تصوف دین نہیں, فلسفہ ہے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )علامہ اقبال نے تصوف کے متعلق فرمایا : تصوف ہمیشہ انحطاط کی نشانی ہوتا ہے۔ یونانی تصوف، ایرانی تصوف، ہندوستانی تصوف سب انحطاطِ قومی کے نشان ہیں۔اسلام کے اولین دور کے صوفی ذہاد تھے۔ ان کا مقصد ذہد و تقویٰ تھا۔ بعد کے تصوف میں بعدالطبعیات اور نظریات بھی شامل ہو گئے۔ اس کے بعد تصوف محض ذہد نہیں رہتا بلکہ اس میں فلسفہ کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ ہمہ اوست مذہبی مسئلہ نہیں، بلکہ فلسفہ کا مسئلہ ہے۔ وحدت اور کثرت کی بحث سے اسلام کو کوئی سروکار نہیں، اسلام کی روح توحید ہے۔ اور اس کی ضد کثرت نہیں، شرک ہے۔ وہ فلسفہ اور وہ مذہبی تعلیم جو انسانی شخصیت کی نشوونما کے منافی ہو، بے کار چیز ہے۔ تصوف نے سائنٹفک روح کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے تعویذ تلاش کرتے ہیں۔ گوش و چشم کو بند کر دینا اور صرف چشم باطن پر زور دینا جمود اور انحطاط ہے۔ قدرت کی تسخیر جدوجہد سے کرنے کی سہل طریقوں کی تلاش ہے۔ شجرِ ممنوعہ میرا خیال ہے کہ تصوف سے ہی مراد ہے۔ خالص اسلامی تصوف یہ ہی ہے کہ احکامِ الہی انسان کی اپنی ذات کے احکام بن جائیں۔
یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
حوالہ : ذکرِ اقبال از مجید سالک
Hashaam Talks
#AllamaIqbal #tasawuf #تصوف #islam #HashaamTalks #iamHashaam #fyp #foryou #foryoupage #viral
![]()

