Daily Roshni News

تہودہ کا خونی میدان اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا سپہ سالار (64 ہجری / 683 عیسوی)

تہودہ کا خونی میدان اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا سپہ سالار (64 ہجری / 683 عیسوی)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )64 ہجری کی ایک تپتی ہوئی دوپہر۔ کوہِ اوراس (موجودہ الجزائر) کے دامن میں واقع ‘تہودہ’ (Tahuda) کے سنگلاخ میدان میں صرف 300 شامی اور عرب سواروں پر مشتمل ایک مختصر سا عسکری دستہ پچاس ہزار سے زائد بربر اور بازنطینی جنگجوؤں کے ہولناک محاصرے میں آ چکا تھا۔

اس محصور اور موت کے منھ میں کھڑے لشکر کے عین وسط میں، ایک دراز قد، کھردرے خدوخال، اور دھوپ سے جھلسی ہوئی رنگت والا سالار زمین پر بیٹھا تھا، جس کے پاؤں میں بھاری لوہے کی بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔

یہ ‘ابو المہاجر دینار’ تھا—شمالی افریقہ کا سابق گورنر اور فاتح، جس کی شاطرانہ سفارت کاری اور تلوار نے مغربی الجزائر (تلمسان) تک اسلام کا پرچم لہرایا تھا، لیکن اب وہ اپنے ہی حریف اور سیاسی مخالف، ‘عقبہ بن نافع’، کی قید میں زنجیروں سے بندھا ہوا تھا۔

جب عقبہ بن نافع نے دیکھا کہ بربروں کا لشکر ٹڈی دل کی طرح امڈ آیا ہے اور بچنے کا کوئی راستہ نہیں، تو وہ گھوڑا دوڑا کر ابو المہاجر کے پاس آیا، بیڑیوں کی چابی آگے بڑھائی اور کہا: “اپنی زنجیریں کھول لو اور جان بچا کر نکل جاؤ، آج ہمارا آخری دن ہے!”

ابو المہاجر دینار نے چابی ہاتھ میں لی، اپنی بیڑیاں کاٹیں، لیکن میدان سے فرار ہونے کے بجائے اپنی زنگ آلود زرہ پہنی، تلوار کا قبضہ تھاما اور عقبہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: “میں نے افریقہ کی مٹی بزدلوں کی طرح بھاگنے کے لیے فتح نہیں کی تھی۔ آج میں تمہارے ساتھ اسی صف میں لڑ کر مروں گا جس صف میں تم نے مجھے ذلیل کیا تھا!”

یہ تاریخِ اسلام کے اس بے باک، مدبر اور مظلوم ترین سالار کی 100 فیصد مستند اور کڑوی داستان ہے، جس نے تلوار سے زیادہ اپنی بصیرت سے سرکش بربروں کو رام کیا، لیکن اموی دربار کی اندرونی سیاست اور اپنے ہی ہم منصب سالار کی ضد نے اسے میدانِ جنگ میں کٹ کر مرنے پر مجبور کر دیا۔

پس منظر: غلامی کی زنجیروں سے افریقہ کی سپہ سالاری تک (55 ہجری / 675 عیسوی)

ابو المہاجر دینار پیدائشی طور پر قریش یا کسی مغرور عرب شاہی قبیلے کا شہزادہ نہیں تھا، بلکہ وہ مصر اور افریقہ کے اموی گورنر، ‘مسلمہ بن مخلد الانصاری’، کا ایک آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھا۔ مؤرخین کے مطابق اس کی جڑیں قبطی (مصر) یا رومی نژاد تھیں، جس کی وجہ سے عرب اشرافیہ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔

تاہم، اس کی تربیت شامی اور مصری عسکری کیمپوں کی کٹھن زندگی میں ہوئی تھی۔ اس کا جسم کسرتی، کندھے چوڑے اور چہرہ افریقہ کی لو سے پختہ ہو چکا تھا۔ عام عرب سالاروں کے برعکس، جو صرف تلوار اور طاقت کی زبان جانتے تھے، ابو المہاجر کے پاس ایک انتہائی شاطر، ٹھنڈا اور نفسیات کو سمجھنے والا سیاسی دماغ تھا۔

