“تعریف کا لمس یا طنز کی آواز؟ بچے گڑھے سے کیسے نکلتے ہیں”
✍️روبینہ یاسمین
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔تحریر۔۔۔ روبینہ یاسمین )کچھ لوگوں کو بڑے طنزیہ انداز میں کہتے سنا ہے کہ آج کل کے ماں باپ تو اپنے بچوں کے “عاشق” بن گئے ہیں ہر بات پر تعریف، ہر چھوٹی کوشش پر واہ واہ۔
مگر ذرا ٹھہر کر سوچیں کیا واقعی یہ غلط ہے؟
میری نظر میں بچوں کی تعریف کرنا ان کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ دل سے، خوشی سے، اور مزید محنت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ درست سمت میں جا رہے ہیں اور اس سے بھی بہتر کر سکتے ہیں۔
آپ نے مینڈک والی کہانی تو سنی ہی ہوگی۔
ایک مینڈک گہرے گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ باہر کھڑے دوسرے مینڈک چیخ چیخ کر کچھ کہہ رہے تھے۔ وہ مینڈک بار بار کوشش کرتا رہا اور آخرکار ایک لمبی چھلانگ لگا کر باہر نکل آیا۔
بعد میں پتہ چلا وہ مینڈک بہرا تھا۔
وہ سمجھ رہا تھا کہ سب اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ کہہ رہے تھے
“تم سے نہیں ہوگا۔ اپنی توانائی ضائع نہ کرو۔ یہ گڑھا بہت گہرا ہے۔”
زندگی میں بھی ہم بہت سی “ناممکن” چیزیں صرف اس لیے کر گزرتے ہیں کہ ہمیں اپنے والدین کی آنکھوں میں خوشی دیکھنی ہوتی ہے۔ ان کی مسکراہٹ، ان کا یقین ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کی زندگی میں والدین اور بہن بھائی ہی واحد حوصلہ دینے والے ہوتے ہیں۔
مگر افسوس
شادی کے بعد بعض لوگوں کو ایسے شریکِ حیات ملتے ہیں جو ساتھ دینے کے بجائے مقابلہ کرنے لگتے ہیں۔ نہ کامیابی پر خوش ہوتے ہیں، نہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
وہ بھیڑ میں کھڑے وہی “مینڈک” ہوتے ہیں جو کہتے ہیں
“تم سے نہیں ہوگا یہ بہت مشکل ہے۔”
اور آہستہ آہستہ
یہ آوازیں انسان کے اندر امید کو دبا دیتی ہیں۔
کوشش کرنے کا حوصلہ، قسمت آزمانے کی خواہش سب مدھم پڑ جاتی ہیں۔
تو اگر آپ ایک والدین ہیں، تو یاد رکھیں
ہو سکتا ہے آپ ہی وہ واحد شخص ہوں جو اپنے بچے کے دل میں لگن کا بیج بو رہا ہے۔
لوگوں کے طنز کو نظر انداز کر دیں۔
اپنے بچے کی ناپختہ کوششوں کو سراہیں، اس کی حوصلہ افزائی کریں، اسے یقین دیں کہ وہ کر سکتا ہے۔
کیونکہ
آپ سے بڑھ کر اس کا کوئی خیر خواہ نہیں۔
اور یاد رکھیں
مضبوط بنیاد ہی ایک مضبوط عمارت کی ضمانت ہوتی ہے۔
✍️ روبینہ یاسمین
![]()

