تمہیں اختیار ہے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ سرخ جوڑا پہنے دلہن بنی اپنے ہمسفر کا انتظار کر رہی تھی جس نے پورے خاندان کی مخالفت لے کر اس چھوٹی سی لڑکی سے شادی کی تھی ۔جس کی عمر ابھی سترہ سال تھی۔۔ کمرے کا دروازہ کھولا اور اسکی ساس اندر داخل ہوئی وہ جو اپنی دل کی دھڑکن کو بے ترتیب ہونے سے روک رہی تھی ایک دم چونکی ۔۔ “لڑکی!” بی بی جان انہیں متوجہ کر کے کہنے لگیں، “تمہیں شاید خبر نہیں ہے لیکن تم ہمارے خاندانی رسم و رواج توڑ کر یہاں تک پہنچی ہو۔” یہ آواز ان کے حلق میں اٹک گئی۔ “ہاں، ہم تمہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ہم غیر ذات و غیر برادری سے رشتے نہیں جوڑتے، نہ غیروں میں لڑکیاں دیتے ہیں اور نہ لیتے ہیں۔ غیر ذات و برادری سے آنے والی تم پہلی لڑکی ہو۔” قدرے توقف کے بعد، “ہم تمہیں یہاں لانے کے حق میں ہرگز نہیں تھے کیونکہ جن رسم و رواج کے ہم خود پاسبان ہیں، انہیں ہم کیسے توڑ سکتے تھے لیکن سلمان احمد کی ضد نے مجبور کر دیا۔ ہمیں تم سے کوئی شکوہ نہیں نہ ہی کوئی فرمائش، ظاہر ہے جسے میرا بیٹا اپنی عزت بنا کر لایا ہے، اسے ہم وہی مقام دیں گے جو پہلی بہوؤں کا ہے۔” عالیہ کو سمجھ میں نہیں آیا کہ جب کوئی شکوہ نہیں ہے تو پھر وہ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔ کچھ الجھ کر دیکھا تو وہ بولیں، “تمہیں اپنی نئی زندگی کی ابتدا سے پہلے ہی ہم سے وعدہ کرنا ہوگا کہ تم ہمارے رسم و رواج کی پاسداری کروگی۔” “وعدہ؟” ان کا جی سوالیہ تھا، وہ بالکل نہیں سمجھیں کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ “ہمارا مطلب ہے، تمہارے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد اس خاندان سے باہر نہیں جائے گی۔” بی بی جان نے اپنا مفہوم واضح کیا تو عالیہ کا سر چکرا کر رہ گیا، وہ کیا کہتیں کہ ابھی تو احساسات کو چھونے والے نے نئے راستوں کی آشنائی بھی نہیں بخشی تھی اور بی بی جان اس سے آگے کی بات کر رہی تھیں۔ “ہم تمہاری خاموشی کو کیا سمجھیں؟” بی بی جان اسی وقت جواب چاہتی تھیں اور عالیہ بیگم سوچ سوچ کر بولیں۔ “آپ بڑی ہیں، مالک ہیں بی بی جان! اللہ آپ کا سایہ ہم پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ آپ کے ہوتے ہوئے ہمیں اپنے بارے میں سوچنے یا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی بھی آپ کو اختیار ہے اور آئندہ بھی آپ بااختیار ہوں گی۔” خوش ہو کر بی بی جان ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں، پھر جاتے جاتے بولیں، “دیکھو، سلمان احمد سب سے چھوٹا ہونے کے باعث خاصا لاپروا اور غیر ذمہ دار ہے اور میں چاہتی ہوں تم سمجھوتا کرنے کے بجائے اس میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرو۔” انہوں نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا، پھر ان کے جانے کے بعد گہری سانس لے کر پیشانی گھٹنوں پر ٹیک دی۔ پہلے مرحلے پر ہی بی بی جان بڑی خوبصورتی سے انہیں بے دخل کر گئی تھیں اور کچی عمر کے باعث عالیہ بیگم جان ہی نہ سکیں، وہ تو اس وقت اپنی محبت پا لینے کے نشے میں سرشار تھیں۔ ایک سال گزرتے پتا بھی نہیں چلا اور عالیہ بیگم ماں بن گئیں۔ انہیں عثمان کی صورت ایک خوبصورت مصروفیت ہاتھ آ گئی۔۔ بھئی عالیہ! ہمارے ایک نہیں ماشاء اللہ دو دو بچے ہیں لیکن ہم تو اس طرح ہلکان نہیں ہوئے،” بڑی بھابھی ان کے پاس آ کر سرزنش کرتیں، “تم نے تو ایک ہی بچے میں اپنا ہوش بھلا دیا ہے، ایک دو اور ہوں گے تو تم تو بالکل ہی فارغ ہو جاؤ گی۔” بھابھی نے مذاق اڑایا۔ “بس، اب میں مزید بچے نہیں پیدا کروں گی۔” اس وقت انہوں نے سرسری کہہ دیا تھا لیکن شاید اُن کے نصیب میں ہی یہی تھا کہ ابھی عثمان تین مہینے ہی کا تھا کہ سلمان احمد اس کے مستقبل کے خواب سجاتے سجاتے خود خواب ہو گئے۔ آفس سے واپسی پر ایک تیز رفتار بس نے اُن کی گاڑی کو ٹکر مار دی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ عالیہ بیگم کی دنیا اجڑ گئی۔ شاید جو خوبصورت مصروفیت ہاتھ آئی تھی، اسے نظر لگ گئی تھی کہ پھر مہینوں اس کی خبر نہیں رہی۔ انہیں یقین ہی نہیں آتا تھا کہ وہ جس نے عمر بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھیں، وہ اتنی جلدی ساتھ چھوڑ گیا۔ ایک ایک سے کہتیں: “وہ میری خاطر اپنے رواجوں سے لڑا تھا، پھر موت سے کیسے شکست کھا گیا؟” اماں، ابا اور سب بھائی شروع میں ہر دوسرے دن، پھر ہر ہفتے ان کے پاس آتے رہے۔ وہ لڑکی جسے کبھی ذرا سی سوئی چبھتی تھی تو سب بے چین ہو جاتے تھے، اس کا اتنا بڑا دُکھ سب کو تڑپائے دے رہا تھا۔ بس نہیں چلتا تھا کہ سلمان احمد کو لا کر اُن کے سامنے کھڑا کر دیں۔ عدت کی مدت ختم ہوئی تو ابا اور بڑے بھیا انہیں لینے آ گئے۔ ان کا کہنا بھی ٹھیک تھا کہ جس کی وجہ سے اس گھر سے ناتا تھا وہ ہی نہیں رہا تو اب یہاں رہنے کا کیا جواز۔ خود عالیہ بیگم کے لیے اب اس گھر میں کوئی کشش نہیں تھی اور کشش تو کہیں بھی نہیں تھی۔ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، یہاں رہیں یا وہاں۔ وہ بہت خاموشی سے مانی کی چیزیں سمیٹ رہی تھیں کہ بی بی جان آ گئیں۔ “تمہارے ابا تمہیں لینے آئے ہیں؟” پتا نہیں بی بی جان اطلاع دے رہی تھیں یا سوال کر رہی تھیں، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ خالی خالی نظروں سے دیکھا تو وہ کہنے لگیں: “ہم تمہیں جانے سے نہیں روکیں گے لیکن مانی نہیں جائے گا۔” “مانی؟” انہوں نے بے اختیار اپنے بچے کی طرف دیکھا۔ “یہ اسی گھر کا بچہ ہے، یہیں رہے گا۔” “میں اس کی ماں ہوں۔” “ہمیں اس سے انکار نہیں، اسی ناطے ہم تمہیں یہاں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں لیکن بچہ یہاں سے لے جانے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔” “آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں بی بی جان! بھلا میں اور مانی۔۔۔” “عالیہ!” بی بی جان نے فوراً ٹوکا، “یہ بات اول روز طے ہو گئی تھی اور کیا تم نے ہم سے وعدہ نہیں کیا تھا؟” “میں نے ضرور وعدہ کیا تھا اور میں اب بھی اپنے وعدے پر قائم ہوں لیکن وقت تو آنے دیجیے، مانی بڑا ہوگا تو اسی خاندان میں رشتہ جوڑے گا۔” “اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ یہی رہے، ویسے بھی یہ ہمارا خون ہے اور ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ محرومیوں میں پروان چڑھے۔” بی بی جان کا اشارہ پتا نہیں کن محرومیوں کی طرف تھا، وہ تاسف سے بولیں۔ “میں اسے کسی محرومی کا احساس نہیں ہونے دوں گی۔” “یہ تم اب کہہ رہی ہو، لیکن جب کچھ وقت گزرنے کے بعد تمہارے باپ بھائی تمہارے لیے کوئی نیا راستہ سوچیں گے، تب ہمارے بچے کو محرومیوں سے کون بچائے گا؟” “نہیں!” وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑیں۔ “ایسا ممکن ہے عالیہ بیگم! اس لیے کہ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے۔” وہ اور شدت سے رونے لگیں تو بی بی جان اُٹھ کھڑی ہوئیں اور جاتے جاتے فیصلے کا اختیار انہیں دے کر بھی ہر دو صورتوں میں جیت اپنا مقدر کر گئیں، “تمہیں اختیار ہے، جانا چاہو چلی جاؤ، ہم تمہیں نہیں روکیں گے۔ یہاں رہنا چاہو تب بھی کہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، البتہ بچہ یہیں رہے گا۔”
Complete Novel Read/Download Karne Ke Liye Neeche Di Gayi Instructions Follow Karen:
-
Google par jaakar novel ka code “Novel20812” search karein. Novel search results mein aa jayega.
-
Agar Google par na mile, to Novelistan. pk website par jaakar search bar mein sirf code “20812” likhein aur search karein.
-
Ya phir isi post mein diya gaya novel ka link open karke seedha novel read ya download kar sakte hain. 👇👇👇
https://www.google.com/search?q=novel20812&sca_esv=7edddd7e61ea4388&rlz=1C1CHBD_enPK1131PK1131&biw=1536&bih=703&sxsrf=APpeQnsLyrhBiBhxBHZn_HGLETwFk7TWFA%3A1784654289091&ei=0alfaqGYBbWC7M8P1pPiyQc&ved=0ahUKEwjhxMqno-SVAxU1AfsDHdaJOHkQ4dUDCBA&uact=5&oq=novel20812&gs_lp=Egxnd3Mtd2l6LXNlcnAiCm5vdmVsMjA4MTIyBRAAGO8FMggQABiABBiiBDIFEAAY7wUyBRAAGO8FSIINUOYGWMoKcAF4AZABAJgB5AGgAcMDqgEDMi0yuAEDyAEA-AEBmAIDoALsA8ICChAAGEcY1gQYsAPCAgQQIxgnmAMAiAYBkAYIkgcFMS4wLjKgB5AGsgcDMi0yuAfeA8IHBTItMS4yyAccgAgB&sclient=gws-wiz-serp
![]()

