Daily Roshni News

تقویٰ اور پرہیز گاری

تقویٰ اور پرہیز گاری

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )توبہ پرہیز گاری پر موقوف ہے۔ تقویٰ اور پرہیز گاری کے ذریعے ہی دنیوی اور اُخروی کامیابی کا حصول ممکن ہے۔ ایک رائی برابر بھی برے عمل سے ڈرنا اور ان تمام چیزوں سے اجتناب کرنا جو بندے کو اللہ تعالیٰ سے دور رکھیں، پرہیز گاری ہے۔

پرہیز گاری اتنا اعلیٰ و ارفع عمل ہے کہ اِس کے سبب انسان کو عزت و احترام حاصل ہوتا ہے۔ تقویٰ بھی پرہیز گاری کا مترادف لفظ ہے۔ پرہیز گار ہونا درحقیقت ہر حرام اور مشتبہ چیز کو ہمیشہ کے لئے اپنے شب و روز سے نکال دینا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے دریافت کیا:

یَا رَسُوْلَ اللهِ! مَنْ أَکْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَتْقَاهُمْ.

بخاری، الصحیح، کتاب الأنبیاء، باب قول اللہ تعالی {وَاتَّخَذَ اللہ إِبْرَاهِیْمَ خَلِیْلاً}، 3: 1224، رقم: 3175

یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو سب سے زیادہ متقی (پرہیزگار) ہے۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لَا عَقْلَ کَالتَّدْبِیرِ، وَلَا وَرَعَ کَالْکَفِّ، وَلَا حَسَبَ کَحُسْنِ الْخُلُقِ.

ابن ماجہ، السنن، کتاب الزہد، باب الورع والتقوی، 2: 1410، رقم: 4218

تدبیر سے بڑھ کر عقل مندی نہیں، معافی اور (گناہوں) سے اجتناب کرنے سے بڑھ کر تقویٰ (پرہیزگاری) نہیں اورحُسنِ اَخلاق سے بڑھ کر کوئی حسب و نسب نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پرہیز گاری سے بڑھ کر انسان کو توبہ پر ثابت قدم رکھنے والا کوئی اور عمل نہیں ہے۔

Loading