Daily Roshni News

تعلیم تے تربیت دا رشتہ۔۔۔ تحریر۔۔۔مرادعلی شاہدؔدوحہ قطر

تعلیم تے تربیت دا رشتہ

تحریر۔۔۔ مرادعلی شاہدؔدوحہ قطر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تعلیم تے تربیت دا رشتہ۔۔۔ تحریر۔۔۔مرادعلی شاہدؔدوحہ قطر)تعلیم وتربیت کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟کیا آج کی تعلیم محض تعلیم،ڈگری یا ملازمت کے حصول کا ذریعہ ہے یا پھرنسل نو یعنی جن زی وایلفا کی تربیت میں بھی کوئی کردار ادا کر رہی ہے۔دیکھنے میں یہ سوال بہت سیدھا سادہ سا لگتا ہے جیسے یوکلپٹس کا درخت جس پہ چڑھنا تو مشکل ہے ہی،اگر کوئی کامیاب ہو بھی جائے تو پھل ندارد،انسان نے کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا دو آنہ۔گویا آج کی تعلیم بھی علم تو دے رہی ہے مگر تربیت کے معاملے میں تصویر ذرا دھندلی سی دکھائی دیتی ہے۔اور آج کا نوجوان یونیورسٹیوں میں گاتا دکھائی دیتا ہے کہ ”ذرا تصویر سے نکل کر سامنے آ،میری محبوبہ“

دونوں کے رشتہ پر اتنا زور کیوں دیا جاتا ہے اس کے لئے ان دو میں فرق کی وضاحت بہت ضروری ہے۔تعلیم جو دماغ کو معلومات دیتی ہے،راستہ ہے مگر تربیت اس راستہ کو دکھانے کا ذریعہ یا روشنی ہے،جو انسان کو انسان بناتی ہے،ذمہ داری اور احساس پیدا کرتی ہے۔تعلیم وتربیت کا رشتہ جیسے میاں بیوی کا رشتہ ہو،اب فرق کرنا مشکل ہے کہ بیوی کون سی ہے،تعلیم یا تربیت۔اس کا آسان سا حل مین نے نکالا ہے کہ جو مشکلات در مشکلات پیدا کرے سمجھ جاؤ بیوی اور جو برداشت کرتا ہی چلا جائے تربیت۔کہ تربیت نام ہی برداشت کا ہے۔

ہمارے زمانہ میں تعلیم اور تربیت ایسے جڑے ہوتے تھے جیسے چائے اور بسکٹ،سپاہی اور رشوت،طالب علم اورچیٹنگ کہ سب ایک دوسرے بنا ادھورے لگتے ہیں۔پہلے استاد سبق بھی پڑھا دیتے اور ساتھ ہی ساتھ دو چار ”زندگی کے سبق“بھی مفت مین دے دیتے بنا فیس کے،اب فیس پہلے سبق بعد میں اور زندگی کے سبق کے بارے میں کہتے ہیں زندگی خود ہی سکھا دے گی۔

آج کے بچے بھی بڑے ذہین وفطین ہو گئے ہیں،استاد سوال پوچھے تو جواب کا انتظار کئے بنا ہی انکل گوگل سے سوال کر دیتے ہیں،اب تو پھوپھو AI  بھی میدان میں کود پڑی ہے،جس سے کتنے بھی سوال داغ دیں پھوپھو کی طرح جواب نوکِ سناں کی طرح تراشیدہ حاضر ہوگا۔اسی لئے تو آج کے بچے استاد کو صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ سر جی یقین نہیں آتا تو پھر

میری طرف سے جواب اے۔

پہلے بچے استاد سے ڈرتے تھے اب استاد بچوں کے”ریویوز“سے خوف کھاتا ہے۔کہ کہیں کل کلاں اس کی ریٹنگ ہی کم نہ ہو جائے،کلاس مین لیکچر کے دوران اگر کوئی بچہ سوال کر دیں تو استاد محترم کا جواب ملاحظہ ہو کہ میرے یو ٹیوب میں پڑا ہے گھر جا کر دیکھ لینا،تمہیں جواب مل جائے گا اور مجھے ”ویوز“۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ نصاب سازی میں ہم نے فزکس،کیمسٹری،بائیو کو تو ڈال لیا ہے مگر تربیت و انسانیت کا باب کہیں مس پرنٹ ہو گیا ہے۔اسی لئے آج کے بچے نیوٹن کے قوانین تو زبانی فر فر یاد کر لیتے ہیں،مگر زندگی گزارنے کے قوانین پرآتے ہی ان کا ذہنی”سسٹم ہینگ“ ہو جاتا ہے یا نیٹ بفر کرنے لگ جاتا ہے،گویا کہہ رہا ہو کہ نیٹ سپیڈ تیز ہونے کا انتظار فرمائیں اور جو کبھی بھی نہیں ہوتا۔

پہلے استادشاگرد کو دیکھ کر پہچان لیتا تھاکہ مستقبل میں کیا بنے گا،اور اکثر اساتذہ کا زور بچے کو انسان بنانے پر ہی ہوتااور اب بچہ استاد کو کہتا ہے انسان بن انسان استاد نہ بن۔اب استاد کا مستقبل بچے کے ہاتھ میں ہے کیونکہ اسے تربیت کی بات کریں تو صاف صاف جواب دیتا

 ہے ہاتھ لگایا تو میں تمہارا مستقبل تباہ کردونگا۔پہلے بچے کو استاد پوچھتے کہ کیا بنوں گا تو اکثر جواب ملتا پہلے انسان پھر کچھ اور اب سوال سے پہلے ہی جواب ملتا ہے”کونٹینٹ کریئیٹر“۔جواب سے کوئی اور خوش ہو نا ہو گھر والے ضرور خوش ہو جاتے ہیں کہ چلو اب ہمیں نہ اس کے کیرئیر کی فکر ہے اور نہ ہی کسی کونٹینٹ کی،کہ یہی چلے گا تو لکشمی دیوی آئے گی۔گھر والوں کو تب پتہ چلتا ہے جب بچہ واقعی گھر میں ”لکشمی“لے آتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ میں نے اسے قبول کرلیا آپ بھی اسے بہو تسلیم کر لیں۔

تربیت کا لفظ اب تقاریر میں تو اچھا لگتا ہے مگر عملی زندگی میں ایسے غائب ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ،ایسا ہی سوال اگر میں کلاس میں پوچھ لوں کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ تو جواب دینے سے قبل ہی سب بچے اپنے اپنے سروں پہ ہاتھ پھیرنا شروع ہو جاتے ہیں۔اگر بنظردقیق دیکھا جائے تو اصل مسئلہ تعلیم وتربیت کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت کا توازن بگڑ گیا ہے،اس لئے آج کا نظام تعلیم ذہین لوگ تو پیدا کر رہا ہے مگر بہترین انسان نہیں۔اگر اب بھی ہم نے تعلیم کو تربیت سے نہ جوڑا تو کل کو ہمارے پاس بہت سے ”سمارٹ لوگ“تو ہوں گے مگر ”اچھے لوگ“ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔یاد رکھئے اگر اچھے لوگ نایاب ہو گئے تو پھر دنیا کو”اپڈیٹ نہیں ری سیٹ“مارنا پڑے گا۔

Loading