55 ہجری (675 عیسوی) میں، خلیفہ معاویہ بن ابو سفیانؓ کے دور میں، جب عقبہ بن نافع کی سخت گیر عسکری پالیسیوں کے باعث افریقہ کے بربر قبائل میں بغاوتیں حد سے بڑھ گئیں، تو گورنر مصر مسلمہ بن مخلد نے عقبہ کو معزول کر کے ابو المہاجر دینار کو شمالی افریقہ (افریقیہ) کا اعلیٰ سپہ سالار اور گورنر مقرر کر کے بھیج دیا، تاکہ وہ اس خونخوار محاذ کو اپنی بصیرت سے سنبھالے۔

عروج: تکروان کا قیام، تلمسان کی مہم اور ‘کسیلہ’ کا قبولِ اسلام (55 تا 62 ہجری)

افریقہ کی کمان سنبھالتے ہی ابو المہاجر دینار نے ایک بالکل نئی اور دور اندیش ریاستی حکمتِ عملی اپنائی۔ اپنے پیشرو (عقبہ بن نافع) کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے اور بربروں کو یہ پیغام دینے کے لیے کہ اب ایک نیا نظام آ چکا ہے، اس نے عقبہ کے بنائے ہوئے شہر ‘قیروان’ کو عارضی طور پر ترک کیا اور اس سے دو میل دور ایک نئی عسکری چھاؤنی اور دارالحکومت—’تکروان’ (Takirwan)—تعمیر کیا۔

اس کے بعد ابو المہاجر نے مغربی افریقہ کی طرف ایک ایسی طوفانی اور گہری عسکری پیش قدمی شروع کی جہاں اس سے پہلے کسی عرب سالار کے قدم نہیں پہنچے تھے۔ اس کی فوجیں کوہِ اطلس کی دشوار گھاٹیوں کو چیرتی ہوئی مغربی الجزائر کے تاریخی اور قلعہ بند شہر ‘تلمسان’ (Tlemcen) تک جا پہنچیں۔

تلمسان کے قریب اس کا سامنا بربروں کی سب سے بڑی عیسائی اور عسکری طاقت، اوراس کے بادشاہ ‘کسیلہ بن لملم’ (Kusaila) کے مشترکہ رومی-بربر لشکر سے ہوا۔ ایک خونریز جنگ میں ابو المہاجر نے کسیلہ کی فوج کو شکست دی اور اس مغرور بربر بادشاہ کو میدانِ جنگ میں زندہ گرفتار کر لیا۔

یہاں ابو المہاجر دینار کے شاطرانہ دماغ نے تاریخ کا سب سے بڑا سفارتی ماسٹر اسٹروک کھیلا۔ اس نے کسیلہ کا سر کاٹنے، اسے زنجیریں پہنانے یا ذلیل کرنے کے بجائے، اسے شاہی خیمے میں اپنے برابر بٹھایا، اس کی خاندانی عزت بحال کی اور اسے اسلام کے اصول سمجھائے۔ ابو المہاجر کے اس غیر معمولی اخلاق، عدل اور عزتِ نفس دینے والی پالیسی سے کسیلہ اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے فوراً اسلام قبول کر لیا، اور اپنے ہزاروں جنگجوؤں کے ساتھ ابو المہاجر کا سب سے بڑا اتحادی اور سالار بن گیا؛ یوں افریقہ کا سب سے خطرناک دشمن اسلام کی ڈھال بن گیا۔

اندرونی سازشیں: عقبہ کی واپسی، بیڑیوں کی ذلت اور کسیلہ کی تذلیل (62 تا 63 ہجری)

ابو المہاجر کی یہ بے مثال فتوحات اور امن دمشق اور مصر کے بعض عرب امراء کو ہضم نہ ہوا۔ جب 60 ہجری میں خلیفہ معاویہؓ کا انتقال ہوا اور یزید بن معاویہ تخت پر بیٹھا (یا خلیفہ معاویہ کے آخری ایام میں ہی)، عقبہ بن نافع نے دمشق کے دربار میں اپنے سیاسی رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے دوبارہ افریقہ کی گورنری حاصل کر لی۔

