جامعہ کراچی، شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس
کے زیر اہتمام معروف استاد، مصنف و مؤلف، مدیر، نثر نگار، سوانح نگار
ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری صاحب کے اعزاز میں
تعزیتی ریفرنس
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس، جامعہ کراچی میں 18 اگست، شام تین بجے منعقد ہوا جس میں شبہ کے اساتذہ، موجودہ طلبہ اور سابق طلبہ و طالبات، ہم پیشہ احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے ڈاکٹر سبزواری کی شخصیت اور ان کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر غنی الا کرم سبزواری نے 7 اگست 2026ء کو داعی اجل کو لبیک کہا۔ ان کا قیام امریکہ میں تھا، ان کی تدفین امریکہ ہی میں عمل میں آئی۔ مقررین نے کہا کہ آج ہم ایک ایسی علمی و ادبی شخصیت کی یاد میں جمع ہوئے ہیں جن کی زندگی علم، ادب، تدریس اور تحقیق سے عبارت نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر سبزواری کا انتقال محض ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ علمی وا دبی دنیا کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ سے محرومی ہے۔ وہ ایک شفیق استاد صاحب مطالعہ عالم، صاحب قلم ادیب اور اعلیٰ کردار کے حامل انسان تھے۔ انہوں نے اپنی تدریسی، تصنیفی و تالیفی اور پیشہ ورانہ زندگی میں نئی نسل کی علمی و فکری تربیت کی اور اپی تحریروں، تحقیقات اور ادبی خدمات کے ذریعے لائبریرین شب کی خدمت انجام دی۔
ایک اچھے استاد کی اصل میراث اس کی تصانیف اور اس کے شاگرد ہوتے ہیں۔ آپ نے ایسے بے شمار شاگرد چھوڑے جو آج مختلف پیشہ ورانہ اداروں میں علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ ڈاکٹر سبزواری کی شخصیت میں علم کے ساتھ حلم، شائستگی، محبت اور انسان روستی نمایاں تھی۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی، فکر میں وسعت اور کردار میں وقار تھا۔ ان کے جدا ہوجانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پُر کرنا آسان نہیں۔ ہم ان کی علمی۔ ادبی اور تدریسی خدمات کو خراج عقیدت پید کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند کرے۔ آمین
ریفرنس سے خطا ب کر تے ہوئے ڈاکٹر سبزواری کے شاگرد اور بھتیجے ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی نے ڈاکٹر سبزواری کی شخصیت اور علمی و ادبی خدمات کی تفصیل اور اپنے تعلق کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا
ڈاکٹر سبزواری سے میرا امتیاز یہ ہے کہ مَیں جب شیرخوار تھا تو انہوں نے مجھے اپنی بانہوں میں جھولایا، کھلای، کدایا، کبھی ہنسایا اور کبھی رلایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارے خاندن نے ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی تھی اور کراچی کی ایک کچی بستی بہار کالونی کو اپنا مسکن بنایا تھا، مختصر سے گھر میں کئی کئی خاندانوں نے پیار و محبت سے اچھا وقت گزارا، اُس وقت گھر مختصر لیکن لوگوں کے دل کشادہ تھے آج گھر وسیع اور عالی شان ہیں لیکن دلوں میں گنجائش ناپیدا ہوچکی ہے۔ ان کی گود کی خوشبو آج بھی میرے وجود کا خوشگوار حصہ ہے۔ مجھے کچھ سمجھ آئی تو اپنے خاندان کے بزرگوں کوان کی تعریف کرتے سنا، اکثر احباب اپنے بچوں کو ان کی نیک سیرت، محبت و لگن سے حصول علم کی مثال دیا کرتے تھے۔ میں نے گریجویشن کرنے کے بعد جامعہ کراچی میں داخلہ لیا تو آپ نے میری رہنمائی اس طرح کی کہ میں باقاعدہ ان کا شاگرد بن گیااور ان کا ہم پیشہ بھی۔ اب میری عملی زندگی کا آغاز ہوا تو آپ نے ہی مجھے تصنیف و تالیف کی جانب مائل کیا اور میں ان کی ڈگر پر چل پڑا۔2003ء میں قدرت نے میرے لیے پی ایچ ڈی کرنے کی راہ ہموار کی تو یہ مرحلہ بھی انہی کی زیر نگرانی پائے تکمیل کو پہنچا۔ مَیں تقریباً ۰۵ سال سے (اب میری عمر ۷۷سال ہے) انہیں دیکھتا، سوچتا، پڑھتا، رہنمائی لیتا اور ان سے مسحور و متاچر ہوتا چلا آرہا تھا۔ ان کا مقام ہر اعتبار سے مجھ سے بلند و بالا تھا۔ رشتہ میں وہ میرے چچا تھے طبعی عمر میں وہ مجھ سے کہیں بڑے تھے، مَیں شاگرد وہ استاد، تصانیف و تایفات اور ادبی عمر میں مجھ سے کہیں آگے۔ ان سب باتوں کے باوجود ان کی اعلیٰ ظرفی تو دیکھئے کہ اپنی آپ بیتی تحریر کی تو مجھ جیسے ادنیٰ شخص سے اظہار خیال کے لیے اصرار کیا، مَیں نے لاکھ کہا کہ یہ میرا مرتبہ ہرگز نہیں کہ اپنے استاد کی کتاب پر پیش لفظ لکھوں لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے، آخر کار میں نے اسے اپنے استاد کا حکم تصور کیا۔انہوں نے جامعہ کراچی میں ایم اے سال اول کی کلاس کے تعرفی کلاس کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دن میری زندگی کا یاد گار دن ہے۔ ہم طلبہ کالے گاؤن زیب تن کیے کشادہ کلاس میں بیٹھے تھے اور شعبہ کے صدر شعبہ ڈاکٹر عبد المعید، ڈاکٹر سید جلال الدین حیدر، ضیاء صاحب ہمارے سامنے تھے اور طلبہ سے مخاطب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سبزواری صاحب کی رحلت قیمتی نقصان ہے، ان کے بے شمار شاگرد اپنے ایک قابل استاد اور بے شمار خوبیوں کے حامل انسان سے محروم ہوگئے۔
ڈاکٹر صمدانی نے ڈاکٹر سبزواری کی تحریر کردہ سوانح کی تفصیل بتاتے ہوئے بتایا سبزواری صاحب نے اپنی آپ بیتی ”کیا بیت گئی؟ قطرہ پہ گُہر ہونے تک(تلخ و شیریں حادثات اور واقعات پر مبنی آپ بیتی)میں ایک ایسے ہی سوانح نگار ہونے کا ثبوت دیا ہے انہوں نے اپنی زندگی کے من جملہ پہلوؤں کو منطق کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے سچائی، ایمانداری اور غیر جانبداری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ آپ نے اپنی شخصیت کے حوالے سے ان واقعات اور حادثات کا ہی انتخاب کیا جو متاثر کرنے والے تھے ا ور پڑھنے والے پر مثبت اثرات رونما ہوسکتے تھے
تعزیتی اجلاس سے دیگر کے علاوہ ڈاکٹر نسرین شگفتہ، پروفیسر لیاقت علی، ڈاکٹر آمنہ خاتون کے علاوہ شعبہ کی صدر ڈاکٹر رفعت صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر سبزواری کی شخصیت اور خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر نسرین شگفتہ نے ڈاکٹر سبزواری کے جاری کردہ رسالے پاکستان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس، لائبریری پروموشن بیورو اور بزم اکرم کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی خدمات کی تفصیل بیان کیا۔ ڈاکٹر رفعت نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے نہیں معلوم مجھ میں کیا خوبی دیکھی کے وہ اپنے رسالے پاکستان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس میرے سپرد کر گئے۔ میں پوری کوشش کرونگی کہ اس رسالے کی اشاعت کو ممکن بناؤ۔ انہوں نے بتایا کہ لائبریرین شب کے بے شمار طلبہ نے اس رسالے میں اپنے مضامین کی اشاعت کو ممکن بنوایا اور اس سے انہیں ترقی کے مواقع میسر آئے۔ تعزیتی ریفرنس میں شعبہ کے طلبہ و طالبات، اساتذہ خاندان کے احباب اور شہر کراچی کے لائبریرین شب سے تعلق رکھنے والے احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
![]()

