Daily Roshni News

جارج برنارڈ شا کا یہ قول انسانی رویوں اور تنگ نظری پر ایک گہرا طنز ہے۔

جارج برنارڈ شا کا یہ قول انسانی رویوں اور تنگ نظری پر ایک گہرا طنز ہے۔
​اسے معاف کر دو، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے قبیلے کی رسم و رواج ہی قدرت کے قوانین ہیں!
​مختصر وضاحت
​اس قول میں برنارڈ شا نے انسان کی اس خام خیالی کو نشانہ بنایا ہے جہاں انسان اپنے محدود ماحول اور معاشرت کو ہی کُل کائنات سمجھ لیتا ہے۔ اس کے اہم نکات یہ ہیں:
​تنگ نظری کا اظہار: بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح کا رہن سہن، لباس یا عقائد ان کے خاندان یا معاشرے میں رائج ہیں، وہی ‘فطری’ اور ‘درست’ ہیں، جبکہ باقی سب غلط ہے۔
​ثقافت بمقابلہ فطرت: ‘رسم و رواج’ انسانوں کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں جو وقت اور جگہ کے ساتھ بدل جاتے ہیں، جبکہ ‘قوانینِ قدرت’ (جیسے کشش ثقل یا موت) اٹل ہیں۔ شا طنز کر رہے ہیں کہ جاہل آدمی اپنی بنائی ہوئی روایت کو آفاقی سچائی مان لیتا ہے۔
​ہمدردی اور معافی: جملے کی شروعات “اسے معاف کر دو” سے ہوتی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایسے شخص پر غصہ کرنے کے بجائے اس کی کم علمی پر ترس کھانا چاہیے، کیونکہ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا سے باہر دیکھ ہی نہیں پا رہا۔
​خلاصہ: یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے ذہن کو کھلا رکھنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں سچائی اور زندگی گزارنے کے اور بھی بہت سے رنگ ہیں، صرف ہمارا طریقہ ہی واحد درست طریقہ نہیں ہے

Loading