عقبہ بن نافع جب 62 ہجری (682 عیسوی) میں افریقہ واپس لوٹا، تو اس کے دل میں ابو المہاجر دینار کے خلاف شدید کینہ اور غصہ بھرا ہوا تھا، کیونکہ دینار نے قیروان کو چھوڑ کر تکروان بسایا تھا اور عقبہ کے مقرر کردہ عمال کو ہٹا دیا تھا۔

افریقہ پہنچتے ہی عقبہ نے سب سے پہلا حکم یہ دیا کہ ابو المہاجر دینار کو فوراً گرفتار کر کے بھاری لوہے کی بیڑیاں پہنا دی جائیں، تکروان کو مسمار کر دیا جائے، اور دارالحکومت واپس قیروان منتقل کر دیا جائے۔

اس سے بھی بڑی اور ہولناک سیاسی غلطی عقبہ نے یہ کی کہ اس نے نو مسلم بربر بادشاہ ‘کسیلہ’ کو حقیر سمجھنا شروع کر دیا۔ نسلی غرور اور عسکری تکبر میں آ کر، عقبہ نے کسیلہ کو ذلیل کرنے کے لیے اسے اسلامی کیمپ میں بھیڑ بکریاں ذبح کرنے اور ان کی کھالیں اتارنے جیسے نچلے کاموں پر لگا دیا، جو ایک متکبر بربر بادشاہ کے لیے موت سے بھی بڑی گالی تھی۔

بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ابو المہاجر دینار نے جب یہ منظر دیکھا، تو اس نے عقبہ بن نافع کو شاہی خیمے سے چیخ کر خبردار کیا:

“عقبہ! خدا کے لیے اس بربر بادشاہ کی تذلیل بند کرو! یہ کوہستان کا مغرور شیر ہے، اس کی خاموشی بزدلی نہیں، تم ایک ایسے زہریلے سانپ کو پال رہے ہو جو ہم سب کو ڈس لے گا!”

لیکن عقبہ نے ابو المہاجر کی اس مدبرانہ اور تاریخی وارننگ کو حسد اور تکبر میں آ کر مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔

زوال اور موت: مغربی مہم، کسیلہ کا فرار اور تہودہ کا ہولناک محاصرہ (63 تا 64 ہجری)

عقبہ بن نافع نے اپنی مشہورِ زمانہ مغربی مہم کا آغاز کیا، جس میں وہ بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کے ساحلوں تک گھوڑا دوڑا کر لے گیا؛ اس طویل اور کٹھن سفر میں بھی ابو المہاجر دینار کو بیڑیوں میں جکڑ کر اونٹ پر ایک قیدی کی طرح لشکر کے ساتھ گھسیٹا گیا۔

64 ہجری (683 عیسوی) میں جب اسلامی لشکر فتوحات کے بعد واپس قیروان کی طرف لوٹ رہا تھا، تو عقبہ بن نافع نے ایک ایسی سنگین عسکری لغزش کی جس نے پورے افریقہ کی بساط الٹ دی؛ اس نے راستے میں اپنی فوج کے بڑے حصے کو آگے قیروان کی طرف بھیج دیا اور خود صرف 300 تجربہ کار اور جانثار سواروں کے ساتھ کوہِ اوراس کے قریب ‘تہودہ’ کے مقام پر رک گیا۔

دوسری طرف، کسیلہ، جو اپنے دل میں بکریوں کی کھالیں اتارنے کی ذلت کا انتقامی الاؤ سلگا رہا تھا، موقع پاتے ہی کیمپ سے فرار ہو گیا۔ اس نے راتوں رات کوہِ اوراس کے تمام بربر قبائل اور رومیوں کے باقی ماندہ دستوں کو اکٹھا کیا اور 50 ہزار کے دیوہیکل لشکر کے ساتھ عقبہ کے 300 سواروں کو تہودہ کے میدان میں چاروں طرف سے گھیر لیا۔

