تعلیم یا تماشہ؟
حمیراعلیم
پاکستان میں حالیہ دنوں میں ایک عجیب و غریب اور افسوسناک رجحان نے جنم لیا ہے ۔جس میں تعلیمی اداروں میں عجیب و غریب فنکشنز منعقد کیے جا رہے ہیں۔جیسے کہ فیک ویڈنگ ، نو رز ڈے، جینڈر سویپ یا کیورڈے، ہولی، دیوالی، کرسمس، بولی وڈ فلم ڈے وغیرہ ۔ حال ہی میں لمز اور کے پی کی ایک یونیورسٹی میں طلبہ کی جانب سے منعقدہ ایسی ہی جعلی شادی کی تقریب اس وقت سرخیوں کی زینت بنی جب انتظامیہ کی غفلت اور طلبہ کی حد سے بڑھی ہوئی آزادی پر قانونی کارروائی کی نوبت آگئی۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا میں تعلیمی اداروں کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہاں کا ہر لمحہ طلباء کی شخصیت سازی اور پیشہ ورانہ مہارت میں صرف ہوتا ہے۔امریکی یونیورسٹیزجیسے ہارورڈ یا سٹینفورڈ میں ہم نصابی سرگرمیاں ضرور ہوتی ہیں لیکن کمیونٹی ورک اور انٹرن شپس کے ذریع۔ وہاں طلبہ کو چھٹیوں میں چیریٹی ورک کرنے پر اضافی کریڈٹ ملتے ہیں نہ کہ فیک ویڈنگ جیسے فضول فنکشنز کرنے پر۔
وہاں کا سب سے بڑا ایونٹ گریجویشن سیریمنی ہوتی ہے جو ایک باوقار علمی تقریب ہوتی ہے۔آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی یونیورسٹیز میں طلبہ کی تفریح کے لیے ڈیبیٹنگ سوسائٹیز اور اسپورٹس کلب ہوتے ہیں۔ وہاں اگر کوئی فنکشن ہو بھی تو وہ علمی مباحثوں یا کسی سماجی مقصد (جیسے کینسر ریسرچ کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا) پر مبنی ہوتا ہے۔ غیر مذہبی یا غیر اخلاقی رسومات کی وہاں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
آسٹریلوی تعلیمی اداروں میں ورک انٹیگریٹڈ لرننگ پر زور دیا جاتا ہے۔ وہاں طلبہ کو انڈسٹری کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تاکہ وہ فارغ التحصیل ہوتے ہی معاشرے کا فعال اور کماؤ شہری بن سکیں۔
مغربی ممالک میں تعلیمی نظام صرف کتابی علم تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہاں اسکول کی سطح سے ہی بچوں کو Life Skills(زندگی گزارنے کی مہارتیں) سکھانے کے لیے مختلف تفریحی اور تربیتی پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔
ان پروگرامز کا مقصد بچوں کو معاشرے کا ایک ذمہ دار، بااعتماد اور معاشی طور پر مستحکم شہری بنانا ہوتا ہے۔
کمیونٹی سروس میں طلباء کو فلاحی اداروں، اولڈ ہاؤسز یا پارکس میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ان میں ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
ڈرامہ اور آرٹس کلب انہیں اسٹیج پر پرفارمنس کے ذریعے پراعتماد بناتےہیں اور ان کی بول چال کی مہارت بہتر ہوتی ہے۔ وہ پینٹنگ ، اسکیچنگ، مجسمہ سازی وغیرہ سیکھتے ہیں۔
آؤٹ ڈور کیمپس کے تحت جنگلات یا پہاڑی علاقوں میں کیمپنگ کروائی جاتی ہے جہاں بچے ٹیم ورک، سوئمنگ، پیرا گلائڈنگ، ہائیکنگ، ائیرو شوٹنگ، گھڑ سواری،آگ جلانا، اور مشکل حالات میں زندہ رہنے کے طریقے سیکھتے ہیں۔
کھیل صرف جسمانی ورزش نہیں بلکہ نظم و ضبط اور شکست تسلیم کر کے آگے بڑھنے کا سبق دیتے ہیں۔
مغربی نظام میں بچوں کو بچپن سے ہی پیسے کی اہمیت اور اسے کمانے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں:
Lemonade Stand / Bake Sales: پرائمری اسکول میں بچے خود چیزیں بنا کر بیچتے ہیں۔ اس سے انہیں مارکیٹنگ، منافع و نقصان اور کسٹمر سروس کا بنیادی تجربہ ہوتا ہے۔
Career Days: مختلف پیشہ ور افراد (ڈاکٹرز، انجینئرز، پلمبرز، شیف) اسکول آ کر اپنے کام کے بارے میں بتاتے ہیں تاکہ بچے شروع سے ہی اپنے رجحان کو سمجھ سکیں۔
Work Experience (برطانیہ اور آسٹریلیا): 14 سے 16 سال کی عمر میں طلباء کو ایک یا دو ہفتے کے لیے کسی فیکٹری،دفتر یا دکان میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اسے باقاعدہ گریڈز کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ جرمنی اس معاملے میں سب سے آگے ہے۔ وہاں Vocational Training کا ایک خاص نظام ہے۔اگر کوئی بچہ روایتی یونیورسٹی نہیں جانا چاہتا تو وہ اسکول کے ساتھ ہی کسی فیکٹری یا ادارے میں Apprenticeship شروع کر دیتا ہے۔وہ تین دن کام سیکھتا ہے اور دو دن اسکول جاتا ہے۔ اس طرح 18-19 سال کی عمر تک وہ ایک ماہر ہنرمند بن کر کمانا شروع کر دیتا ہے۔
بچوں کو معاشرت کا فعال حصہ بنانے کے لیے درج ذیل طریقے اپنائے جاتے ہیں:
