمکتی کہکشاں میں ایک نو آموز لکھاری کو جگہ دے کر مجھے بہت بڑی سعادت دی ہے ۔مشتاق شباب ، پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی ، ڈاکٹر نور حکیم جیلانی، ڈاکٹر فضل کبیر ،فارغ بخاری، رضا ہمدانی ،خاطر غزنوی ،عتیق احمد صدیقی، ڈاکٹر فصیح الدین، خالد سہیل ملک، پروفیسر سہیل احمد ،ڈاکٹر نظیر تبسم ، یوسف عزیز زاہد ،ناصر علی سید اور  دیگر  نابغائے روزگار ادیبوں کے ساتھ ساتھ اپنا نام لکھا دیکھ کر عجیب سرشاری کی کیفیت ہوئی ۔اللہ اللہ یہ مقام ۔ یہ  اعزاز۔۔۔پورے جریدے میں گنتی کی چند خواتین میں میرا بھی نام اور مضمون شامل تھا۔۔ جس نے ایک بار پھر اعتماد بڑھایا اور مزید اچھا اور بہتر لکھنے کی ترغیب دی ۔شاعری کا انتخاب ہو یا مضامین سب بہترین اور بے حد دلچسپ ۔ان سب کو اکٹھا کرنا ترتیب دینا اور پھر انتہائی خوبصورت طباعت  کے ساتھ پیش کرنا۔۔۔ یقیناً ناصر علی سید ہی ایسا کر سکتے ہیں ۔سفرنامہ ہو ،طنزومزاح ، ذہنی صحت ، شخصی خاکے، مختصر افسانے،تنقید نگاری ، خوبصورت شاعری سب مل کر ایک خوبصورت گلدستے کی مانند احساس کی شکل میں اکٹھے کر دیے گئے ہیں ۔احساس صرف ایک بار پڑھنے سے طبیعت سیر نہیں ہوتی بلکہ بیڈ کے سرہانے سائیڈ ٹیبل پر پڑا بار بار مجبور کرتا ہے کہ اسے دوبارہ ،سہ بارہ پڑھیں ۔۔پاکستان بھر کے ساتھ ساتھ آسٹریا، امریکہ، ساؤتھ افریقہ، انگلینڈ ،انڈیا، قطر سے بھی ادیبوں، شاعروں کی نگارشات شامل کی گئی ہیں ۔جس نے اسے جغرافیائی حدود و قیود سے آزاد کر کے ایک بین الاقوامی ادبی جریدے کی حیثیت دے دی ہے ۔پرکشش ٹائٹل ۔274 صفحات ۔بہترین طباعت اور قیمت محض 400 روپے ۔جبکہ اس معیار کی کتابوں کی قیمت کم سے کم  دو ہزار روپے ہوتی  ہے ۔ادب سے بے لوث محبت کرنے والوں نے یقیناً اس کی طباعت میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہوگا۔اتنی محنت ناصر صاحب اگر اپنے لیے کرتے تو ان کے بے شمار مسودوں میں سے ایک یقیناً خوبصورت کتاب کی شکل اختیار کر لیتا ۔لیکن ادب سے ان کے بے  لوث لگاؤ کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ انہوں نے دنیا بھر سے ادبی تخلیقات اکٹھی کیں اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے احساس کی شکل میں جگمگا رہا ہے۔ادب سے لگاؤ رکھنے والے ہر شخص کے لیے یہ ایک نعمت سے کم نہیں ۔  ”ترقی پسند ادب کا احساس ”ہر لائبریری کی زینت بننا چاہیے ۔ناصر صاحب نے اداریے میں لکھا کہ” معاشرتی ابلاغ کی چکا چوند کا شکار ہو کر ہم سب بقائمی ہوش و حواس۔۔ اسے اپنی ادبی بقا اور اپنے پرشور تحریری اور تصویری اعلانات کو ادب کی ہمیشگی کا مترادف سمجھ بیٹھے ہیں ۔۔۔چلیے یہ سب تسلیم۔۔۔ مگر ایسے میں کسی بھی نئی کتاب یا جریدے کی اشاعت کا بھلا کیا جواز ہے ۔ترقی پسند ادب کے احساس کو مرتب کرتے ہوئے یہ سوال مجھے بہت تنگ کرتا رہا۔۔۔ دوستو آپ کا کیا خیال ہے۔۔۔“

محترم  ناصر علی  سید  صاحب سوشل میڈیا پر وقت  بِتاتے لوگ  خود پسندی ،ذہنی انتشار اور  امراض کا  شکار ہو  رہے ہیں  جبکہ اچھا  ادب  خاص  کر  احساس  جیسے  جریدے پڑھ کر  ذہنی  اور  قلبی طمانیت اور  آسودگی کا  احساس  ہوتا ہے  ۔ اللہ  تعالیٰ آپ  کو صحت  کاملہ  عطا کرے  اور  آپ  یونہی بے  لوث ہو  کر  ادب  کی  خدمت انجام دیتے رہیں۔

Loading