جب موت سامنے نظر آئی، تب عقبہ کو ابو المہاجر دینار کی وارننگ کا کڑوا سچ سمجھ آیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب عقبہ نے بیڑیاں کھولنے کی پیشکش کی اور ابو المہاجر دینار نے فرار ہونے کے بجائے تلوار اٹھائی۔

تہودہ کے میدان میں ایک قیامت خیز لڑائی ہوئی۔ ابو المہاجر دینار، عقبہ بن نافع اور ان کے 300 شامی و عرب جانثاروں نے آخری سانس، آخری تیر اور آخری تلوار ٹوٹنے تک ہزاروں بربروں کا مقابلہ کیا۔ ابو المہاجر دینار کے جسم پر درجنوں نیزے اور تلواریں لگیں، اور وہ اپنے اسی سیاسی حریف (عقبہ) کے بالکل پہلو میں، تہودہ کی سرخ مٹی پر کٹ کر شہید ہو گیا، جس نے اسے زنجیریں پہنائی تھیں۔

انجام: افریقہ کا مکمل سقوط اور دینار کی سفارتی بصیرت کی ابدی جیت (Aftermath)

ابو المہاجر دینار اور عقبہ بن نافع کی ایک ہی دن میں شہادت نے شمالی افریقہ میں اسلامی خلافت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ اس دوہرے عسکری خلا کا نتیجہ یہ نکلا کہ افریقہ کا پورا محاذ چند ہی دنوں میں مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا۔

کسیلہ نے بغیر کسی بڑی مزاحمت کے قیروان پر قبضہ کر لیا اور وہاں ایک بربر-عیسائی سلطنت قائم کر دی۔ مسلمان فوجوں کو افریقہ چھوڑ کر لیبیا (برقہ) تک پیچھے ہٹنا پڑا، اور اموی خلافت کی سالوں کی محنت اور فتوحات ریت کے گھروندے کی طرح بہہ گئیں۔

اس ہولناک شکست نے دمشق کے اموی خلیفہ اور فوجی جرنیلوں کو ایک کڑوا تاریخی سبق سکھا دیا کہ ابو المہاجر دینار بالکل ٹھیک تھا: شمالی افریقہ جیسے سرکش اور سنگلاخ خطے کو صرف تلوار اور عرب تکبر کے زور پر کبھی غلام نہیں بنایا جا سکتا۔

سالوں بعد، جب خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حسان بن النعمان اور بعد میں موسیٰ بن نصیر کو افریقہ کی دوبارہ فتح کے لیے بھیجا، تو انہوں نے عقبہ کی سخت گیر عسکری پالیسی کو مکمل طور پر دفن کر کے ابو المہاجر دینار کے اسی ‘سفارتی اور ادغام کے نظریے’ (Doctrine of Assimilation) کو اپنایا۔ انہوں نے بربر سرداروں کو عزت دی، انہیں فوج کی قیادت سونپی اور ان کے ساتھ رشتہ داریاں قائم کیں۔

ابو المہاجر دینار کی یہی وہ شہید ہونے والی سفارتی بصیرت تھی، جس کے نتیجے میں بربر قوم اسلام کی سب سے بڑی محافظ بنی، اور چند ہی دہائیوں بعد ایک بربر سالار، طارق بن زیاد، نے سمندر پار کر کے سپین (اندلس) کو فتح کر کے ابو المہاجر کے ادھورے خواب کو ابدی جلا بخشی۔

تاریخی حوالہ جات:

فتوح مصر والمغرب والاندلس (ابن عبد الحکم)

فتوح البلدان (البلاذری)

الکامل فی التاریخ (ابن الاثیر)

البیان المغرب فی اخبار الاندلس والمغرب (ابن عذاری المراکشی)

تاریخِ ابنِ خلدون (ابن خلدون)

البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)

تاریخ الطبری (ابن جریر طبری)

وفیات الاعیان (ابن خلکان).

اگر آپ سلطنت عثمانیہ کےمظلوم شہزادے مصطفی کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Şehzade Mustafa Full Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/1419307249570146

Loading