مالیاتی شعور دینے کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنا، ٹیکس کے بارے میں بنیادی معلومات اور بجٹ بنانا سکھایا جاتا ہے۔
جمہوریت سے آگاہی کے لیے اسکول کونسل کے انتخابات ہوتے ہیں جہاں بچے ووٹ ڈالتے اور مہم چلاتے ہیں۔
ان ممالک کا فلسفہ یہ ہے کہ تعلیم صرف روزگار کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے لیے اہم ہے۔ وہ بچوں کو صرف نوکری ڈھونڈنے والا نہیں بلکہ مسائل حل کرنے والا (Problem Solver) بناتے ہیں۔
پاکستان میں جہاں شرح خواندگی پہلے ہی کم ہےوہاں موجودہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کا رخ تعمیری سرگرمیوں کے بجائے تخریبی کاموں کی طرف مڑ گیا ہے۔
ایک ایسی شادی رچانا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ محض سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا سستا ذریعہ ہے۔ اس پر لاکھوں روپے لٹائے جاتے ہیں جو والدین کی خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے۔
تعلیمی اداروں کے ان فنکشنز میں اکثر ناچ گانا، ہلڑ بازی اور بعض رپورٹس کے مطابق منشیات و شراب کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ تمام چیزیں نہ صرف اسلامی شعائر کے خلاف ہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی وقار کو بھی ٹھیس پہنچاتی ہیں۔
جب طالب علم کا ذہن دلہا دلہن بننے اور ڈانس ریہرسل میں الجھ جائے گا تو وہ تحقیق اور سائنس میں کیا نام پیدا کرے گا؟
کیا ہم مغربی ممالک کی طرح کی سرگرمیاں نہیں اپنا سکتے ہیں؟
پڑھائی کے دباؤ سے بریک لینا ضروری ہے لیکن اس کا طریقہ فیک ویڈنگ نہیں ہونا چاہیے۔ عالمی سطح پر طلبہ ریلیکس کرنے کے لیے درج ذیل سرگرمیاں اپناتے ہیں:
کیمپنگ اور ہائیکنگ جس سے وہ قدرت کے قریب جا کر ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں اور ٹیم ورک سیکھنتے ہیں ۔
سوشل ویلفیئر پروجیکٹس جن میں یتیم خانوں، ہسپتالوں یا شجر کاری کی مہمات میں حصہ لیتے ہیں جس سے انسانی ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔
ٹیک فیسٹ اور نمائشیں: اپنے بنائے ہوئے ماڈلز اور آئیڈیاز کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
کھیلوں کے مقابلے: جسمانی صحت اور ڈسپلن کے لیے بین الجامعاتی کھیلوں کا انعقاد۔
حالیہ واقعات کے پیش نظر حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ مقرر کرنے اور ایسے بیہودہ فنکشنز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ نہایت درست اور وقت کی ضرورت ہے۔یکساں ڈریس کوڈ سے طبقاتی فرق ختم ہوگا اور طلباء کی توجہ اپنی ظاہری نمائش کے بجائے تعلیم پر رہے گی۔ تعلیمی اداروں کو ہلہ گلہ کی جگہ بننے سے روکنے کے لیے ایسے فنکشنز پر پابندی عائد کرنا درست اقدام ہے۔
کیونکہ تعلیمی ادارے قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔ انہیں شادی ہال یا ڈانس کلب میں تبدیل کرنا ہماری آنے والی نسلوں کے ساتھ دشمنی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اصل کامیابی سستی شہرت میں نہیں بلکہ علم اور خدمتِ خلق میں ہے۔ ویسے بھی ایک غریب ملک کے عوام کو یہ شاہانہ فضول خرچیاں جچتی نہیں۔
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی دور سے گزر رہا ہے، جہاں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا خواب بن چکا ہے۔ ایسے میں یونیورسٹی کے طلبہ کا فیک ویڈنگ جیسی تقریبات پر لاکھوں روپے لٹانا ایک بے حس معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔
ان فضول تقریبات پر جو رقم لباس، سجاوٹ، فوٹوگرافی اور کھانے پینے پر ضائع کی جاتی ہے اگر وہی رقم کسی فلاحی فنڈ میں جمع کرائی جائے تو کئی مستحق طلباء کی پورے سال کی فیس ادا کی جا سکتی ہے
ایک غریب ملک کے طالب علم ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری عیاشی نہیں بلکہ سادگی ہونی چاہیے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ یہ نوجوان کسی کچی بستی میں جا کر وہاں کے بچوں کے لیے سکول کٹس خریدتے یا کسی ہسپتال میں مریضوں کے لیے ادویات کا بندوبست کرتے۔تعلیم صرف ڈگری لینے کا نام نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہنے اور دوسروں کے دکھ بانٹنے کا نام ہے۔ جب ہم ایک طرف امداد کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور دوسری طرف تعلیمی اداروں میں مصنوعی شادیوں پر جشن مناتے ہیں تو ہم دنیا بھر میں اپنی جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں۔
![]()

