تلخ حقیقت جو آپکو کوئی نہیں بتائے گا۔
تحریر۔۔۔روبینہ یاسمین ️
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تلخ حقیقت جو آپکو کوئی نہیں بتائے گا۔۔۔ تحریر۔۔۔روبینہ یاسمین ️)چند ماہ پہلے لگاتار انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی بدولت کچھ ڈائجسٹو
سسٹم میں الٹ پلٹ ہوئی۔ جب میں بھرپور سانس لیتی تو میرے ہارٹ والی سائیڈ پر درد ہوتا۔ کووڈ نمونیا کے وقت میرے ہارٹ کی جھلی پر ورم آ گیا تھا ۔ اس وقت بھی ایسا ہی درد ہوتا تھا۔ تو مجھے لگا کہ دوبارہ کہیں ہارٹ کی پیری کارڈئم کو کچھ نہ ہو گیا ہو۔
مسی ساگا کے ایک ہسپتال گئی۔ ہسبینڈ کو کہا گھر جائیں۔ میں فری ہو کر آپکو کال کر دوں گی۔
میرے ہسبینڈ کے لئے ویٹنگ روم میں بیٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ان سے گھنٹوں کے انتظار نہیں ہوتے اس لئے میں انہیں اس کوفت سے محفوظ رکھتی ہوں۔
خیر ہسپتال نے مجھے فاسٹ ٹریک میں ڈالا۔ ٹیسٹ کئے۔ دو بار ای سی جی کر کے اطمینان کیا کہ ہارٹ ٹھیک ہے۔
پھر سب ٹیسٹ کر کے بتایا کہ معدے کا درد ہے جو اینڈ و سکوپی سے کنفرم ہو گا کہ کیوں ہے۔
ٹریٹمنٹ پلان بتا کر مجھے رخصت کر دیا۔
یہ سب کام دو ڈھائی گھنٹے میں ہو گیا تھا۔
ہسپتالوں میں علاج کے معیار پر اکثر بات ہوتی ہے۔ کہیں انتظار زیادہ ہے، کہیں توجہ کم، کہیں سسٹم کی سست رفتاری۔ اور پھر سوال اُٹھتا ہے
کیا واقعی ہر مریض کو ایک جیسی کیئر ملتی ہے؟
اصولی جواب تو یہی ہے کہ ہاں
مگر عملی زندگی میں، انسان اصولوں سے نہیں، رویّوں سے ٹکراتا ہے۔
ہسپتال کا عملہ مشین نہیں ہوتا۔
وہ بھی انسان ہیں تھکے ہوئے، دباؤ میں، لمبی شفٹس میں، کم سٹاف کے ساتھ کام کرتے ہوئے۔
اب ایسے میں اگر مریض کا اٹینڈنٹ چیخنے لگے، بدتمیزی کرے، الزام تراشی کرے، تو کیا اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا؟
نہیں، ایسا نہیں ہے۔
یہ بات شاید کوئی سرکاری طور پر نہ کہے، شائد قریبی دوست بھی بتانے سے گریز کرے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ
بدتمیزی علاج کو نہیں روکتی،
لیکن توجہ کی نرمی، بات سمجھانے کا حوصلہ، اضافی خیال
یہ سب آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
مریض کو دوائی تو ملتی ہے،
مگر مسکراہٹ کم ہو جاتی ہے۔
چیک تو ہو جاتا ہے،
مگر بار بار آ کر حال پوچھنے کی خواہش ختم ہو جاتی ہے۔
اکثر اٹینڈنٹس بدتمیزی اس لیے کرتے ہیں کہ وہ خوف زدہ ہوتے ہیں، بے بس ہوتے ہیں، اپنے پیارے کو تکلیف میں دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔
یہ جذبہ سمجھ میں آتا ہے۔
مگر سسٹم جذبات نہیں، رویّے دیکھتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ
ہسپتال میں لڑ کر کیئر نہیں لی جاتی،
وہاں سمجھداری سے، پر سکون رہ کر، ٹون درست رکھ کر بات کر کے، درست جگہ شکایت کر کے، اور احترام کے ساتھ سوال پوچھ کر کام بنتا ہے۔
یہ تلخ سچ ہے کہ
ایک شائستہ لہجہ اکثر وہ دروازے کھول دیتا ہے
جو غصہ اور بدتمیزی بند کر دیتی ہے۔
اور آخر میں بس اتنا ہی
علاج سسٹم دیتا ہے،
مگر رویّہ انسان دیتا ہے۔
اور انسان، چاہے کتنا ہی پروفیشنل کیوں نہ ہو،
انسانی برتاؤ سے ضرور متاثر ہوتا ہے۔
✍️ روبینہ یاسمین
#RubinaYasmeen
![]()

