Daily Roshni News

تیل کی قیمت میں مزید اضافے کی صورت میں حکومت کا مختلف آپشنز پر غور

اسلام آباد: ایک سرکاری ذریعے کے مطابق حکومت اس امر پر غور کر رہی ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد خطے میں پھیلتے تنازع کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیسے روکا جا سکتا ہے۔ 

اس مقصد کیلئے مالی اور پالیسی نوعیت کے متعدد امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ خطہ اس وقت کشیدگی اور تنازع کی گرفت میں ہے اور یہ بھی تسلیم کیا کہ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پہلے ہی نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں، جس کے باعث حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑے، جن میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ 55 روپے فی لٹر کا اضافہ بھی شامل ہے۔

تاہم، انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو حکومت کوشش کرے گی کہ اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہ کیا جائے۔

اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ایک باخبر سرکاری ذریعے نے بتایا کہ حکومت اس امکان کا جائزہ لے رہی ہے کہ عالمی سطح پر تیل کے بل میں مزید اضافے کا کچھ حصہ خود برداشت کیا جائے تاکہ پورا بوجھ صارفین پر منتقل نہ ہو۔

ان کے مطابق، ایک امکان یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی قیمتیں مزید بڑھتی رہیں تو وفاقی ترقیاتی بجٹ کے ایک حصے کو تیل کی درآمد کے اضافی اخراجات پورے کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس اقدام سے ایسے وقت میں اندرونِ ملک ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جب مہنگائی کا دباؤ پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔

ایک اور تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رابطہ کر کے پٹرولیم سے متعلق ٹیکسوں خصوصاً پٹرولیم لیوی اور ایندھن پر عائد دیگر محصولات کے حوالے سے لچک حاصل کرنے کی درخواست کی جائے۔ حکومتی مشاورت سے واقف ذریعے نے بتایا کہ حکومت یہ موقف اختیار کر سکتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجودہ اضافہ جنگ کی وجہ سے ہوا ہے اور یہ پاکستان کے اختیار سے باہر ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکسوں میں کچھ ریلیف نہ ملا تو عالمی تیل کی قیمتوں کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل کرنا پڑے گا، جس سے پٹرول کی قیمتیں غیر معمولی سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے، ٹرانسپورٹیشن اور پیداوار کے اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہے اور اس سے پہلے ہی کمزور معیشت پر مزید دباؤ آئے گا۔ پالیسی سازوں کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر سلسلہ وار اثرات مرتب کر سکتا ہے اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لٹر 55 روپے کا جو اضافہ پہلے ہی عوام پر منتقل کیا جا چکا ہے، وہ بھی عوام کیلئے بہت زیادہ ہے۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت بخوبی آگاہ ہے کہ ایندھن کی بلند قیمتیں عام شہریوں پر کس قدر بوجھ ڈالتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک نہایت مشکل فیصلہ تھا جو دل پر پتھر رکھ کر کرنا پڑا، اگرچہ معاشی حقائق نے حکومت کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا، تاہم حکومت غریب عوام پر اس کے اثرات سے پوری طرح باخبر ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حکومت عالمی تیل منڈیوں اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے اور ساتھ ہی عوام پر پڑنے والے معاشی اثرات کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے۔

Loading